Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایران جنگ کاا ثر، اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ

Updated: April 15, 2026, 11:30 AM IST | Agency | Mumbai

خوردنی تیل ۷؍فیصد مہنگا ہوگیا، صابن اور بسکٹ کے پیکٹ چھوٹے ہوگئے، واشنگ مشین، فریج اور ایل ای ڈی کی قیمتیں ۱۵؍ فیصد تک بڑھ گئیں۔

Prices of daily necessities have also been affected due to the Iran War and the rise in crude oil prices.Photo:INN
ایران جنگ اور خام تیل کی مہنگائی کی بنا پر روز مرہ کے استعمال کی اشیاء کی قیمتیں بھی متاثر ہوئی ہیں-تصویر:آئی این این
امریکہ اوراسرائیل کے ذریعہ ایران پر تھوپی گئی قیمت پوری دنیا چکا رہی ہے۔ ہندوستانی بازاروں میں بھی اس کا واضح اثر نظر آنے لگا ہے اور اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔ باورچی خانے سے لے کر کپڑوں اور گھریلو آلات تک، ہر چیز یا تو مہنگی ہو گئی  ہے یا ان کی قیمتیں بڑھنے کا اندیشہ بڑھ گیا ہے۔
خوردنی تیل ۷؍ فیصد مہنگا
خام تیل کی بڑھتی قیمتوں نے ایک ساتھ کئی محاذوں پر دباؤ ڈالا ہے۔ ای وائی انڈیا کے تجزیہ کے مطابق یہ اثر اگلے ۲؍ سال تک برقرار رہ سکتا ہے۔ خوردنی تیل کی قیمتیں۷؍فیصد سے زیادہ بڑھ چکی ہیں۔ ہندوستان اپنی ضرورت کا۵۷؍ فیصد خوردنی تیل درآمد کرتا ہے، جن میں پام آئل، سویا بین اور سورج مکھی کا تیل شامل ہے۔
روز مرہ کے استعمال کی چیزوں پر اثر
دوسری پیکیجنگ ،نقل و حمل اور خام مال کی لاگت بڑھنے سے صابن، پیسٹ اور بسکٹ جیسی  روز مرہ استعمال کی مصنوعات جنہیں معاشی زبان میں  (ایف ایم سی جی، فاسٹ مووِنگ کنزیومر گُڈس) کہا جاتا ہے، کو بنانے والی کمپنیاں بھی لاگت میں  اضافہ سے پریشان ہیں۔ یہ کمپنیاں قیمتیں بڑھائیں گی یا پیکٹ چھوٹے کریں گی۔ اسے’’شرنک فلیشن‘‘ کہا جاتا ہے۔ پینٹ، ٹیکسٹائل اور ذاتی نگہداشت کی مصنوعات بنانے والی کمپنیاں بھی لاگت میں اضافے کا حوالہ دے کر قیمتیں بڑھانے کی تیاری کر رہی ہیں۔
شیمپو اور صابن بھی مستثنیٰ نہیں
مغربی ایشیا کے بحران کے دوران ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات ناکام ہونے کی  وجہ سے خام تیل کی سپلائی مزید متاثر ہوئی ہے۔ اس کے نتیجے میں پیر کو خام تیل کی قیمتیں۸؍فیصد سے زیادہ بڑھ کر۱۰۴؍ ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر  گئیں ۔ اس سے سرفیکٹینٹس اور پیٹرو کیمیکل ڈیری ویٹیوز کی قلت ہو گئی۔ نتیجتاً  باعث شیمپو اور صابن جیسے مصنوعات کی فراہمی متاثر ہوئی ہے۔ اس صورتحال میں کمپنیاں قیمتیں بڑھانے سے بچنےکیلئے پیکٹ چھوٹے کر رہی ہیں۔
 
 
گھریلو آلات ۱۰؍ تا۱۵؍ فیصد مہنگے
گھریلو آلات کی تیاری کی لاگت بھی ۱۰؍ سے ۱۵؍فیصد تک بڑھ چکی ہے جس کا۷۰؍ فیصد کمپنیاں پہلے ہی صارفین پر منتقل کر چکی ہیں۔ واشنگ مشین، فریج، پنکھے اور ایل ای ڈی سب کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔ شدید گرمی کے خدشے کے باعث وولٹاس اور بلیو اسٹار جیسی اے سی بنانے والی کمپنیوں کے شیئرس میں اضافہ ہو رہا ہے کیونکہ ان کی فروخت میں تیزی آنے کی توقع ہے۔
 
 
کپڑا اور پینٹ ۵؍ فیصد مہنگا ہوگا
خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ سے پلاسٹک کی پیداوار کی لاگت تقریباً۵۰؍ فیصد بڑھ گئی ہے۔ ٹیکسٹائل سیکٹر میں پالیسٹر، نائیلون اور رنگ میں استعمال ہونے والے کیمیکل۲۰؍تا۲۵؍ مہنگے ہو گئے ہیں۔اس کی وجہ سے اندازہ ہے کہ سال ۲۷-۲۶ء میں کپڑے اور پینٹ کی قیمتیں۲؍ سے۵؍ فیصد تک بڑھ سکتی ہیں۔ 

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK