• Mon, 26 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

بنگلہ دیش: ہندوستانی میں شیخ حسینہ کو عوامی خطاب کی اجازت، ڈھاکہ کی حکومت حیران

Updated: January 26, 2026, 6:08 PM IST | Dhaka

۲۰۲۴ءکی عوامی بغاوت کے بعد معزول ہونے والی بنگلہ دیش کی سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ کے ہندوستان میں عوامی خطاب پر ڈھاکہ کی عبوری حکومت نے سخت ردِعمل ظاہر کیا ہے۔ بنگلہ دیش نے اس اقدام کو دوطرفہ تعلقات کیلئے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے شدید حیرت اور تشویش کا اظہار کیا ہے۔

Sheikh Hasina. Photo: INN.
شیخ حسینہ۔ تصویر: آئی این این۔

۲۰۲۴ءکی بغاوت کے بعد ملک چھوڑنے والی بنگلہ دیش کی معزول وزیرِ اعظم شیخ حسینہ کی جانب سے پہلی بار عوام سے خطاب کے ایک دن بعد، بنگلہ دیش کی عبوری حکومت نے اس پر اعتراض اٹھایا اور حیرت کا اظہار کیا ہے۔ بنگلہ دیش نے کہا کہ وہ اس بات پر’’’حیران‘‘ اور’’شدید صدمے‘‘میں ہے کہ ہندوستان حکام نے اس تقریب کی اجازت کیسے دی۔ ڈھاکہ نے ہندوستان سے شیخ حسینہ کی حوالگی (Extradition) کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ ہندوستانی حکومت کا کہنا ہے کہ شیخ حسینہ کا ہندوستان میں قیام ان کا ذاتی فیصلہ ہے اور وہ جب تک چاہیں یہاں رہ سکتی ہیں۔ شیخ حسینہ اگست۲۰۲۴ء سے ہندوستان میں مقیم ہیں، جب وہ طلبہ کی بڑے پیمانے پر ہونے والی احتجاجی تحریک کے نتیجے میں اپنی حکومت کے خاتمے کے بعد بنگلہ دیش سے فرار ہو گئی تھیں۔ 

یہ بھی پڑھئے:میانمار میں فوج حامی جماعت کی انتخابی جیت، نئی حکومت بنانے کا دعویٰ

بنگلہ دیشی حکومت نے کیا کہا؟
ایک بیان میں بنگلہ دیش کی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ اس تقریر نے حکومت اور عوام دونوں کو شدید غصے میں مبتلا کر دیا ہے اور شیخ حسینہ کو عوامی خطاب کی اجازت دینا دونوں ممالک کے تعلقات کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ بیان میں کہا گیا: ’’بنگلہ دیش کی حکومت اور عوام حیران اور صدمے میں ہیں۔ ہندوستانی دارالحکومت میں اس تقریب کی اجازت دینا اور ایک اجتماعی قاتل شیخ حسینہ کو کھلے عام نفرت انگیز تقریر کرنے کا موقع فراہم کرنا۔ بنگلہ دیش کے عوام اور حکومت کی کھلی توہین کے مترادف ہے۔ ‘وزارتِ خارجہ کے مطابق، اس تقریر کی اجازت دینے سے ’ایک خطرناک مثال‘قائم ہوئی ہے جو “دوطرفہ تعلقات کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔ ‘‘ڈھاک کی ایک عدالت نے شیخ حسینہ کو غیر موجودگی میں مجرم قرار دیتے ہوئے سزائے موت سنائی ہے۔ ان پر اشتعال دلانے، قتل کے احکامات جاری کرنے اور مظالم کو روکنے میں ناکامی سمیت متعدد الزامات عائد کئے گئے تھے۔ 

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل کا رفح بارڈر محدود طور پر کھولنے کا اعلان، یرغمالوں کی بازیابی شرط

شیخ حسینہ کی پہلی عوامی تقریر
ایک اہم عوامی خطاب میں، جو بنگلہ دیش میں انتخابات سے چند ہفتے قبل ہوا، شیخ حسینہ نے کہا کہ جب تک محمد یونس کی قیادت میں عبوری حکومت اقتدار میں ہے، ملک میں آزاد اور منصفانہ انتخابات ممکن نہیں۔ جمعہ کو دہلی کے فارن کرسپانڈنٹس کلب آف ساؤتھ ایشیا میں موجود سامعین کو ایک آڈیو پیغام کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے، شیخ حسینہ نے یونس کی قیادت والی حکومت پر سخت تنقید کی اور اسے ’’غیر قانونی‘‘ قرار دیا، جو ان کے مطابق بنگلہ دیش کو ’افراتفری‘ میں دھکیل چکی ہے اور جمہوریت کو کچل رہی ہے۔ انہوں نے کہا:’’جب تک یونس ٹولے کا سایہ بنگلہ دیش کے عوام پر موجود ہے، ملک میں کبھی آزاد اور منصفانہ انتخابات نہیں ہو سکتے۔ ‘‘اگست ۲۰۲۴ءمیں ۱۵؍سالہ اقتدار کے خاتمے کے بعد معزول ہونے والی شیخ حسینہ نے’غیر قانونی یونس انتظامیہ کو ہٹا کر جمہوریت کی بحالی‘ کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا:’’بابائے قوم بنگ بندھو شیخ مجیب الرحمن کی قیادت میں عظیم تحریکِ آزادی کے ذریعے حاصل کیا گیا وطن آج انتہاپسند فرقہ وارانہ قوتوں اور غیر ملکی عناصر کے وحشیانہ حملوں سے تباہ ہو چکا ہے۔ ‘‘شیخ حسینہ نے محمد یونس کو ذاتی طور پر نشانہ بناتے ہوئے ان پر بدعنوانی اور غداری کے الزامات عائد کئے اور انہیں ’بدعنوان، اقتدار کے بھوکے غدار‘قرار دیا، جنہوں نےاپنے خود غرض نظریات کے ذریعے قوم کو خون میں نہلا دیا اور مادرِ وطن کی روح کو داغدار کر دیا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK