قصرہ کے علاقے میں ۲۸؍ روز سے محصور فلسطینی خاندانوں تک انسانی امداد بھی نہ پہنچنے دی اور امدادی کارکنوں کو روک دیا۔
EPAPER
Updated: September 06, 2026, 11:46 AM IST | Gaza
قصرہ کے علاقے میں ۲۸؍ روز سے محصور فلسطینی خاندانوں تک انسانی امداد بھی نہ پہنچنے دی اور امدادی کارکنوں کو روک دیا۔
مقبوضہ مغربی کنارے میں قابض اسرائیلی فوج کے مظالم جاری ہیں۔ غیرملکی میڈیا کے مطابق مقبوضہ مغربی کنارے کے شمالی دیہات کو قابض اسرائیلی فوج نے بلڈوزروں سے روند ڈالا اور مکانات، مویشیوں کے باڑے اور پانی کے ٹینک تباہ کر دیے۔ قصرہ کے علاقے میں ۲۸؍ روز سے محصور فلسطینی خاندانوں تک انسانی امداد بھی نہ پہنچنے دی اور درجنوں امدادی کارکنوں کو روک دیا۔ اسرائیل کے بلڈوزروں نےعارضی بیت الخلا، پانی کے کنٹینرز اور سولر پینل بھی تباہ کر دیے۔ اس کے علاوہ بعض باشندوں کی ملکیت والی گاڑیاں اور ٹریکٹر بھی ضبط کر لیے گئے۔
اقوامِ متحدہ نے اسرائیلی اقدامات کو انسانیت کے خلاف جرائم کے مترادف قرار دیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج نے گزشتہ سال سے اب تک مغربی کنارے کے ۳؍ پناہ گزین کیمپوں سے ۳۳؍ ہزار سے زائد فلسطینیوں کو جبراً بے دخل کیا۔ واضح رہےکہ شمالی مغربی کنارے میں صہیونی فوج کے آپریشن ’آئرن وال‘ کے آغاز کو ڈیڑھ سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن جنین، طولکرم اور نور شمس کے کیمپوں سے بے گھر ہونے والے ۳۳؍ ہزار سے زائد فلسطینی اب بھی اپنے گھروں کو واپس جانے سے قاصر ہیں اور ان کی واپسی کا کوئی امکان نظر نہیں آ رہا۔ جمعہ کو جاری کردہ اپنی ایک نئی رپورٹ میں اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے جنوری اور فروری۲۰۲۵ء کے دوران تینوں کیمپوں کے مکینوں کو زبردستی بے گھر کیا اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اب تک انہیں واپس جانے کی اجازت نہیں دی۔ رپورٹ کے مطابق یہ جبراً نقل مکانی محض فوجی کارروائیوں تک محدود نہیں تھی بلکہ اس میں سیکڑوں گھروں کی مسماری، بنیادی ڈھانچے، سڑکوں، پانی اور بجلی کے نظام کی تباہی، امداد کی فراہمی پر پابندی اور گھر گھر تلاشی کے وہ ہتھکنڈے شامل ہیں جنہوں نے مکینوں کو علاقہ چھوڑنے پر مجبور کیا۔