Inquilab Logo Happiest Places to Work

انکم ٹیکس محکمہ کے ملازمین کا احتجاج کا انتباہ

Updated: April 15, 2026, 11:37 AM IST | Agency | New Delhi

مرکزی حکومت کو مکتوب روانہ کیا، زیر التواء مطالبات پورے کرنے کی مانگ۔

Income Tax Bhavan.Photo:INN
انکم ٹیکس بھون۔ تصویر:آئی این این
انکم ٹیکس محکمہ کے ملازمین نے مرکزی حکومت کو خط لکھ کر خبردار کیا ہے کہ اگر ان کے’’طویل عرصے سے زیر التوا‘‘ مسائل کو حل  اور کام کی’’غیر یقینی‘‘ نوعیت کو ختم نہ کیا گیا تو وہ۱۶؍ اپریل سے مرحلہ وار احتجاج شروع کریں گے۔ جوائنٹ کونسل ایکشن ( جے سی اے) کی جانب سے لکھا گیا یہ مکتوب وزارت خزانہ کے تحت  آنے والے ریونیو سیکریٹری کو بھیجا گیا ہے۔ جے سی آر میں محکمہ انکم ٹیکس  کے ملازمین کی۲؍ بڑی  تنظیمیں ’انکم ٹیکس ایمپلائز فیڈریشن‘(آئی ٹی ای ایف) اور انکم ٹیکس گزٹیڈ آفیسرز اسوسی ایشن (آئی ٹی جی  او اے) شامل ہیں۔اس لئے اگر احتجاج ہوتا ہے تو محکمہ کا کام کاج بری طرح متاثر ہوگا۔ 
آئی ٹی ای ایف اورآئی ٹی جی  او اے   محکمہ انکم ٹیکس  کے ان ملازمین کی  تقریباً۹۷؍ فیصد افرادی قوت کی نمائندگی کرتے ہیں جو حکومت کیلئے  انکم ٹیکس  شعبے میں آمدنی  اکٹھا کرنے کا براہ راست کام کرتے ہیں۔ انڈین ریونیو سروس  کے افسران کی نمائندگی کرنےوالی ایک تیسری تنظیم  بھی ہے۔ مذکورہ افسران مختلف شعبہ جات کے سربراہ کے طور پر ذمہ داریاں نبھاتے ہیں۔ 
۶؍ اپریل کو لکھے گئے خط میں جے سی اے  نے دس نکاتی زیر التوا مسائل کی تفصیل پیش کی  ہے اور  سنٹرل بورڈ آف ڈائریکٹ ٹیکسز  پر انہیں حل کرنے میں’’مسلسل بے حسی‘‘ کے مظاہرہ  کا الزام عائد کیا ہے۔واضح رہے کہ سی بی ڈی ٹی ہی  انکم ٹیکس محکمہ کی پالیسی بناتا ہے۔
 
 
۷؍ مرحلوں پر مشتمل احتجاج  کا منصوبہ
تنظیم نے متنبہ کیا ہے کہ اگر مسائل کو مقررہ مدت میں حل نہ کیا گیا تو ۷؍ مرحلوں پر مشتمل احتجاجی پروگرام شروع کیا جائے گاجس کا آغاز ۱۶؍ اپریل کو محکمہ کے تمام دفاتر میں دوپہر کے وقفے کے دوران مظاہرے سے ہوگا۔بعد میں احتجاج میں شدت لائی جائے گی، جس میں سیاہ بیج پہننا اور شماریاتی رپورٹس جمع نہ کرانا شامل ہوگا اور بالآخر۱۳؍مئی کو دن بھر کی  مکمل ہڑتال کی جائے گی۔ تنظیم نے انسپکٹر، آفس سپرنٹنڈنٹ اور ٹیکس اسسٹنٹ کے عہدوں پر تقرری کے مسائل کو بھی اپنا موضوع بنایا ہے۔
 
 
 انکم ٹیکس ملازمین کےمسائل 
 جوائنٹ کونسل ایکشن نے اپنے مسائل کو مختصراً یوں بیان کیا ہے کہ ’’ترقی کے مواقع میں رکاوٹ، ترقیوں کے کم امکانات، غیر معقول سالانہ تبادلے،  سروس کے غیرمستحکم اور غیر یقینی حالات، کام کا غیر ضروری  دباؤ، غیر حقیقت پسندانہ اہداف اور افرادی قوت  اور بنیادی ڈھانچے کی شدید کمی نے ہمارے ارکان کو انتہائی مشکل صورتحال میں پہنچا دیا ہے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK