امریکہ کی جانب سے ایران پر ممکنہ حملے کے خدشے کے پیش نظر اسرائیل نے ملک بھر میں ہائی الرٹ برقرار رکھا ہوا ہے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق کسی بھی امریکی کارروائی کی صورت میں ایران کی جانب سے اسرائیل پر جوابی حملے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
EPAPER
Updated: January 26, 2026, 8:47 PM IST | Jerusalem
امریکہ کی جانب سے ایران پر ممکنہ حملے کے خدشے کے پیش نظر اسرائیل نے ملک بھر میں ہائی الرٹ برقرار رکھا ہوا ہے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق کسی بھی امریکی کارروائی کی صورت میں ایران کی جانب سے اسرائیل پر جوابی حملے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق، ایران پر ممکنہ امریکی حملے کے خدشے کے پیش نظر اور تہران کی جانب سے جوابی کارروائی کے اندیشوں کے باعث اسرائیل نے پیرکو بھی زیادہ سے زیادہ الرٹ کی حالت برقرار رکھی۔ سرکاری نشریاتی ادارے’کے اے این ‘ نے بتایا کہ اسرائیل ایک ہفتے سے زائد عرصے سے’’زیادہ سے زیادہ الرٹ‘‘ پر ہے، کیونکہ ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائی کا امکان موجود ہے۔ چینل ۱۲؍ کے مطابق شمالی کمان کے سربراہ میجر جنرل رافی میلو نے کہا، ’’تہران کسی بھی امریکی حملے کے جواب میں اسرائیل کو نشانہ بنانے کی کوشش کر سکتا ہے۔ ‘‘انہوں نے مزید کہا، ’’امریکی افواج (خلیجِ فارس) کے علاقے میں تعینات ہیں ، تاہم، آئندہ اقدامات کے بارے میں مکمل وضاحت موجود نہیں ہے۔ ‘‘گزشتہ ماہ ایران بھر میں حکومت مخالف احتجاج شروع ہونے کے بعد سے واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق طیارہ بردار بحری جہاز’’ یو ایس ایس ابراہم لنکن‘‘اور اس کے ساتھ تین جنگی بحری جہاز جمعے کو بحرِ ہند میں پہنچے اور ایران پر ممکنہ امریکی حملے کی تیاری کے سلسلے میں خلیجِ عمان کی جانب روانہ ہوئے۔ سنیچر کو امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ان خبروں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ایک امریکی ’بحری بیڑا‘ مشرقِ وسطیٰ کی جانب بڑھ رہا ہے اور واشنگٹن ایران کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ امریکی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ تہران سے نمٹنےکیلئے تمام آپشنز، بشمول فوجی کارروائی، زیرِ غور ہیں ، کیونکہ امریکہ اور اسرائیل ایران کے موجودہ حکومتی نظام میں تبدیلی کے خواہاں ہیں۔ ایرانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی امریکی حملے کے جواب میں ’’تیز اور ہمہ گیر‘‘ ردعمل دیا جائے گا۔
یاد رہے کہ گزشتہ سال جون میں اسرائیل نے امریکی حمایت کے ساتھ ایران کے خلاف۱۲؍ روزہ جنگ شروع کی تھی، جس کے جواب میں تہران نے ڈرون اور میزائل حملے کئے، بعد ازاں واشنگٹن نے جنگ بندی کا اعلان کیا۔ اسرائیل اور ایران ایک دوسرے کو اپنا بنیادی حریف سمجھتے ہیں اور برسوں سے ایک دوسرے پر تخریبی کارروائیوں اور سائبر حملوں کے الزامات لگاتے آ رہے ہیں۔ اسرائیل، امریکہ اور دیگر ممالک ایران پر جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کا الزام لگاتے ہیں ، جبکہ تہران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پُرامن مقاصد کیلئےہے، جن میں بجلی کی پیداوار بھی شامل ہے۔ عام طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ اسرائیل خطے کا واحد ملک ہے جس کے پاس جوہری ہتھیار موجود ہیں ، تاہم اس نے کبھی باضابطہ طور پر اس کی تصدیق نہیں کی اور وہ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے معائنوں کے دائرہ کار میں بھی نہیں آتا۔