Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسرائیل نے مسلسل تیسرے سال غزہ کے مسلمانوں کیلئے حج پر پابندی لگا دی

Updated: May 26, 2026, 1:58 PM IST | Jerusalem

حنان الحمس سمیت ہزاروں فلسطینی غزہ کی جنگ اور سرحدی پابندیوں کے باعث حج کی سعادت سے محروم ہو گئے ہیں۔ اسرائیلی ناکہ بندی اور جنگی حالات نے نہ صرف مذہبی سفر بلکہ غزہ کے پورے حج و عمرہ نظام کو بھی شدید بحران سے دوچار کر دیا ہے۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

حنان الحمس اُن تین ہزار فلسطینیوں میں شامل تھیں جو۲۰۲۴ء میں سالانہ حج کی ادائیگی کیلئے مکہ مکرمہ جانے والی تھیں، لیکن ۷؍ اکتوبر۲۰۲۳ء کو غزہ پر اسرائیلی جنگ کے آغاز نے اُن کا عمر بھر کا خواب چکنا چور کر دیا۔ ۶۵؍سالہ حنان الحمس نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’میں نے اپنا بیٹا کھو دیا، میرا گھر تباہ ہو گیا، اور اب میں اُس سفر سے بھی محروم ہوں جس کا میں نے دہائیوں تک انتظار کیا تھا۔ ‘‘ وہ شمالی غزہ میں اپنے تباہ شدہ گھر کے ملبے پر قائم ایک عارضی خیمے میں بیٹھی تھیں۔ جنگ سے پہلے بھی غزہ میں داخلے اور خروج کا اختیار اسرائیل کے ہاتھ میں تھا۔ فروری میں رفح بارڈر کراسنگ، جو بیرونی دنیا سے غزہ کا واحد زمینی رابطہ ہے، جزوی طور پر کھولی گئی، مگر صرف اُن مریضوں کیلئے جو بیرونِ ملک علاج کے محتاج تھے۔ 

یہ بھی پڑھئے: حج کی تیاریاں سعودی عرب کے’ ویژن۲۰۳۰ء‘ کی عکاس ہیں

حج، تعلیم یا روزگار سمیت دیگر کسی بھی مقصد کیلئے غزہ سے باہر نکلنا تقریباً ناممکن ہو چکا ہے، کیونکہ۲۰۰۷ءسے اسرائیل نے زمینی، فضائی اور بحری ناکہ بندی کر رکھی ہے۔ غزہ کی۲۳؍ لاکھ آبادی کی اکثریت اب بھی بے گھر ہے اور خیموں یا تباہ شدہ گھروں میں زندگی گزار رہی ہے۔ اسرائیلی افواج نے محصور علاقے کو کھنڈر میں تبدیل کر دیا ہے اور جاری جنگ میں کم از کم۷۲؍ ہزار۷۷۵؍ فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جس پر دنیا بھر سے مذمت سامنے آئی ہے۔ اکتوبر۲۰۲۵ء میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیل نے اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھیں اور غزہ کے۶۰؍ فیصد سے زیادہ علاقے پر قبضہ برقرار رکھا، جو جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: ۱۶؍ لاکھ عازمین ، ۴۷؍ ڈگری درجہ ٔ حرارت ، مگر جوش عبادت کم نہیں

غزہ بھر میں حج کے موسم کے آغاز پر غم و اندوہ کے مناظر دیکھے جا رہے ہیں۔ عدنان ابو فول اور اُن کی اہلیہ اُم ابراہیم موبائل فون پر خانہ کعبہ کا طواف کرتے حجاج کو دیکھ کر آبدیدہ ہو گئے۔ عدنان ابو فول نے کہا، ’’جنگ ختم ہو گئی تھی اور ہمیں امید تھی کہ ہم حج کریں گے، مگر تین سال سے میں غزہ سے باہر نہیں جا سکا۔ ‘‘غزہ کی وزارتِ اوقاف و مذہبی امور کے مطابق، رفح کراسنگ کی اسرائیلی بندش کے باعث گزشتہ تین برسوں میں ۱۰؍ ہزار سے زائد شہری حج کی ادائیگی سے محروم رہے۔ وزارت کے مطابق، کم از کم۷۱؍ایسے عازمینِ حج اسرائیلی جنگ کے دوران انتقال کر گئے جو گزشتہ برسوں میں سرکاری قرعہ اندازی میں کامیاب ہوئے تھے مگر حج ادا نہ کر سکے۔ 

یہ بھی پڑھئے: عرب اور اسلامی ممالک نے یروشلم میں صومالی لینڈ کے سفارتخانہ کھولنے کی مذمت کی

معاشی تباہی
غزہ کے حجاج کی محرومی صرف سرحدی بندش تک محدود نہیں بلکہ اس نے مذہبی سیاحت کے پورے شعبے کو تباہ کر دیا ہے۔ مئی۲۰۲۶ءمیں فلسطینی مرکز برائے سیاسی مطالعات (PCPS) کی شائع کردہ ایک تحقیق، جسے محقق خالد ابو عامر نے تحریر کیا، میں اسرائیلی کارروائیوں کو غزہ کے حج و عمرہ سیکٹر کے خلاف’’ساختی معاشی نسل کشی‘‘قرار دیا گیا ہے۔ تحقیق کے مطابق، اس شعبے کی تمام۷۸؍ لائسنس یافتہ ٹریول کمپنیاں مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں۔ غزہ میں حج و عمرہ کمپنیوں کی اسوسی ایشن کے سربراہ محمد الاسطل کے مطابق، بیشتر دفاتر جنگ میں تباہ یا شدید متاثر ہوئے۔ اس تباہی کے نتیجے میں ۴۰؍ لاکھ ڈالر سے زائد کا سرمایہ ضائع ہوا، جبکہ سعودی عرب اور مصر میں ایئرلائنز اور ہوٹلوں کے پاس ۲۰؍سے۳۰؍ لاکھ ڈالر کی رقوم منجمد ہو گئیں۔ جنگ سے قبل یہ شعبہ سالانہ کم از کم ایک کروڑ ۲۰؍لاکھ ڈالر مقامی معیشت میں شامل کرتا تھا۔ اس آمدنی کے خاتمے نے۱۵۰۰؍سے زائد براہِ راست اور بالواسطہ کارکنوں کے روزگار کو متاثر کیا۔ مقامی حج منتظم محمد عبدالباری اپنے دفتر کے ملبے کے سامنے کھڑے ہو کر اُن دنوں کو یاد کرتے ہیں جب وہ ۲۰؍ بسوں کے قافلے کے ساتھ عظیم الوداعی تقریبات منعقد کرتے تھے، جو اب صرف یاد بن چکی ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: سعودی عرب: خطے میں جنگی اثرات کے باوجود ۲۰۲۵ء سے زیادہ عازمین حج کی آمد

اجتماعی سزا
پی سی پی ایس کی رپورٹ کے مطابق، اس شعبے کو بار بار نشانہ بنانا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ تباہی حادثاتی نہیں بلکہ ایک دانستہ پالیسی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ منظم تباہی ’’اجتماعی سزا‘‘ کے زمرے میں آتی ہے، جو چوتھے جنیوا کنونشن کے آرٹیکل ۳۳؍کے تحت سختی سے ممنوع ہے۔ مزید یہ کہ اسرائیلی کنٹرول والے راستوں سے شہریوں کو مذہبی سفر سے روکنا مذہبی آزادی اور نقل و حرکت کے حقوق کی خلاف ورزی ہے، جو بین الاقوامی عہدنامہ برائے شہری و سیاسی حقوق کے آرٹیکل ۱۸؍اور۱۲؍ کے تحت محفوظ ہیں۔ یہ چوتھے جنیوا کنونشن کے آرٹیکل۵۳؍ کی بھی خلاف ورزی ہے، جو شہری املاک کی تباہی پر پابندی عائد کرتا ہے۔ ناکابندی کے باعث غزہ کیلئےمختص تقریباً تین ہزار حجاج کا کوٹہ اس وقت مصر اور دیگر ممالک میں مقیم غزہ شناختی کارڈ رکھنے والے فلسطینیوں سے پُر کیا جا رہا ہے۔ ہزاروں نشستیں عارضی طور پر مقبوضہ مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم کے عازمین کو منتقل کر دی گئی ہیں، اس وعدے کے ساتھ کہ آئندہ برسوں میں غزہ کو یہ تعداد واپس دی جائے گی۔ 

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ اور پوتن کے بعد شہباز شریف چین کے دورے پر

فی الحال غزہ کے ہزاروں بزرگ اور بیمار افراد محصور ہیں اور مدھم ہوتی امیدوں کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ وزارتِ اوقاف میں حج و عمرہ کے ڈائریکٹر جنرل رامی ابو ستیحہ نے کہا، ’’ہم حج سیزن کا انتظام نہیں کر سکے کیونکہ ہمیں یہ یقین دہانی نہیں ملی کہ سرحد کھولی جائے گی۔ رہائش اور ٹرانسپورٹ کیلئے ابتدائی اور پیچیدہ معاہدے درکار ہوتے ہیں، جو ان حالات میں ممکن نہیں۔ ‘‘وزارت نے عالمی برادری، سعودی عرب اور مصر سے فوری مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ مذہبی فریضے کو سیاسی معاملات سے الگ رکھا جائے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK