Inquilab Logo Happiest Places to Work

غزہ تباہی کے دہانے پر، سلامتی کونسل اسرائیل حماس جنگ پر بحث کیلئے تیار

Updated: October 16, 2023, 2:24 PM IST | Jerusalem

اس دوران حماس نے کہا ہے کہ اس نے فلسطینیوں کو نشانہ بنانے جانے پر یروشلم اور تل ابیب پر میزائل داغے ہیں۔ روس نے ’’فوری جنگ بندی‘‘ کا اپنا مطالبہ دہرایا ہے۔ عرب لیگ کا مطالبہ ہے کہ اسرائیل فوری طور پر غزہ میں فوجی آپریشن بند کرے۔ اسرائیل، فلسطینیوں کی نسل کشی کررہا ہے۔ یو این ڈبلیو آر اے کے کمشنر جنرل لازارینی نے غزہ پٹی کے حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے کہا کہ غزہ تباہی کے دہانے پر ہے اور دنیا سے انسانیت مکمل طور پر ختم ہو گئی ہے۔ غزہ میں لاشوں کا انبار ہے اور باڈی بیگز (لاشوں کو رکھنے والا تھیلا) کی قلت۔

Palestinians are sitting on the Rafah border between Egypt and Palestine. Photo: PTI
مصر اور فلسطین کی سرحد رفح پر فلسطینی بیٹھے ہوئے ہیں۔ تصویر: پی ٹی آئی

اسرائیل حماس کی جنگ ۱۰؍ویں دن میں داخل۔ اسرائیلی حملے میں ۲؍ہزار ۷۵۰؍ فلسطینی جاں بحق ہوئے ہیں جبکہ ۹؍ہزار ۷۰۰؍ بری طرح زخمی ہیں۔ رفح سرحد پر فلسطینیوں کی بھیڑ اکٹھا ہوگئی ہے۔ یہ افراد مصر کو محفوظ پناہ گاہ تسلیم کرتے ہوئے یہیں رہائش اختیار کرنے پر مُصر ہیں۔

فلسطینی، عمارتوں کے ملبے سے گزرتے ہوئے۔ تصویر: پی ٹی آئی

حماس کا یروشلم اور تل ابیب پر حملہ
حماس نے کہا ہے کہ اس نے یروشلم اور تل ابیب پر میزائلیں داغی ہیں۔ القسام بریگیڈز نے ایک بیان میں کہا ہے کہ حماس نے یہ حملہ اسرائیل کی جانب سے ’’شہریوں کو نشانہ بنانے‘‘ کے جواب میں کیا گیا ہے۔قبل ازیں، اسرائیلی فوج نے اسرائیل کے سب سے بڑے شہروں تل ابیب اور یروشلم میں سائرن بجنے کی تصدیق کی تھی، جبکہ قانون سازی کا سرمائی اجلاس شروع ہونے والے پارلیمنٹ کے اجلاس میں راکٹ کے الارم کی وجہ سے خلل پڑا تھا۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اسرائیل حماس جنگ پر بحث کرے گی
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے کہا کہ وہ اسرائیل اور حماس کی جنگ پر بات چیت کرے گی کیونکہ اسرائیل غزہ میں زمینی حملے کی تیاری کر رہا ہے۔کونسل رات ۱۰؍ بجے (ہندوستانی وقت کے مطابق صبح ساڑھے ۳؍ بجے) اس مسئلے پر بات کرے گی۔ سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ دو مسابقتی مسودہ قراردادوں پر تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے: ایک روس کی طرف سے جنگ بندی اور غزہ میں انسانی امداد کی فراہمی پر زور دیا گیا ہے، لیکن حماس کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا ہے، اور ایک برازیل کی طرف سے اسپانسر ہے جو ۷؍اکتوبر کو حماس کے حملوں کو ایک مذمتی فعل قرار دیتا ہے جس نے جنگ کو جنم دیا۔فلسطینی پناہ گزینوں کی مدد کرنے والی اقوام متحدہ کی ایجنسی نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیلی حکام کی جانب سے پانی اور دیگر ضروری سامان کی فراہمی بحال نہ کی گئی تو غزہ کو ’’شدید انسانی تباہی‘‘ کا سامنا کرنا پڑے گا۔روس کی قرارداد کے مسودے میں ’’بلا رکاوٹ‘‘ انسانی امداد اور فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ برازیلی ورژن یہ کہتے ہوئے مختلف ہے کہ وہ ’’حماس کے حملوں کو مسترد اور اس کی مذمت کرتا ہے۔‘‘

روس کا ’’فوری جنگ بندی‘‘ کے مطالبے کا اعادہ
روس نے اسرائیل فلسطین تنازع میں ’’فوری جنگ بندی‘‘ کے مطالبات کی تجدید کی ہے، اور لیڈران پر زور دیا ہے کہ وہ دشمنی کے خاتمے کیلئے مذاکرات شروع کریں۔کریملن کے معاون یوری اوشاکوف کے حوالے سے انٹرفیکس نیوز ایجنسی نے کہا کہ ’’اس ماحول میں اب اہم چیز فوری طور پر جنگ بندی اور سیاسی تصفیے کا عمل شروع کرنا ہے۔‘‘

پوتن اسرائیلی، ایرانی، اور عرب لیڈروںسے بات کریں گے: مشیر
کریملن کے خارجہ پالیسی کے مشیر یوری اوشاکوف نے بتایا کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو، فلسطینی لیڈرمحمود عباس اور مصری صدر عبدالفتاح السیسی سے بات کریں گے۔

اسرائیل، غزہ میں فوجی آپریشن بند کرے: عرب لیگ کا مطالبہ
عرب لیگ کے سربراہ نے غزہ میں فوجی آپریشن بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور الزام لگایا ہے کہ انکلیو کا محاصرہ فلسطینیوں کو ان کی انسانیت سے محروم کر رہا ہے۔ سیکریٹری جنرل احمد ابو الغیط نے بغداد میں عرب وزرائے انصاف کے اجلاس کے دوران کہا کہ ’’ہم فوری طور پر فوجی کارروائیوں کے خاتمے اور آبادی تک امداد پہنچانے کیلئے محفوظ راہداریوں کو کھولنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل کا غزہ کا مکمل محاصرہ جس نے پانی، خوراک، بجلی اور ایندھن کو منقطع کر دیا ہے، ’’فلسطینیوں کیلئے انسانیت ختم کرنے جیسا اور ان کی نسل کشی کی راہ ہموار کرنے جیسا ہے۔‘‘

فلسطینی پناہ گزینوں کیلئے اقوام متحدہ کے ادارے نے خبردار کیا ہے کہ حماس اور اسرائیل میں جاری جنگ کے دوران غزہ ’’تباہی کے دہانے‘‘پر ہے اور وہاں اب باڈی بیگز (لاشوں کو رکھنے والے تھیلے) کی بھی قلت ہے۔ اس حوالے سے اقوام متحدہ کی فلسطینی پناہ گزینوں کو حفاظت فراہم کرنے والی ایجنسی (یو این ڈبلیو آر اے) کے کمشنر جنرل لازارینی نے غزہ پٹی کے حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ میں آپ سے گفتگو کر رہا ہوں، غزہ میں پانی اور بجلی کی شدید قلت ہے۔ یوں لگ رہا ہے کہ غزہ کا گلہ گھونٹا جا رہا ہے اور پوری دنیا انسانیت کھو چکی ہے۔ غزہ میں باڈی بیگز کی بھی کمی ہے اور خاندان کے خاندان تباہ کر دیئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے مشرقی یروشلم میں یو این آر ڈبلیو اے کے ہیڈ کوارٹرس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کے ساتھی اب غزہ کے لوگوں کو مزید انسانی امداد پہنچانے کے قابل نہیں ہیں۔

 
 
 
 
View this post on Instagram
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by United Nations (@unitednations)


انہوں نے مزید کہا کہ ہماری اسکولوں اور یو این آر ڈبلیو اے کی دیگر سہولیات میں شیلٹرز لینے والے افراد کی تعداد زبردست ہے اور ہمارے پاس ان سے نمٹنے کیلئے مزید گنجائش باقی نہیں ہے۔ یہاں تک کہ غیر معمولی انسانی تباہی ہماری آنکھوں کے سامنے ہے۔غزہ پٹی پر یو این آر ڈبلیو اے کے آپریشنز اقوام متحدہ کا سب سے بڑا نقش قدم ہےاور ہم تباہی کے دہانے پر ہیں۔ واقعی یہ حالات غیر معمولی ہیں۔ حماس، جس نے ۷؍ اکتوبر کو اسرائیل پر حملے کئے تھے، کو نشانہ بنانے کیلئے متوقع زمینی حملہ کیلئے اسرائیلی فوجی غزہ پٹی پر تعینات ہیں۔ متوقع زمینی حملہ سے پہلے اسرائیل نے غزہ پٹی کی ایک ملین سے زائد آبادی کو شمالی غزہ کو چھوڑ کر  جنوب کی جانب ہجرت کرنے کا الٹی میٹم دیا تھا جو اتوار کو ختم ہو گیا ہے۔ یو این آر ڈبلیو اے کی اسکولوں اور عمارتوں میں ہونے والی مشکلات کی تفصیل بتاتے ہوئے لازارینی نے کہا کہ حفظان صحت کے حالات خوفناک ہیں۔ ہمارے پاس ہمارے لاجسٹک بیس کی رپورٹیں ہیں جس میں مثال کے طور پر، کچھ مقامات پر سیکڑوں افراد ایک ہی غسل خانہ استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔ جب تک ہم غزہ میں انسانی امداد فراہم نہیں کریں گے تب تک یو این آر ڈبلیو اے اور انسانی خدمات فراہم کرنے والے ملازمین غزہ میں انسانی آپریشنز جاری رکھنے کے قابل نہیں رہیں گے۔ اتوار کو او سی ایچ اے نے بتایا تھا کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ میں بجلی اور ایندھن کی سپلائے بند کرنے کے بعد مکمل الیکٹرسٹی بلیک آؤٹ ہے۔ فی الحال، بیک اپ جنریٹرز کے ذریعے ضروری خدمات فراہم کی جا رہی ہیں۔ اسپتالوں کو ایندھن فراہم کرنے کے ذخائر کی ۲۴؍ گھنٹوں سے زیادہ رہنے کی توقع نہیں ہے اور بیک اپ جنریٹرز کے شٹ ڈاؤن نے سیکڑوں افراد کی زندگی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ پراسرائیل کا زمینی حملہ نسل کشی کا باعث بنےگا

غزہ میں اسپتالوں کی حالت کے حوالے سے ای سی آر سی نے بھی متنبہ کیا ہے کہ غزہ میں بجلی کے بغیر اسپتالوں کے مردہ خانے میں تبدیل ہونے کے خدشات ہیں۔ ۱۳؍ اکتوبر سے اب تک ۱۴۴؍ تعلیمی ادارے، جن میں ۲۰؍ اسکولیں یو این آر ڈبلیو اے کی ہیں، اسرائیل کے فضائی حملے کا نشانہ بن چکی ہیں۔ فضائی حملہ کا نشانہ بننے والی ۲؍ اسکولوں کو بے گھر افراد کیلئے ایمرجنسی شیلٹرز کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔ اسرائیل کے فضائی حملے میں فلسطینی حکام کی ۱۶۵؍ اسکولیں نشانہ بنی ہیں جن میں سے ایک اسکول مکمل طورپر تباہ ہو چکی ہے۔ لازارینی نے مزید کہا کہ غزہ میں پانی اور زندگیاں ختم ہو رہی ہیں۔ یہاں تک کہ یہاں کھانے اور دواؤں کی بھی شدید قلت ہے۔  ۸؍ دنوں سے اب تک پانی کی ایک بوند، چاول کا ایک دانہ اور ایک بھی لیٹر ایندھن کو غزہ پٹی میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے۔


اقوام متحدہ نے کہا کہ ۱۴؍ اکتوبر کی دوپہر تک غزہ کے تقریباً ۶؍ لاکھ افراد نے جنوب کی جانب ہجرت کی تھی جن میں ۳؍ لاکھ افراد نے یو این آر ڈبلیو اے کے ڈی ای ایس اور کچھ نے عوامی سہولیات جبکہ کچھ نے اپنے رشتہ داروں کے یہاں پناہ لی ہے۔

اقوام متحدہ نے غزہ پٹی سے ہجرت کرنے والے افراد کی تعداد کے تعلق سے کہا کہ بے گھر ہونے والے افراد کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ عدم تحفظ اور لوگوں کی مسلسل ہجرت کی وجہ سے شمالی غزہ اور غزہ شہر میں بے گھر ہونے والے افراد کی تعداد نہیں معلوم ہو سکی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK