Inquilab Logo Happiest Places to Work

نیپال کے وزیر اعظم کے بیان پر ہنگامے کے بعد ہندوستان کا رد عمل

Updated: June 03, 2026, 12:17 PM IST | Agency | Kathmandu

بالین شاہ نے کہا تھا ’’ صرف ہندوستان نیپال کی زمین پر قبضہ نہیں کر رہا ہے بلکہ نیپال نے بھی ہندوستان کی کچھ زمین پر قبضہ کیا ہے۔‘‘

Nepalese Prime Minister Balin Shah.Photo:INN
نیپالی وزیر اعظم بالین شاہ- تصویر:آئی این این
نیپال کے وزیراعظم بالین شاہ کےاس بیان پر سیاسی اور سفارتی حلقوں میں ہنگامہ برپا ہوگیا کہ نیپال نے ہندوستان کی کچھ زمین پر قبضہ کر رکھا ہے۔ ایک طرف جہاں نیپال کے اپوزیشن نے بالین شاہ سے استعفے کا مطالبہ کیا ہے وہیں اب ہندوستان نے بھی اب بیان جاری کیا ہے۔ 
 
 
اطلاع کے مطابق اتوار کو نیپالی پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے بالین شاہ نے کہا تھا کہ ’وزیراعظم بننے کے بعد مجھے معلوم ہوا کہ صرف ہندوستان ہی نیپال کی زمین پر قبضہ نہیں کر رہا ہے بلکہ نیپال نے بھی کئی مقامات پر انڈیا کی زمین پر قبضہ کیا ہے۔‘انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم نے ہندوستان اور چین سے ہی نہیں بلکہ برطانوی حکومت سے بھی بات کی ہے۔ ہمارا ماننا ہے کہ برطانیہ کو بھی اس معاملے میں دلچسپی لینی چاہئے  کیونکہ اس مسئلے کا تعلق اس دور سے ہے جب برٹش حکمران ہندوستان کا یہ علاقہ چھوڑ کر گئے تھے۔‘دراصل شرم شکتی پارٹی کے رکن پارلیمان آرین رائے نے ہند ۔ نیپال سرحدی تنازع پر ایوان میں سوال کیا تھا جس کے جواب میں نیپالی وزیر اعظم نے یہ بیان دیا تھا۔
خیال رہے کہ گزشتہ سال نیپال میں ’جین زی‘( نوجوانوں کی) حکومت مخالف تحریک کے بعد اس سال ۵؍مارچ کو ہونے والے انتخابات میں بالین شاہ کی پارٹی آر ایس پی نے کامیابی حاصل کرکے حکومت بنائی تھی۔ ہندوستان کو  امید تھی کہ ان کے اقتدار میں آنے سے دونوں ممالک کے تعلقات میں گرمجوشی آئے گی لیکن ان کی طرف سے ایسی کوئی گرمجوشی نہیں دکھائی گئی۔
 
 
منگل کو نیپال کے ہندوستانی وزارت خارجہ نے بالین شاہ کے بیان پر  جاری کیا جس میں کہا گیا کہ’’ہم نے نیپال کے وزیرِ اعظم کی جانب سے ہند۔ نیپال سرحد کے حوالے سے کئے گئے تبصروں اور نیپال کی وزارت خارجہ کے بیان کو دیکھا ہے۔ہند۔نیپال سرحد کا تقریباً ۹۸؍ فیصد حصہ پہلے ہی متعین کیا جا چکا ہے۔ تاہم کچھ حصوں میں چند مسائل تاحال حل طلب ہیں۔ یہ صورت حال دریائے گنڈک کے بہاؤ میں تبدیلی کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔‘نئی دہلی کے مطابق ’سرحد پار دراندازی اور بعض متعین علاقوں میں نو مینس لینڈ پر قبضوں کے معاملات بھی موجود ہیں، جن کی اس وقت مشترکہ نقشہ بندی کی جا رہی ہے۔‘بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ’ ’ہم نے سرحد سے متعلق تمام مسائل کے حل کیلئے دوطرفہ طریقہ کار قائم کر رکھے ہیں۔’ متعلقہ فریقین کیلئے یہ بات واضح ہونی چاہئے کہ ہندوستان اور نیپال کے درمیان تمام دوطرفہ معاملات صرف ان دونوں ممالک کے درمیان ہی حل کئے جائیں گے، اور ایسے معاملات میں کسی تیسرے فریق کا کوئی کردار نہیں ہے۔‘‘

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK