اسرائیل کی پارلیمنٹ نے خود کو تحلیل کرنے کا بل پہلی ریڈنگ میں منظور کرلیا،اس میں ۸؍ ستمبر سے ۲۰؍ اکتوبر کے درمیان انتخاب بھی شامل ہے، اس بل کے حق میں ۱۲۰؍ میں سے ۱۰۶؍ اراکین نے ووٹ دیا، جبکہ کسی نے بھی مخالفت میں ووٹ نہیں دیا۔
EPAPER
Updated: June 03, 2026, 5:03 PM IST | Tel Aviv
اسرائیل کی پارلیمنٹ نے خود کو تحلیل کرنے کا بل پہلی ریڈنگ میں منظور کرلیا،اس میں ۸؍ ستمبر سے ۲۰؍ اکتوبر کے درمیان انتخاب بھی شامل ہے، اس بل کے حق میں ۱۲۰؍ میں سے ۱۰۶؍ اراکین نے ووٹ دیا، جبکہ کسی نے بھی مخالفت میں ووٹ نہیں دیا۔
اسرائیل کی پارلیمنٹ (کنیسٹ) نے پیر کی دیر رات خود کو تحلیل کرنے کے بل کی پہلی ریڈنگ میں منظور کر لیا۔اسرائیل کے چینل۱۲؍ کے مطابق، ۱۲۰؍ اراکین میں سے۱۰۶؍ نے بل کے حق میں ووٹ دیا، جبکہ کسی نے بھی مخالفت میں ووٹ نہیں دیا۔اسرائیلی نیوز ویب سائٹ’’ وللا‘‘ کے مطابق، بل میں ستمبر۸؍ سے اکتوبر۲۰؍ کے درمیان ممکنہ الیکشن کا وقت شامل ہے۔ بعد ازاں الٹرا آرتھوڈوکس شاس پارٹی۱۵؍ ستمبر کو انتخابات کرانے پر زور دے رہی ہے، جبکہ وزیر اعظم نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی اسے مدت پوری ہونے تک موخر کرنے کی خواہاں ہے۔
یہ بھی پڑھئے: نیپال کے وزیر اعظم کے بیان پر ہنگامے کے بعد ہندوستان کا رد عمل
واضح رہے کہ اسرائیل میں قانون ساز انتخابات اصل میں۲۷؍ اکتوبر کو ہونے تھے، لیکن حکومت کی جانب سے الٹرا آرتھوڈوکس یہودیوں کو فوجی خدمت سے استثنیٰ دینے والا قانون منظور نہ کر پانے کی وجہ سے قبل از وقت انتخابات کا دباؤ بڑھ گیا ہے۔اسرائیلی قانون کے تحت، بل کو قانون بننے کے لیے تینوں ریڈنگ میں منظور کروانا ضروری ہیں۔دریں اثناء’’ وللا‘‘ نے بتایا کہ پہلی ریڈنگ کی منظوری کے بعد بل دوبارہ کنیسٹ کمیٹی کے پاس جائے گا، جہاں اسے دوسری اور تیسری ریڈنگ کے لیے تیار کیا جائے گا اور انتخابات کی تاریخ طے کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ: ۳۰؍غیر قانونی ہندوستانی ٹرک ڈرائیور وں کی ملک بدری جلد
یاد رہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے خلاف بد عنوانی کا مقدمہ چل رہا ہے،جس کے نتیجے میں نیتن یاہو کے سر پر گرفتاری کی تلوار لٹک رہی ہے، اس کے علاوہ یاہو کے استعفے کا مطالبہ بھی بڑھتا جارہا ہے، جس سے بچنے کیلئے یاہو نے مختلف جنگی محاذ کھول رکھے ہیں، تاکہ ہنگامی صورتحال کا جواز پیش کرکے گرفتاری سے بچ سکے۔اس کے علاوہ نیتن یاہو کے خلاف عوام کا ایک بڑا طبقہ سراپا احتجاج ہے۔ ان تمام باتوں کے پیش نظر نیتن یاہو کی پارٹی کا انتخاب کو موخر کرنے کا مطالبہ اسی ڈر کا نتیجہ ہے۔