• Sun, 30 November, 2025
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

گلوبل صمود فلوٹیلا: ایک کو چھوڑ کر تمام کشتیوں پر اسرائیل قابض

Updated: October 02, 2025, 6:07 PM IST | Tal Aviv

اسرائیلی بحری افواج نے غزہ جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا پر دھاوا بول کر تمام کشتیوں کو قبضے میں لے لیا ہے اور ۵۰۰؍ سے زائد کارکنان حراست میں ہے۔ ایک کشتی اب بھی غزہ کی جانب بڑھ رہی ہے۔

Greta Thunberg and other activists in Israeli detention. Photo: X
گریٹا تھنبرگ سمیت دیگر کارکنان اسرائیلی حراست میں۔ تصویر: ایکس

ایک کو چھوڑ کر صمود فلوٹیلا کی تمام کشتیوں پر اسرائیل قابض 
اسرائیل کی وزارت خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ عالمی صمود فلوٹیلا کشتیوں میں سے کوئی بھی ’’فعال جنگی زون میں داخل ہونے یا قانونی بحری ناکہ بندی کی خلاف ورزی کرنے کی کوشش میں کامیاب نہیں ہوئی۔‘‘ وزارت نے کہا کہ ’’تمام مسافر محفوظ ہیں۔ وہ محفوظ طریقے سے اسرائیل جا رہے ہیں جہاں سے انہیں یورپ بھیج دیا جائے گا۔‘‘ تاہم، اس نے نوٹ کیا، ایک بحری جہاز اب بھی غزہ کی جانب رواں دواں ہے۔ اگر وہ ایک فعال جنگی زون میں داخل ہونے اور ناکہ بندی کی خلاف ورزی کرنے کی کوشش کے قریب پہنچتا ہے تو اسے بھی روک دیا جائے گا۔‘‘ اسرائیل نے کم و بیش ۵۰۰؍ سے زائد کارکنان کو حراست میں لے لیا ہے۔ ’’مائیکینو‘‘ نامی کشتی کا رابطہ ٹوٹ گیا ہے۔ آخری وقت یہ کشتی غزہ کے ساحل سے صرف ۱۷؍ کلومیٹر دور تھی۔

اسرائیلی بحری افواج نے غزہ جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا پر حملہ کر کے ۳۱۷؍ کارکنوں کو گرفتار کر لیا

منتظمین نے بتایا کہ اسرائیلی بحری افواج نے محصور غزہ پٹی کیلئے روانہ ہونے والے گلوبل صمود فلوٹیلا پر حملہ کیا اور کم از کم۳۱۷؍ کارکنوں کو حراست میں لے لیا۔ آفیشیل فلوٹیلا ٹریکر کے مطابق، ۲۱؍ جہازوں پر اسرائیلی بحری افواج نے حملہ کیا، مزید۱۹؍ پر حملہ کئےجانے کا اندیشہ ہے، جبکہ چار اب بھی غزہ کی طرف روانہ ہیں۔ ٹریکر کے مطابق، اسرائیلی افواج نے ۲۱؍ جہازوں سے تعلق رکھنے والے کم از کم۳۱۷؍ کارکنوں کو گرفتار کیا۔ ان جہازوں پر موجود کارکن مختلف ملکوں سے تعلق رکھتے تھے جن میں ہسپانوی، اطالوی، برازیلی، ترک، یونانی، امریکی، جرمن، سوئیڈش، برطانوی اور فرانسیسی شہری سمیت کئی اور شامل ہیں۔ 

یونانی پرچم بردار جہاز’’مائیکینو‘‘گلوبل صمود فلوٹیلا کا حصہ بن کر غزہ کے علاقائی پانی میں داخل ہو گیا

گلوبل صمود فلوٹیلا میں شامل یونانی پرچم بردار جہاز’’مائیکینو‘‘(Mikeno) نے جمعرات کو فلوٹیلا کے لائیو ٹریکر کے مطابق کامیابی کے ساتھ غزہ کے علاقائی پانی میں داخل ہوگیا۔ ’’مائیکینو‘‘کی انٹری اس بین الاقوامی انسانی مشن کا ایک اہم لمحہ ہے، جس کا مقصد غزہ کی پٹی پر اسرائیل کی غیر قانونی بحری ناکہ بندی کو توڑنا ہے۔ اگرچہ اس جہاز کی موجودہ صورتحال غیر یقینی ہے۔ کیونکہ خدشہ ہے کہ اسرائیلی بحریہ اسے روک سکتی ہے۔ تاہم، اس کا غزہ کے پانی تک پہنچنا اس بات کی علامت ہے کہ فلوٹیلا ہر حال میں محصور علاقے تک رسائی کیلئے پرعزم ہے۔ 
یہ اب بھی واضح نہیں کہ ’’مائیکینو‘‘ کو اسرائیلی بحریہ نے روکا ہے یا ہراساں کیا ہے۔ گزشتہ گھنٹوں میں اسرائیلی جنگی بحری جہازوں نے قافلے کے کچھ حصوں کا بین الاقوامی پانی میں پیچھا کیا تھاجس سے خدشہ ہے کہ یہ حملہ ماضی کے پرتشدد واقعات جیسے۲۰۱۰ء کے ماوی مرمرہ قتل عام یا اس ہفتے کے دوران دیگر صمود جہازوں پر حملوں کی طرح ہو سکتا ہے۔ فلسطینیوں اور بین الاقوامی کارکنوں کیلئے، صرف ایک جہاز کا غزہ کی علاقائی سرحد تک پہنچ جانا بھی زبردست علامتی اہمیت رکھتا ہے۔ کارکنوں نے میکینو کے داخلے کو ’’محاصرہ کی دیوار میں شگاف‘‘ قرار دیا ہے، جو اسرائیل کی سمندری ناکہ بندی کو چیلنج کرنے کے فلوٹیلا کے عزم کو اجاگر کرتا ہے۔ 
’’مائیکینو‘‘کی کامیابی نے خطے بھر میں یکجہتی گروپوں میں خوشی کی لہر دوڑا دی ہے، جبکہ فلسطین حامی کارکنان عالمی برادری سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ فلوٹیلا کا تحفظ کرے اور باقی جہازوں کے محفوظ سفر کو یقینی بنائے۔ 
اسرائیلی فورسیز نے۲۲۳؍ بین الاقوامی کارکنوں غیر قانونی طور پر حراست میں لیا ہے
صمود فلوٹیلا کے منتظمین نے جمعرات کو کہا کہ اسرائیلی فورسیز نے۲۲۳؍ بین الاقوامی کارکنوں کو غزہ جانے والے امدادی فلوٹیلا پر غیر قانونی طور پر حراست میں لے لیا۔ گلوبل صمود فلوٹیلا (GSF) نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ بدھ کی رات سے اب تک اسرائیلی فورسیز نے۱۵؍ کشتیوں پر حملہ کیا ہے، جبکہ آٹھ دیگر یا تو ممکنہ طور پر حملے کی زد میں ہیں یا اس وقت حملے کا شکار ہیں۔ فلوٹیلا نے انسٹاگرام پر ان۲۲۳؍ کارکنوں کے نام اور نیشنلیٹی شیئر کیں جو حملے کا نشانہ بننے والی کشتیوں پر سوار تھے۔ 
دریں اثنا، فلوٹیلا کے آفیشل ٹریکر نے دکھایا کہ اسرائیلی فورسیزنے۲۰؍ جہازوں پر حملہ کیا ہے، جبکہ۲۴؍ جہاز اب بھی غزہ کی طرف رواں دواں ہیں۔ ترک کارکن اردم اوزویریں کے مطابق، جو اس عالمی مشن کا حصہ ہیں، ان کی کشتی غزہ سے محض۳۰؍ سمندری میل (۵۵؍کلومیٹر) کے فاصلے پر تھی۔ یہ فلوٹیلا، جو بنیادی طور پر انسانی ہمدردی کی امداد اور طبی سامان سے بھری ہوئی تھی، اگست کے آخر میں روانہ ہوئی۔ یہ کئی برسوں بعد پہلی بار تھا کہ۵۰؍ سے زیادہ جہاز اکٹھے غزہ کی جانب روانہ ہوئے، جن میں ۴۵؍ سے زائد ممالک کے۵۰۰؍ سے زیادہ شہری کارکن شامل تھے۔ واضح رہے اسرائیل نے غزہ، جس کی آبادی تقریباً۲۴؍ لاکھ ہے، پر تقریباً ۱۸؍ برسوں سے محاصرہ کر رکھا ہے اور مارچ میں اس ناکہ بندی کو مزید سخت کر دیا، جب اس نے سرحدی راستے بند کر دیئے اور خوراک اور ادویات کی ترسیل روک دی، جس نے اس علاقے کو قحط کے دہانے پر پہنچا دیا۔ 

بین الاقوامی پانی میں اسرائیلی کارروائی، گلوبل صمود فلوٹیلا کی ۲۰؍ کشتیاں اسرائیلی افواج نے غیرقانونی طور پر روک لیں 

کم از کم ۴۲؍کشتیوں پر مشتمل گلوبل صمود فلوٹیلا میں سے ۲۰؍کو بین الاقوامی پانی میں اسرائیلی افواج نے غیرقانونی طور پر روک لیا ہے۔ یہ کارروائی بین الاقوامی اور بحری قوانین دونوں کی خلاف ورزی ہے۔ بتا دیں کہ ۲؍ اکتوبر صبح۵؍ بجے تک باقی۲۲؍ کشتیاں اب بھی غزہ کے ساحل کی جانب رواں دواں تھیں۔ 

صمود فلوٹیلا پر اسرائیلی حملہ،۲۰۰؍سے زائد گرفتار، ۳۰؍ جہازغزہ کی جانب رواں دواں

گلوبل صمود فلوٹیلا کے منتظمین نے جمعرات ۲؍ اکتوبر کو تقریباً۳۰؍ جہازوں پر مشتمل گلوبل صمود فلوٹیلا کے بیڑے نے اسرائیلی بحری افواج سے بچ نکلنے کے بعد غزہ کی جانب اپنی سفر جاری رکھنے کی اطلاع دی ہے۔ کارکن گروپ نے اعلان کیا کہ کشتیاں ’’اب بھی پوری طاقت سے غزہ کی طرف روانہ ہیں، محض۴۶؍ بحری میل دور، اسرائیلی قابض بحریہ کی مسلسل جارحیت کے باوجود۔ ‘‘یہ اس وقت سامنے آیا جب اسرائیلی افواج نے بین الاقوامی پانی میں ۱۳؍ دیگر جہازوں کو روک کر ان پر سوار درجنوں شرکاء کو حراست میں لے لیا، جن میں سویڈن کی ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ بھی شامل ہیں۔ اس سے قبل، فلوٹیلا نے اطلاع دی تھی کہ کم از کم دو جہاز’’میٹیک‘‘اور ایک یاٹ جس کا نام’’آل ان‘‘ ہے،  اسرائیلی احکامات کو نظرانداز کرتے ہوئے غزہ کی جانب بڑھ رہے تھے۔ 

اسرائیلی افواج نے۳۷؍ ممالک کے ۲۰۰؍سے زائد افراد کو حراست میں لیا
گلوبل صمود فلوٹیلا کے ترجمان سیف ابو کشیک نے ایک تازہ بیان میں کہا کہ اسرائیلی افواج نے۱۳؍ کشتیاں روکتے ہوئے ۳۷؍ممالک سے تعلق رکھنے والے۲۰۱؍ سے زیادہ افراد کو گرفتار کیا۔ ان میں اسپین کے۳۰، اٹلی کے۲۲، ترکی کے۲۱؍ اور ملائیشیا کے۱۲؍ شرکاء شامل ہیں۔ ابو کشیک نے زور دے کر کہا کہ فلوٹیلا کا مشن’’گرفتاریوں کے باوجود جاری ہے۔ ‘‘انہوں نے کہا:’’ہمارے پاس تقریباً ۳۰؍جہاز ہیں جو قابض افواج کے فوجی جہازوں سے بچنے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں تاکہ غزہ کے ساحل تک پہنچ سکیں۔ وہ پرعزم ہیں، وہ پُرجوش ہیں، اور ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں کہ صبح تک یہ محاصرہ توڑ کر اکٹھے پہنچ جائیں۔ ‘‘

 
 
 
 
 
View this post on Instagram
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by Inquilab - انقلاب (@theinquilab.in)

فرانسیسی یورپی رکن پارلیمنٹ کا عزم
فلوٹیلا کے ایک جہاز پر سوار فرانسیسی یورپی پارلیمنٹ کی رکن ریما حسن نے ایک پیغام میں کہا:’’ہم آخری لمحے تک ہار نہیں مانیں گے!‘‘

کولمبیا کے صدر پیٹرو کی مذمت، اسرائیلی سفارتکار ملک بدر
کولمبیا کے صدر گستاوو پیٹرو نے اعلان کیا کہ فلوٹیلا کے کارکنوں پر اسرائیلی حملے، جن میں دو کولمبیا کے شہری بھی شامل ہیں، کے بعد اسرائیل کے تمام سفارتی نمائندوں کو ملک بدر کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ کولمبیا اور اسرائیل کے درمیان آزاد تجارتی معاہدہ ’’فوراً ختم کر دیا گیا ہے۔ ‘‘انہوں نے اسرائیلی وزیر اعظم پر تنقید کرتے ہوئے لکھا:’’یہاں نیتن یاہو اپنی عالمی منافقت اور اپنی مجرمانہ حیثیت کو ظاہر کرتے ہیں ، انہیں گرفتار کیا جانا چا ہئے۔ ‘‘پیٹرو نے مزید کہا کہ کولمبیا کی وزارتِ خارجہ اسرائیل کے خلاف مقدمات دائر کرے گی اور بین الاقوامی وکلاء سے اس میں مدد کی اپیل کی۔ 

گریٹا تھنبرگ بھی گرفتار کارکنوں میں شامل
سویڈش ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ بھی ان افراد میں شامل ہیں جنہیں اسرائیلی افواج نے فلوٹیلا کے جہازوں کو روکنے کے بعد حراست میں لیا۔ اسرائیلی وزارتِ خارجہ نے ایکس پر کہا:’’حماس-صمود فلوٹیلا کے کئی جہازوں کو محفوظ طریقے سے روک دیا گیا ہے اور ان کے مسافروں کو اسرائیلی بندرگاہ منتقل کیا جا رہا ہے۔ گریٹا اور اس کے دوست محفوظ اور صحت مند ہیں۔ ‘‘وزارت نے ایک ویڈیو بھی جاری کی جس میں تھنبرگ کو لے جایا جا رہا ہے۔ تاہم، اسرائیل نے اب تک اپنے اس دعوے کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا کہ فلوٹیلا کا تعلق حماس سے ہے۔

دوسری طرف کارکنوں نے اس چھاپے کو ’’غیرقانونی‘‘ اور’’بحری قزاقی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ فلوٹیلا غزہ کیلئے کھانے، طبی سامان، پانی صاف کرنے کے آلات اور بچوں کا دودھ لے جا رہی تھی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK