Inquilab Logo Happiest Places to Work

مجھے اپنی قابلیت اور اہمیت ثابت کرنے کی ضرورت نہیں : وراٹ کوہلی

Updated: May 15, 2026, 8:59 PM IST | New Delhi

ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور اسٹار بلے باز وراٹ کوہلی نے کہا ہے کہ وہ۲۲۰۲۷ء کا ون ڈے ورلڈ کپ کھیلنے کے تو خواہشمند ہیں، لیکن وہ کسی ایسے ماحول کا حصہ بننا پسند نہیں کریں گے۔

Virat Kohli.Photo:X
وراٹ کوہلی۔ تصویر:ایکس

ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور اسٹار بلے باز وراٹ کوہلی نے کہا ہے کہ وہ۲۲۰۲۷ء کا ون ڈے ورلڈ کپ کھیلنے کے تو خواہشمند ہیں، لیکن وہ کسی ایسے ماحول کا حصہ بننا پسند نہیں کریں گے جہاں انہیں اپنی صلاحیتوں اور اہمیت کو ثابت کرنے کے لیے دباؤ کا سامنا کرنا پڑے۔ ٹیسٹ اور ٹی ۲۰؍ انٹرنیشنل سے پہلے ہی ریٹائرمنٹ لے چکے کوہلی نے واضح طور پر یہ تو نہیں کہا کہ موجودہ ہندوستانی ٹیم کا ماحول ایسا ہے، تاہم `رائل چیلنجرز بنگلورو کے ایک پاڈ کاسٹ میں ان کا درد صاف جھلکا۔


وراٹ کوہلی نے کھل کر بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم  ۲۰۲۶ء کے وسط میں ہیں اور مجھ سے اکثر پوچھا جاتا ہے کہ کیا میں ۲۰۲۷ء کا ورلڈ کپ کھیلوں گا؟ یقیناً، اگر میں کرکٹ کھیل رہا ہوں تو اس کا مطلب ہے کہ میں کھیلنا چاہتا ہوں۔ ہندوستان کے لیے ورلڈ کپ کھیلنا ہمیشہ ایک لاجواب تجربہ ہوتا ہے۔ لیکن میں کسی ایسی جگہ کام کرنے کا متبادل نہیں چنوں گا جہاں لوگ کہتے ہیں کہ ہمیں آپ پر بھروسہ ہے اور ایک ہفتے کے اندر ہی آپ کے کام کرنے کے طریقے پر سوال اٹھانے لگتے ہیں۔‘‘
وراٹ کوہلی نے اپنی حالیہ شاندار فارم (جس میں آسٹریلیا، جنوبی افریقہ اور نیوزی لینڈ کے خلاف گزشتہ سات ون ڈے اننگز میں تین سنچریاں اور تین نصف سنچریاں شامل ہیں) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ کھیل کے تئیں ہمیشہ ایماندار رہے ہیں۔ انہوں نے کہا’’میری سوچ بالکل واضح ہے۔ اگر ٹیم مینجمنٹ اور ماحول میں سب کو لگتا ہے کہ میں اپنا حصہ ڈال سکتا ہوں، تو میں وہاں رہوں گا۔ لیکن اگر مجھے یہ احساس دلایا گیا کہ مجھے اب بھی خود کو ثابت کرنا ہے، تو میں وہاں سے ہٹ جاؤں گا۔ میں میدان پر کسی بھی دوسرے کھلاڑی سے زیادہ محنت کرتا ہوں۔ اگر مجھے ۵۰؍ اوورز تک ہر گیند پر اس طرح فیلڈنگ کرنی پڑے جیسے یہ میرے کیریئر کی آخری گیند ہو، تو میں بغیر کسی شکایت کے ایسا کروں گا۔ اس کے باوجود اگر مجھ پر شک کیا جائے، تو وہ جگہ میرے لیے نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھئے:اگلے جیمز بانڈ کی تلاش شروع: آڈیشنز باضابطہ طور پر جاری


انہوں نے مزید کہا کہ زندگی کے کسی بھی شعبے میں کوئی بھی شخص کارکردگی کی سو فیصد ضمانت نہیں دے سکتا، اس لیے کسی کا بھی جائزہ صرف فوری نتائج کی بنیاد پر نہیں ہونا چاہیے۔اب کرکٹ صرف لطف اندوز ہونے کے لیے کھیل رہا ہوں۔حال ہی میں ڈومیسٹک کرکٹ (وجے ہزارے ٹرافی) میں حصہ لینے اور وہاں ۱۳۱؍ اور ۷۷؍ رن کی اننگز کھیلنے کا ذکر کرتے ہوئے کوہلی نے کہا کہ اب وہ کسی کو کچھ ثابت کرنے کے لیے نہیں بلکہ کھیل سے محبت کی خاطر میدان میں اترتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:اٹالیئن اوپن ۲۰۲۶ء: ایلینا سویتولینا تیسری بار فائنل میں، خطابی مقابلہ کوکو گاف سے ہوگا


انہوں نے کہا’’بنگلورو میں سینٹر آف ایکسی لینس میں جب میں اکیلا تھا، تو شروع میں سوچا کہ کیا اتنے سال کھیلنے کے بعد ڈومیسٹک میچ میرے لیے پُرکشش ہوں گے؟ لیکن میں نے اپنی سوچ بدلی کہ مجھے بیٹنگ پسند ہے، اس لیے میں کھیلوں گا۔ وہاں میں نے ڈائیونگ کی، فیلڈنگ کی اور مجھے دوبارہ ایک بچے جیسا محسوس ہونے لگا۔‘‘ کوہلی نے بات ختم کرتے ہوئے واضح کیا کہ وہ پورے سال فٹ رہتے ہیں اور اچانک کسی سیریز سے دو ہفتے پہلے تیاری شروع نہیں کرتے۔ اس لیے مینجمنٹ کو چاہیے کہ وہ پہلے دن ہی حقیقت واضح کر دے، بجائے اس کے کہ بعد میں چیزوں کو مشکل بنایا جائے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK