Inquilab Logo

اسرائیل: جنگی کابینہ تحلیل، الیکشن کا مطالبہ، عوام سڑکوں پر اُترے

Updated: June 19, 2024, 10:38 AM IST | Tal Aviv

یرغمالوں  کی فوری رہائی کی مانگ، مظاہرین پارلیمنٹ تک پہنچ گئے، ۹؍ گرفتار، کئی زخمی، مظاہروں  کے خلاف طاقت کے استعمال کے باوجود احتجاج میں  شدت کا امکان۔

Israeli people can be seen protesting against Netanyahu in Jerusalem. Photo: INN.
یروشلم میں  نیتن یاہوکے خلاف اسرائیلی عوام کا احتجاج دیکھا جاسکتاہے۔ تصویر: آئی این این۔

اپنا اقتدار بچانے کیلئے گزشتہ ۸؍ مہینوں سے غزہ پر مسلسل بمباری کرنے والے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی مشکلیں  بڑھنے لگی ہیں۔ غزہ جنگ کیلئے تشکیل دی گئی ۶؍ رکنی جنگی کابینہ سے یکے بعددیگرے ۲؍ اراکین کے استعفیٰ  کے بعد نیتن یاہو کو جہاں  مذکورہ کابینہ کو تحلیل کرنا پڑا وہیں عوامی سطح پر انہیں   شدید احتجاج اور برہمی کا بھی سامنا ہے۔ جنگی کابینہ تحلیل کئے جانے کے بعد دسیوں  ہزار اسرائیلی شہریوں  نے تل ابیب نیتن یاہو کےا ستعفیٰ اور ملک میں  نئے سرے سے الیکشن کا مطالبہ کرتے ہوئے زبردست احتجاج کیا۔ مظاہرین یرغمالوں  کی فوری رہائی کا بھی مطالبہ کررہے تھے۔ وہ وزیراعظم کی رہائش گاہ تک پہنچ گئے جنہیں روکنے کیلئے نیتن یاہو حکومت کو طاقت کا استعمال کرنا پڑا۔ اس دوران کئی مظاہرین زخمی ہوئے اور کم از کم ۸؍ کو گرفتار کیاگیا۔ حکومت بھلے ہی بزور طاقت مظاہرین کو روکنے کی کوشش کررہی ہے مگر آنے والے دنوں  میں  احتجاج میں  شدت کا امکان ہے۔ مظاہرین غزہ میں  جنگ بندی اور یرغمالوں  کی فوری رہائی کا مطالبہ بھی کررہے تھے۔ 
جنگی کابینہ میں اختلافات تحلیل کا سبب بنا
غزہ میں جنگ کو طویل تر کرتے چلے جانے اور کوئی کامیابی حاصل نہ ہونے کی وجہ سے جنگی کابینہ میں اختلافات بڑھنے لگے تھے۔ اس کی وجہ سے بینی گانٹز سمیت جنگی کابینہ کے۲؍ اراکین نے ہفتے بھر میں  استعفیٰ دے دیا۔ بینی گانٹز نے پہلے ہی دھمکی دی تھی کہ وہ۸؍ جون کے بعد جنگی کابینہ کا حصہ نہیں رہیں گے۔ تب سے نتن یاہو کی حکومت جنگی و سیاسی دونوں اعتبار سے مشکلات میں گھر رہی ہے۔ 
نیتن یاہو کا اپنے وزیر دفاع یوآف گیلنٹ کے ساتھ اختلاف بھی شدید تر ہو چکا ہے اور وزیر اعظم کے دفتر نے وزیر دفاع کو بے شرم اور احمق جیسے القابات سے نوازا ہے۔ دوسری جانب نتن یاہو کے انتہا پسند اتحادیوں نے حکومت کا حصہ رہتے ہوئے بھی حکومت کو خراب کرنے اور بالآخر حکومت چھوڑ دینے کی دھمکیاں دے رکھی ہیں۔ اس تناظر میں نتن یاہو کو پیر کے روز اپنی جنگی کابینہ ہی تحلیل کردینے کا اعلان کرنا پڑا ہے۔ حماس نے اسے اپنی کامیابی سے تعبیرکیا ہے۔ اس کے رکن عزت الرشق نے کہا کہ القسام بریگیڈ کی قیادت میں مزاحمت نے صہیونی جنگی کونسل کو ختم کر دیا جو۸؍ ماہ قبل مزاحمت کو ختم کرنے کے لیے تشکیل دی گئی تھی۔ 
یروشلم میں عوام کا شدید احتجاج
پیر کی رات دسیوں  ہزار اسرائیلی شہری سڑکوں  پر اترے۔ انہوں  نے ملک میں  فوراً الیکشن کا مطالبہ کرتے ہوئے نیتن یاہو سے استعفیٰ دینے کی مانگ کی۔ مظاہرین سیکوریٹی کے بندوبست کے باوجود اسرائیلی پارلیمنٹ ’کنیسیٹ‘ تک پہنچ گئے جنہیں  روکنے کیلئے سیکوریٹی فورسیز کو طاقت کا استعمال کرنا پڑا۔ اس دوران ۸؍ مظاہرین کو گرفتار کیاگیا اور کئی زخمی ہوگئے۔ مظاہرین میں  وہ لوگ بھی شامل تھے جن کے اہل خانہ کو ۷؍ اکتوبر کو حماس نے یرغمال بنالیاتھا۔ اسرائیلی حملوں  میں   ۳۷؍ ہزار سے زائد فلسطینیوں  کی موت کے باوجود اسرائیلی فورسیز یرغمالوں  کو رہا کرانے میں  ناکام ہیں جس کی وجہ سے یرغمالوں   کے اہل خانہ میں  شدید غم وغصہ ہے اورنیتن یاہو حکومت سے ان کا بھروسہ اٹھنے لگا ہے۔ مذکورہ افراد کا مطالبہ ہے کہ اسرائیل غزہ میں  جنگ بندی کر کے یرغمالوں  کی رہائی کروائے۔ 
اسرائیلی فوج اور انٹیلی جنس کو ۷؍ اکتوبر کے حملے کا علم تھا
اس بیچ ایک خفیہ دستاویز سے انکشاف ہوا ہے کہ اسرائیلی فوج اور انٹیلی جنس کو ۷؍ اکتوبر کے حماس کے حملے کے بارے میں پہلے ہی علم تھا۔ اسرائیلی براڈکاسٹنگ کارپوریشن کی طرف سے نشر کردہ رپورٹ کے مطابق دستاویز میں کہا گیا ہے کہ انٹیلی جنس کی اعلیٰ ترین سطح کو حملے سے قبل اس کی کچھ تفصیلات کا علم تھا۔ 
فلسطین میں  ۳۷؍ ہزار سے زائد شہید
اس بیچ اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ کے وسط میں واقع نصرت پناہ گزین کیمپ پر رات بھر فضائی بمباری میں ۲۵؍ افراد شہید ہوگئے۔ اس کے ساتھ ہی فلسطین میں  اسرائیلی حملوں   میں  شہید ہونے والوں  کی تعداد منگل کو ۳۷؍ ہزار سے تجاوز کرگئی۔ پیر اور منگل کی درمیانی شب اسرائیلی فوج نے نصرت اور بوریج پناہ گزین کیمپوں، غزہ شہر، دیر البلاح اور رفح پر حملے کیے۔ ان حملوں میں ۲۵؍ سے زائد افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے۔ اس بیچ غزہ میں  اسرائیل کی بمباری اور اموات کے بیچ عیدالاضحی مذہبی جوش وخروش کے ساتھ منائی گئی۔ 
اسرائیل کو کھلی چھوٹ دینے والے بائیڈن عید الاضحی پر اہل غزہ کی حالت زار پر افسردہ
غزہ پرحملے کے دوران اسرائیل کو کھلی چھوٹ دینے اور ہر طرح سے اسرائیل کی مدد کرنے والے امریکی صدر نے عالم اسلام کو عیدالاضحی کی مبارکباد دیتے ہوئے غزہ کی حالت زار پر افسوس کااظہار کیا ہے۔ امریکی صدر جوبائیڈن نے عالم اسلام کو عید کی مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ میری اور اہلیہ جِل بائیڈن کی طرف سے امریکہ اور دنیا بھر میں رہنے والے مسلمانوں کو عید الاضحیٰ کی مبارکباد۔ انہوں نے مزید کہا کہ غزہ میں ہزاروں فلسطینیوں نے اپنے خاندان اور گھروں کو تباہ ہوتے دیکھا ہے، ان لوگوں کا درد بہت بڑا ہے۔ جنگ کے خاتمے، انسانی بنیادوں پر ریلیف فراہم کرنے اور مستقبل کے دو ریاستی حل کیلئے ہر ممکن کوشش کرتے رہیں گے۔ خیال رہے کہ اسرائیلی حملوں کی وجہ سے لاکھوں فلسطینی بے گھر اور ہزاروں شہید ہوچکے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK