حزب اللہ کا سخت ردعمل ، کہا : یہ مذاکرات دراصل اس پر ہتھیار ڈالنے کیلئے دباؤبنانے کا بہانہ ہیں۔ جنوبی لبنان میں جھڑپ ، ایک اسرائیلی فوجی ہلاک۔
بیروت میں اسرائیلی فضائیہ کے حملے میں تباہ ہونے والی عمارت کے ملبے سے لوگ سامان نکالتے ہوئے۔ پی ٹی آئی
واشنگٹن میں منگل سے اسرائیل اور لبنان کے درمیان براہِ راست مذاکرات شروع ہوگئے جس میں اہم علاقائی اور سیکوریٹی امور پر بات چیت کی جائے گی۔ امریکی محکمۂ خارجہ کے مطابق مذاکرات میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو بھی شریک ہوں گے جبکہ لبنان کیلئے امریکی سفیر بھی وفد کا حصہ ہوں گے۔ تاہم حزب اللہ نے اس پرسخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے مذاکرات کواس پر ہتھیار ڈالنے کیلئے دباؤ ڈالنے کا بہانہ قرار دیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق اسرائیلی وفد کی قیادت یخیل لیٹر کریں گے جبکہ لبنانی وفد کی سربراہی ندا حماہ کریں گی۔ مذاکرات میں اسرائیل کی شمالی سرحد کی سیکوریٹی اور لبنان کی خودمختاری جیسے اہم نکات زیر بحث آئیں گے۔
امریکی حکام کا موقف ہے کہ اسرائیل کی جنگ لبنان سے نہیں بلکہ حزب اللہ سے ہے۔ دوسری جانب جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے جنوبی لبنان میں لڑائی ختم کرنے اور براہِ راست مذاکرات شروع کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انھوں نے فلسطینی علاقوں کی صورت حال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مغربی کنارے کے جزوی الحاق کی بھی مخالفت کی۔ جرمن چانسلر کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کیلئے جرمنی کا کردار جنگ بندی اور سازگار حالات سے مشروط ہوگا۔
ادھر حزب اللہ نے اسرائیل کے ساتھ ان مذاکرات کو مسترد کر دیا ہے۔ تنظیم کے سیکریٹری جنرل نعیم قاسم کا کہنا ہے کہ یہ مذاکرات دراصل حزب اللہ پر ہتھیار ڈالنے کیلئے دباؤ بنانے کا بہانہ ہیں۔ پیر کو ٹی وی پر نشر ہونے والی تقریر میں انھوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ مجوزہ مذاکرات میں شرکت نہ کر کے تاریخی اور جرأت مندانہ موقف اختیار کرے۔ نعیم قاسم نے کہاکہ اسرائیل واضح طور پر کہتا ہے کہ ان مذاکرات کا مقصد حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا ہے، جیسا کہ نیتن یاہو نے بارہا کہا ہے تو آپ ایسے مذاکرات میں کیسے جا سکتے ہیں جس کا مقصد پہلے ہی واضح ہو؟
برطانیہ کے وزیراعظم کیر اسٹارمر نے لبنان پر اسرائیلی حملوں کو بند کرنے اور لبنان کو مشرقِ وسطیٰ کی جنگ بندی میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔دریں اثناءلبنان کے محاذ پر جاری شدید لڑائی اور کشیدگی کے درمیان اسرائیلی فوج نے اعتراف کیا ہے کہ جنوبی لبنان میں جھڑپوں کے دوران اس کا ایک فوجی ہلاک اور ۳؍ دیگر زخمی ہو گئے ہیں۔ یہ جانی نقصان ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب اسرائیل کی جانب سے لبنان کے مختلف علاقوں پر وحشیانہ فضائی حملوں اور عسکری جارحیت کا سلسلہ پوری شدت کے ساتھ جاری ہے۔