۱۷؍افراد زخمی،نصیرات، جبالیہ اور خان یونس میں فضائی حملے اور فائرنگ، حماس کا ضامن ممالک سے عملی دباؤ ڈالنے کا مطالبہ۔
فلسطینی شہری اسرائیلی حملے میں تباہ خیمے دیکھ رہےہیں۔ تصویر: اےپی /پی ٹی آئی
غزہ (ایجنسی):غزہ کےاسپتالوں میں گزشتہ ۲۴؍ گھنٹوں کے دوران ۱۴؍ فلسطینی شہداء کی لاشیں اور ۱۷ زخمی لائے گئے ہیں۔ فلسطینی وزارت صحت نے جمعہ کو جاری رپورٹ میں بتایا کہ اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیوں اور فوجی جارحیت کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔وزارت صحت کے مطابق متعدد متاثرین اب بھی ملبے کے نیچے یا سڑکوں پر پڑے ہیں، کیونکہ ایمبولینس اور سول ڈیفنس کی ٹیمیں شدید تباہی اور مسلسل بمباری کے باعث ان تک پہنچنے سے قاصر ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق گزشتہ شب نصیرات کیمپ کے بلاک سی میں ایک رہائشی اپارٹمنٹ کو نشانہ بنایا گیا جس میں کئی شہری زخمی ہوئے جبکہ ملبے سے ایک شہید کی لاش نکالی گئی۔ شمالی غزہ میں جبالیہ کیمپ کے الفالوجا علاقے میں قابض فوج کی فائرنگ سے ۱۱؍ سالہ بچی ہمسہ نضال حوسو شہید ہو گئی۔خان یونس کے مغرب میں واقع المواصی کے العطار علاقے پر فضائی حملے میں ۴۳؍ سالہ کمال عبدالرحمن محمد عواد شہید ہوئے اور ۳؍ افراد زخمی ہو گئے، جن میں ایک کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔ اسی علاقے میں شارع پانچ پر بے گھر افراد کے خیمے کو خودکش ڈرون سے نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں ۴؍ شہری شہید اور متعدد زخمی ہوئے۔
شہری دفاع نے بتایا کہ شہداء میں زیادہ تر بچے شامل ہیں۔شمالی غزہ میں بے گھر افراد کو پناہ دینے والے ابو حسین اسکول پر بمباری کے نتیجے میں شہری ابراہیم صبح شہید ہو گئے جبکہ خان یونس کے مشرق میں بنی سہیلہ چوک کے قریب ڈرون فائرنگ سے ایک اور فلسطینی شہید ہو گیا۔غزہ کی وزارت صحت کے مطابق ۲۰۲۳ء کے بعد جاری جنگ میں اب تک ۷۱؍ ہزار ۳۹۵؍ فلسطینی شہید اور ایک لاکھ۷۱؍ ہزار ۲۸۷؍ زخمی ہو چکے ہیں۔
اس خلاف ورزی پرحماس نے ضامن ممالک سے عملی دباؤ ڈالنے کا مطالبہ کیاہے۔ حماس نے جمعہ کو اعلان کیا ہے کہ وہ غزہ پٹی کے مختلف شعبوں کے انتظام و نگرانی کے لئے آزاد فلسطینی شخصیات پر مشتمل ایک کمیٹی کی تشکیل کے عملی آغاز کی منتظر ہے۔