• Sun, 06 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

مغربی کنارہ کے شمالی دیہات کو اسرائیلی فوج نے تباہ کر دیا

Updated: September 06, 2026, 11:46 AM IST | Gaza

قصرہ کے علاقے میں ۲۸؍ روز سے محصور فلسطینی خاندانوں تک انسانی امداد بھی نہ پہنچنے دی اور امدادی کارکنوں کو روک دیا۔

Bulldozer operations have been ongoing in several areas of the West Bank for the past several days. Photo: INN
مغربی کنارہ کے متعدد علاقوں میں گزشتہ کئی دنوں سے بلڈوزر کارروائی جاری ہے۔ تصویر: آئی این این

مقبوضہ مغربی کنارے میں قابض اسرائیلی فوج کے مظالم جاری ہیں۔ غیرملکی میڈیا کے مطابق مقبوضہ مغربی کنارے کے شمالی دیہات کو قابض اسرائیلی فوج نے بلڈوزروں سے روند ڈالا اور مکانات، مویشیوں کے باڑے اور پانی کے ٹینک تباہ کر دیے۔ قصرہ کے علاقے میں ۲۸؍ روز سے محصور فلسطینی خاندانوں تک انسانی امداد بھی نہ پہنچنے دی اور درجنوں امدادی کارکنوں کو روک دیا۔ اسرائیل کے بلڈوزروں نےعارضی بیت الخلا، پانی کے کنٹینرز اور سولر پینل بھی تباہ کر دیے۔ اس کے علاوہ بعض باشندوں  کی ملکیت والی گاڑیاں اور ٹریکٹر بھی ضبط کر لیے گئے۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل: بحیرۂ روم میں مائیکرو الجی کی اچانک اور تیز پیداوار، متعدد ڈی سیلینیشن پلانٹس متاثر

اقوامِ متحدہ نے اسرائیلی اقدامات کو انسانیت کے خلاف جرائم کے مترادف قرار دیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج نے گزشتہ سال سے اب تک مغربی کنارے کے ۳؍ پناہ گزین کیمپوں سے ۳۳؍ ہزار سے زائد فلسطینیوں کو جبراً بے دخل کیا۔ واضح رہےکہ شمالی مغربی کنارے میں صہیونی فوج کے آپریشن ’آئرن وال‘ کے آغاز کو ڈیڑھ سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن جنین، طولکرم اور نور شمس کے کیمپوں سے بے گھر ہونے والے ۳۳؍ ہزار سے زائد فلسطینی اب بھی اپنے گھروں کو واپس جانے سے قاصر ہیں اور ان کی واپسی کا کوئی امکان نظر نہیں آ رہا۔ جمعہ کو جاری کردہ اپنی ایک نئی رپورٹ میں اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے جنوری اور فروری۲۰۲۵ء کے دوران تینوں کیمپوں کے مکینوں کو زبردستی بے گھر کیا اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اب تک انہیں واپس جانے کی اجازت نہیں دی۔ رپورٹ کے مطابق یہ جبراً نقل مکانی محض فوجی کارروائیوں تک محدود نہیں تھی بلکہ اس میں سیکڑوں گھروں کی مسماری، بنیادی ڈھانچے، سڑکوں، پانی اور بجلی کے نظام کی تباہی، امداد کی فراہمی پر پابندی اور گھر گھر تلاشی کے وہ ہتھکنڈے شامل ہیں جنہوں نے مکینوں کو علاقہ چھوڑنے پر مجبور کیا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK