اسرائیل نے غزہ میں سرگرم عالمی طبی تنظیم ڈاکٹرس ودآؤٹ بارڈرز کو ۲۸؍ فروری تک علاقہ چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔ تنظیم نے عملے کی فہرست فراہم کرنے سے انکار کیا تھا، جسے وہ فلسطینی اور بین الاقوامی اسٹاف کی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے رہی ہے۔
EPAPER
Updated: February 02, 2026, 10:03 PM IST | Tal Aviv
اسرائیل نے غزہ میں سرگرم عالمی طبی تنظیم ڈاکٹرس ودآؤٹ بارڈرز کو ۲۸؍ فروری تک علاقہ چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔ تنظیم نے عملے کی فہرست فراہم کرنے سے انکار کیا تھا، جسے وہ فلسطینی اور بین الاقوامی اسٹاف کی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے رہی ہے۔
یکم فروری کو اسرائیل نے عالمی طبی امدادی تنظیم ڈاکٹرس ودآؤٹ بارڈرز (ایم ایس ایف) کو حکم دیا ہے کہ وہ ۲۸؍ فروری تک غزہ چھوڑ دے۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب تنظیم نے اسرائیلی حکام کو اپنے مقامی اور بین الاقوامی عملے کی مکمل فہرست فراہم کرنے سے انکار کر دیا۔ ڈاکٹرس ودآؤٹ بارڈرز کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں عملے کے نام اور تفصیلات فراہم کرنا شدید خطرات کا باعث بن سکتا ہے۔ تنظیم کے مطابق، کسی بھی قسم کی سلامتی کی واضح ضمانت کے بغیر اس نوعیت کی معلومات شیئر کرنا فلسطینی اور غیر ملکی طبی کارکنوں کی جانوں کو براہِ راست خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ایم ایس ایف نے واضح کیا ہے کہ غزہ میں پہلے ہی طبی نظام مکمل طور پر تباہی کے دہانے پر ہے۔ اسپتال محدود وسائل کے ساتھ کام کر رہے ہیں، ادویات کی شدید قلت ہے اور ہزاروں زخمی اور بیمار افراد فوری علاج کے منتظر ہیں۔ ایسے حالات میں ایک بڑی بین الاقوامی طبی تنظیم کو علاقے سے نکالنا انسانی بحران کو مزید گہرا کر دے گا۔
یہ بھی پڑھئے: گریمی ۲۰۲۶ء: بلی ایلش، ٹیڈ بنی، جسٹن بیبر سمیت کئی فنکاروں کی ٹرمپ پر تنقید
تنظیم کے مطابق، اگر ایم ایس ایف کو غزہ چھوڑنے پر مجبور کیا گیا تو اس کے نتیجے میں درجنوں فیلڈ اسپتال اور موبائل کلینکس بند ہو جائیں گے، جس سے ہزاروں مریض بنیادی طبی سہولیات سے محروم ہو سکتے ہیں۔ ایم ایس ایف کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا براہِ راست مطلب کم ڈاکٹر، کم دوائیں اور زیادہ اموات ہے۔ انسانی حقوق کے ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی فعال جنگی علاقے میں طبی امدادی اداروں پر دباؤ ڈالنا بین الاقوامی انسانی قانون کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے۔ عالمی قوانین کے تحت طبی عملے اور امدادی تنظیموں کو غیر جانبدار حیثیت کے ساتھ کام کرنے کا حق حاصل ہے، خاص طور پر ایسے علاقوں میں جہاں شہری آبادی شدید خطرے میں ہو۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل نے تقریباً ۲؍سال کے بعد غزہ رفح کراسنگ کوتجرباتی طور پر دوبارہ کھول دیا
غزہ میں جاری جنگ اور مسلسل حملوں کے باعث صحت کا نظام پہلے ہی مفلوج ہو چکا ہے۔ بجلی، صاف پانی، ایندھن اور طبی سازوسامان کی قلت نے اسپتالوں کو عملی طور پر ناکارہ بنا دیا ہے۔ ایسے ماحول میں ایم ایس ایف جیسی تنظیموں کو زندگی بچانے کی آخری امید سمجھا جاتا ہے۔ ڈاکٹرس ودآؤٹ بارڈرز نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ غزہ میں طبی عملے کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے فوری مداخلت کرے۔ تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ اگر طبی امدادی اداروں کو کام کرنے سے روکا گیا تو اس کے نتائج انسانی المیے کی صورت میں سامنے آئیں گے، جس کی ذمہ داری بین الاقوامی سطح پر طے کی جائے گی۔ یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب غزہ کو پہلے ہی ایک ایسے مرحلے پر پہنچا دیا گیا ہے جہاں انسانی نظام مکمل طور پر ٹوٹ چکا ہے، اور ہر نیا فیصلہ ہزاروں جانوں کے مستقبل پر اثر انداز ہو رہا ہے۔