Updated: August 24, 2026, 9:08 PM IST
| Tel Aviv
اسرائیلی اخبار معاریو کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج نے ۳؍ سال سے بھی کم عرصے کی جنگ میں اتنا گولہ بارود استعمال کر لیا ہے جتنا اس سے قبل تقریباً ۳؍ دہائیوں میں کیا گیا تھا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طویل جنگ اور متعدد محاذوں پر بیک وقت فوجی تعیناتی نے اسرائیلی فوج کے اہلکاروں، جنگی سازوسامان اور مالی وسائل پر غیر معمولی دباؤ بڑھا دیا ہے، جبکہ ہزاروں فوجی جسمانی یا نفسیاتی طور پر زخمی ہو چکے ہیں۔ یہ اسلحہ خصوصاً غزہ، شام اور لبنان کے خلاف استعمال کئے گئے ہیں۔
اسرائیلی فوج، نیتن یاہو۔ تصویر: آئی این این
اسرائیلی اخبار معاریو نے رپورٹ کیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے ۳؍ سال سے بھی کم عرصے کی جنگ کے دوران اتنا گولہ بارود استعمال کر لیا ہے جتنا اس نے اس سے قبل تقریباً ۳؍ دہائیوں میں استعمال کیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق اس صورتِ حال سے فوجی اہلکاروں، جنگی سازوسامان اور مالی وسائل پر بڑھتا ہوا دباؤ واضح ہو رہا ہے۔ اخبار کے مطابق اسی عرصے کے دوران اسرائیلی فضائیہ کی سرگرمیاں معمول کے حالات میں تقریباً ۹؍ سال کی کارروائیوں کے برابر رہی ہیں، جبکہ ٹینکوں اور بکتر بند گاڑیوں کے ہزاروں انجن استعمال ہو چکے ہیں۔ معاریو نے کہا کہ فوجی سازوسامان کو تبدیل یا مرمت کیا جا سکتا ہے، تاہم فوجی اہلکاروں پر پڑنے والے اثرات کا ازالہ کہیں زیادہ مشکل ہے۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج نے، دیگر اسرائیلی سیکوریٹی اداروں کو شامل کیے بغیر، اب تک ایک ہزار ۱۳۸؍ اہلکاروں کو کھو دیا ہے جبکہ مزید ۱۱؍ ہزار ۷۳۰؍ اہلکاروں کو جسمانی یا نفسیاتی طور پر زخمی قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نفسیاتی صدمے کا شکار مزید ہزاروں اہلکار بھی مستقبل میں اس تعداد میں شامل ہو سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ایران کے خلاف امریکہ کا ’’اقتصادی ڈی ڈے‘‘ منصوبہ، نئی پابندیوں کا اعلان متوقع
فوجی اہلکاروں پر بڑھتا دباؤ
فوج میں طویل عرصے سے خدمات انجام دینے والے پیشہ ور فوجیوں میں بھی دباؤ کے آثار سامنے آ رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق کمانڈ کی ذمہ داریوں کی پیشکش کیے جانے والے اہلکاروں کی ایک بڑی تعداد نے زیادہ مشکل اور دباؤ والی ذمہ داریاں قبول کرنے کے بجائے فوج کے نسبتاً پُرسکون پچھلے محاذوں پر تعیناتی کو ترجیح دی، جبکہ کچھ اہلکاروں نے فوجی سروس ہی چھوڑ دی ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی فوج روزانہ اوسطاً ۵۳؍ ہزار ریزرو فوجیوں کو فعال ڈیوٹی پر رکھ رہی ہے۔ معاریو کے مطابق گزشتہ سال ریزرو فوجیوں کی صرف ایک ماہ کی سروس پر تقریباً ۱ء۲؍ ارب اسرائیلی شیکل، یعنی ۷۰۳؍ ملین ڈالر خرچ ہوئے۔ اخبار نے بتایا کہ یہ رقم تقریباً ۷؍ ایف-۳۵؍ لڑاکا طیاروں یا ۷۰؍ مرکاوا ٹینکوں کی قیمت کے برابر ہے۔
یہ بھی پڑھئے: برطانیہ: مسلمانوں کو وضو، ایشیائی برادریوں کو چاول دھونے میں پانی بچانے کا مشورہ
۳؍ محاذوں پر اسرائیلی فوج کی تعیناتی
اس وقت اسرائیلی افواج غزہ، لبنان اور شام میں ان علاقوں میں تعینات ہیں جنہیں معاریو نے ۳؍ ’’سیکوریٹی بیلٹس‘‘ قرار دیا ہے۔ اس کے علاوہ اسرائیلی فوج مقبوضہ مغربی کنارے میں بھی موجود ہے، جہاں فوجی افرادی قوت کا سب سے بڑا حصہ تعینات ہے۔ غزہ میں اسرائیلی فوج کی پانچ بٹالینیں نام نہاد ’’یلو لائن‘‘ کے ساتھ تعینات ہیں۔ یہ لائن غزہ کی تقریباً ۶۰؍ فیصد زمین پر پھیلی ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ سرحد کے ساتھ مزید دو مضبوط بٹالینیں بھی تعینات ہیں۔ رپورٹ کے مطابق طویل عرصے تک جاری رہنے والی جنگ اور بیک وقت متعدد محاذوں پر فوجی تعیناتی نے اسرائیلی فوج کے اہلکاروں، جنگی سازوسامان اور مالی وسائل پر غیر معمولی دباؤ پیدا کر دیا ہے۔