Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسرائیل: ورلڈ سنٹرل کچن حملہ: مجرمانہ تحقیق نہیں، برطانیہ، کنیڈا، آسٹریلیا خفا

Updated: August 21, 2026, 10:09 PM IST | Tel Aviv

اسرائیل نے ورلڈ سینٹرل کچن پر حملے کی مجرمانہ تحقیق سے انکار کردیا، اس فیصلے سے ناراض برطانیہ، کنیڈا، اور آسٹریلیا نے اسے شرمناک قرار دیا۔

Israeli Prime Minister Netanyahu. Photo: X
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو۔ تصویر: ایکس

برطانیہ، آسٹریلیا اورکنیڈا نے جمعہ کو اسرائیل کے اس فیصلے کو ’’شرمناک‘‘ قرار دیا ہے کہ وہ غزہ میں ۲۰۲۴ءمیں ورلڈ سینٹرل کچن (ڈبلیو سی کے) کے قافلے پر ہونے والے مہلک حملے کی فوجداری تحقیقات نہیں کرے گا۔تینوں ممالک کی وزارت خارجہ کی جانب سے مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ انہوں نے دو سال سے زائد عرصے سے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ اس معاملے کی تیز اور مکمل جانچ کرے اور ذمہ داروں کو جوابدہ ٹھہرائے۔بیان میں کہا گیا، ’’آئی ڈی ایف (اسرائیلی دفاعی فورسیز) کا ۱۹؍ اگست۲۰۲۶ء کا یہ اعلان کہ وہ اس حملے کے سلسلے میں فوجداری تحقیقات نہیں کرے گی، بغیر کسی مزید وضاحت کے، شرمناک ہے۔‘‘ 
بعد ازاں تینوں ممالک نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرے اور کہا کہ اسے مزید اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ امدادی کارکن اپنے فرائض محفوظ طریقے سے انجام دے سکیں۔ واضح رہے کہ یہ بیان اسرائیلی فوج کے بدھ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا ہے کہ وہ غزہ کی پٹی میں جنگی جرائم کے دو مشتبہ مقدمات کی تحقیقات کرے گا جبکہ تین دیگر اعلیٰ سطحی تحقیقات کو بند کر دے گا، جن میں۲۰۲۴ء کا ڈبلیو سی پر حملہ بھی شامل ہے جس میں سات امدادی کارکن ہلاک ہوئے تھے۔
ذہن نشین رہے کہ اسرائیل نے غزہ پر ۷؍ اکتوبر ۲۰۲۳ء سے جارحیت کا آغاز کیا تھا، جس میں غزہ کا تمام شہری نظام تباہ ہوگیا، اس کے علاوہ ۷۳؍ ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوئے۔ اس کے علاوہ ناکہ بندی کے ذریعے مصنوعی قحط پیدا کیا گیا، تاہم کئی امدادی تنظیموں نے اپنی سرگرمی کے ذریعے خطے کے عوام کیلئے خواراک کا انتظام کیا۔ تاہم اسرائیل نے ایسے امدادی کارکنوں کو بھی حملے کا نشانہ بنایا۔ جن میں ایک واقعہ ورلڈسینٹرل کچن پر حملہ تھا ، جس میں ۷؍ امدادی کارکن جاں بحق ہوگئے تھے۔ اس واقعہ نے دنیا بھر میں تشویش پیدا کی، تاہم اسرائیل کے اس حملے کی مجرمانہ تحقیق سے انکار نے متعدد ملکوں میں غصے کی لہر پیدا کردی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK