Inquilab Logo Happiest Places to Work

’غزہ پراسرائیل کا زمینی حملہ نسل کشی کا باعث بنےگا‘

Updated: October 16, 2023, 10:11 AM IST | Agency | Gaza

عرب لیگ کا انتباہ مگر تل ابیب ہٹ دھرمی پر آمادہ، غزہ کی سرحد پر سیکڑوں ٹینک تعینات، محاصرہ میں شدت، عوام فاقہ کشی کے دہانے پر پہنچ گئے۔

A person taking an injured child to the hospital. Photo: AP/PTI
  ایک شخص ایک زخمی بچے کو اسپتال لے جاتے ہوئے۔ تصویر: اے پی / پی ٹی آئی

۹؍دنوں کی مسلسل بمباری کے بعد اسرائیل کسی بھی وقت غزہ پر زمینی حملہ کرسکتاہے۔اس کیلئے جہاں غزہ کی سرحد پر سیکڑوں ٹینک تعینات کردیئے گئے ہیں وہیں اسرائیلی کابینہ کی ہنگامی میٹنگ کےبعد وزیراعظم نیتن یاہو نے ایک بار پر حما س کو ختم کرنے کی دھمکی دی ہے۔ حماس کے خلاف کارروائی کے نام پر غزہ میں عام شہریوں پر مظالم کے پہاڑ توڑنے کی وجہ سے شدید تنقیدوں کے باوجود تل ابیب اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ اس بیچ عرب لیگ اور افریقی یونین کے سربراہوں نے ایک مشترکہ بیان میں متنبہ کیا ہے کہ غزہ پر اسرائیل کا منصوبہ بند زمینی حملہ فلسطینیوں کی غیر معمولی نسل کشی کا باعث بنےگا۔ دونوں  تنظیموں کے سربراہان نے اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے اس ’’عظیم سانحہ‘‘ کو وقوع پزیر ہونے سے پہلے ہی روکنے کے اقدامات کی اپیل کی ہے۔ عالمی برادری سے اپیل کی گئی ہے کہ اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے، اسرائیل کو اس کی حرکتوں سے روکا جائے۔ 
اُدھرفلسطین کے شہر غزہ  پر اسرائیل کی چوطرفہ یلغار اتوار کو مسلسل ۹؍ ویں دن جاری رہی۔ ایک طرف جہاں فضائی حملے ہورہےہیں وہیں زمینی حملے کی تیاری بھی کرلی گئی  ہے۔  حماس کے حملے میں بےبس اور پسپاہونے کے بعد اسرائیل سفاکی  کی انتہا کو پہنچ رہا ہے ۔ وہ مسلسل  عام شہریوں کو نشانہ بنارہا ہے۔ غزہ میں عوام کو جہاں بموں کا سامنا ہے وہیں  بھوک اور پانی کی قلت انہیں فاقہ کشی کے دہانے پر پہنچا رہی ہے۔ اقوام متحدہ کے ریلیف ورک کے ذمہ دار نے غزہ میں مزید ہزاروں  اموات کا اندیشہ ظاہر کیا ہے۔ 
 فلسطینیوں کو شمالی غزہ خالی کرنے کیلئے اسرائیل نے جو الٹی میٹم دیا تھا وہ اتوار کو ختم ہوگیا۔ ذرائع کے مطابق اسرائیل  نے  غزہ پر زمینی حملے کی تیاری کرلی ہے ۔ غزہ میں داخل ہونےکیلئے  اسرائیل کے ہزاروں ٹینک سرحد پرتعینات ہیں اور فوج کے احکامات کےمنتظر ہیں۔اسرائیل کی طرف سے غزہ میں زمینی آپریشن شروع کرنے کے امکانات کے بعد ہزاروں فلسطینی غزہ چھوڑ کر جا نے پر مجبور  ہیں۔ اس سے قبل اسرائیلی فوج کے ایک ترجمان نے کہا تھاکہ غزہ چھوڑنے والوں کو تین گھنٹوں کے لئے ایک محفوظ راستہ دیا جائے گا۔ تاہم ان شہریوں کو ہر صورت میں مقامی وقت کے مطابق صبح ۱۰؍ بجے سے لے کر دوپہر ایک بجے تک سرحد پار کرنی ہو گی۔ یہ راستہ بیت حنون سے خان یونس کی طرف جاتا ہے۔ ترجمان کے مطابق ان تین گھنٹوں کے دوران اسرائیلی فوج یہاں سے گزرنے والوں پر بمباری نہیں کرے گی۔
عالمی ادارہ صحت نے انخلا کے حکم کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسپتال خالی کرنے جیسے احکامات مریضوں  کیلئے سزائے موت ہیں۔اقوام متحدہ کےسیکریٹری جنرل انتونیو غطریس نے کہا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی بمباری اور ناکہ بندی کے دوران شہریوں تک خوراک، ایندھن اور پانی جیسی اشیائے ضروریہ پہنچانے کی اجازت دی جائے۔
 اس سے قبل اسرائیل نے سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں جنوبی غزہ پٹی میں واقع رفح کے واحد اسپتال کو خالی کرنے کاحکم دیا ہے۔اسرائیلی فوج نے فلسطینی علاقے کے شمال میں رہنے والے تمام افراد کو اپنا گھر بار چھوڑ کر جنوب کی طرف جانے کا حکم دیا، لیکن اس نے فضائی حملوں کے ذریعے پٹی کے جنوب میں اہداف کو نشانہ بنانا بھی جاری رکھا۔اتنا ہی نہیں اس نے مغربی کنارہ میں بھی اپنی کارروائی بڑھادی ہے۔وہاں بھی سیکڑوں ہلاکتیں ہوئی ہیں۔  

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK