Updated: May 15, 2026, 6:02 PM IST
| Tel aviv
اسرائیلی اخبار ہاریٹز کی ایک تحقیق میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیل سے منسلک سائبر انٹیلی جنس کمپنیوں نے ایسی ٹیکنالوجیز تیار کی ہیں جو Starlink کے صارفین کو عالمی سطح پر ٹریک کرنے اور بعض صورتوں میں ان کی شناخت معلوم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ نظام سیٹیلائٹ نیٹ ورک ہیک کرنے کے بجائے ’’ڈیٹا فیوژن‘‘ تکنیک استعمال کرتے ہیں، جن کے ذریعے جغرافیائی اور ڈجیٹل معلومات کو ملا کر صارفین کی آن لائن سرگرمی کو حقیقی شناخت سے جوڑنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
اسرائیلی اخبار ہاریٹز کی شائع کردہ ایک تفصیلی تحقیق میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیل سے منسلک سائبر انٹیلی جنس کمپنیوں نے ایسی جدید نگرانی ٹیکنالوجیز تیار کی ہیں جو دنیا بھر میں Starlink صارفین کو ٹریک کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، ان سسٹمز کا مقصد اسٹارلنک سیٹیلائٹ ٹرمینلز کو براہ راست ہیک کرنا نہیں بلکہ بڑے پیمانے پر ڈجیٹل اور جغرافیائی ڈیٹا کا تجزیہ کر کے ٹرمینلز کے مقامات اور ان کے ممکنہ صارفین کی شناخت معلوم کرنا ہے۔ تحقیق میں کہا گیا کہ دو اسرائیلی کمپنیوں نے ایسے سسٹمز تیار کیے ہیں جو ’’ڈیٹا فیوژن‘‘ تکنیک استعمال کرتے ہیں۔ اس طریقہ کار میں اشتہاری شناختی نمبرز، سوشل میڈیا سرگرمی، براؤزنگ پیٹرنز، موبائل کمیونیکیشن ڈیٹا اور جغرافیائی محل وقوع کی معلومات کو یکجا کیا جاتا ہے تاکہ آن لائن سرگرمیوں کو حقیقی افراد سے جوڑا جا سکے۔
یہ بھی پڑھئے : عالمی بحران کے درمیان ہندوستان کا برکس اتحاد کا مطالبہ
ایلون مسک کی اسپیس ایکس کی ملکیت اسٹار لنک حالیہ برسوں میں جنگی علاقوں، انٹرنیٹ بلیک آؤٹس اور ہنگامی حالات میں ایک اہم مواصلاتی ذریعہ بن چکی ہے۔ اس سروس کا استعمال یوکرین جنگ کے دوران فوجی مواصلات، ایران میں احتجاجی مظاہرین، اور غزہ میں امدادی کارکنوں کی جانب سے کیا گیا ہے۔ ہاریٹز کے مطابق، تحقیق میں ایک پہلے نامعلوم کمپنی TargetTeam کی نشاندہی کی گئی ہے، جو مبینہ طور پر قبرص سے کام کرتی ہے۔ کمپنی نے ’’Stargetz‘‘ نامی ایک نظام تیار کیا ہے جو دنیا بھر میں تقریباً ۱۰؍ لاکھ اسٹارلنک ٹرمینلز کی نگرانی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، یہ نظام تقریباً ۵۵؍ لاکھ منسلک ڈیوائسز تک رسائی کی نگرانی کر سکتا ہے اور تقریباً دو لاکھ ٹرمینلز کو مخصوص شناختی ڈیٹا سے جوڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تحقیق میں ایک اور اسرائیلی کمپنی Rayzone کا بھی ذکر کیا گیا، جس کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ وہ اسرائیلی وزارت دفاع کی نگرانی میں اسی نوعیت کے انٹیلی جنس اور ڈیٹا اینالیٹکس ٹولز فروخت کرتی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ یہ نئی نگرانی ٹیکنالوجیز روایتی سیٹیلائٹ انٹرسیپشن طریقوں سے مختلف ہیں کیونکہ اسٹارلنک کا نیٹ ورک ۸؍ ہزار سے زائد لو ارتھ آربٹ سیٹیلائٹس پر مشتمل ہے، جس کی وجہ سے روایتی سگنل انٹرسیپشن ’’جسمانی طور پر تقریباً ناممکن‘‘ ہو چکی ہے۔ اسی لیے کمپنیاں اب بڑے پیمانے پر ڈیٹا اینالیٹکس اور آن لائن رویّوں کی نگرانی پر انحصار کر رہی ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سیکوریٹی لیب کے سربراہ ڈونشا او سیئربہیل نے خبردار کیا کہ ایسی صلاحیتیں صحافیوں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور جنگی علاقوں میں موجود عام شہریوں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’انٹرنیٹ بلیک آؤٹ، ناکہ بندی یا فعال تنازعات کے دوران، اسٹارلنک جیسی خدمات اکثر لوگوں کے لیے دنیا سے رابطے کا آخری ذریعہ ہوتی ہیں۔‘‘ تحقیق میں یہ بھی کہا گیا کہ عالمی سائبر انٹیلی جنس انڈسٹری اب روایتی اسپائی ویئر، جیسے پیگاسس سے آگے بڑھ کر بڑے پیمانے پر ڈیٹا نگرانی کے ماڈلز کی طرف جا رہی ہے، جنہیں بعض مبصرین Palantir Technologies جیسے پلیٹ فارمز کے طرز سے تشبیہ دے رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اسپیس ایکس اور اسٹار لنک نے اشاعت کے وقت تک ان الزامات پر کوئی باضابطہ تبصرہ نہیں کیا۔