• Sat, 05 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسرائیل: بحیرۂ روم میں مائیکرو الجی کی اچانک اور تیز پیداوار، متعدد ڈی سیلینیشن پلانٹس متاثر

Updated: September 05, 2026, 10:09 PM IST | Tel Aviv

اسرائیل کےقریب بحیرۂ روم میں مائیکرو الجی کی اچانک اور تیز پیداوار سے متعدد ڈی سیلینیشن( نمکین پانی کو میٹھا کرنے) کے پلانٹس متاثر ہوئے، جس کے نتیجے میں پینے کے پانی کی فراہمی کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے، جبکہ مغربی میڈیا نے اسے ’’انتہائی نایاب واقعہ‘‘ قرار دیا۔

A sudden and rapid growth of microalgae in the Mediterranean Sea near Israel. Photo: X
اسرائیل کےقریب بحیرۂ روم میں مائیکرو الجی کی اچانک اور تیز پیداوار۔ تصویر: ایکس

 اسرائیل کےقریب بحیرۂ روم میں مائیکرو الجی کی اچانک اور تیز پیداوار سے متعدد ڈی سیلینیشن( نمکین پانی کو میٹھا کرنے) کے پلانٹس متاثر ہوئے، جس کے نتیجے میں پینے کے پانی کی فراہمی کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے، جبکہ مغربی میڈیا نے اسے ’’انتہائی نایاب واقعہ‘‘ قرار دیا۔ اسرائیل کی قومی واٹر کمپنی، مکوروٹ کے مطابق، ملک کے چھ ساحلی ڈی سیلینیشن پلانٹس میں سے پانچ جو سمندر کے پانی کو پینے کے قابل پانی میں تبدیل کرتے ہیں اتوار کو بند ہو گئے۔ اس کے بعد سے، ان میں سے کچھ سہولیات، جو نجی ملکیت اور چلائی جاتی ہیں، نے جزوی طور پر کام دوبارہ شروع کر دیا ہے، لیکن جمعرات کو صرف ایک مکمل صلاحیت کے ساتھ کام کر رہا تھا۔مکوروٹ کے ترجمان لیور گٹمین نے کہا، ’’اسرائیل میں اس قسم کا واقعہ پہلے کبھی نہیں ہوا… یہ انتہائی نایاب واقعہ تھا،‘‘تاہم انہوں نے زور دیا کہ تقریباً۹۹؍ فیصد معاملات میں پینے کے پانی کی کوئی کمی نہیں ہوئی ہے۔پھر بھی، یہ ملک کے پینے کے پانی کے لیے ڈی سیلینیشن پر بھاری انحصار کے پیش نظر ایک خطرناک صورتحال ہے۔ اسرائیل خشک ہے اور اس کے پاس نہ تو بڑے دریا ہیں اور نہ ہی کثرت سے بارش ہوتی ہے، لیکن اس ٹیکنالوجی پر اس کی مہارت نے اسے پانی کا سپرپاور بنا دیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ: ملبے میں بچوں کیلئےعارضی سنیما، کارٹون دیکھ کر چہروں پر مسکراہٹ لوٹی

واضح رہے کہ ڈی سیلینیشن اب اس کے پینے کے پانی کا کم از کم۶۵؍ فیصد فراہم کرتا ہے، جس میں زیادہ تر پلانٹ بحیرہ روم کے ساحل پر واقع ہیں۔مسائل ہفتے کے آخر میں شروع ہوئے، جب ’’اسرائیلی ساحلی پٹی پر آلودگی کا ایک بکھرا ہوا، وسیع واقعہ پیش آیا،‘‘بین گورین یونیورسٹی میں پانی کی تحقیق کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ایڈو بار زیو نے کہاکہ جب وہ اور دیگر سائنسدانوں نے قریب سے جانچا تو انہوں نے دریافت کہ یہ مائیکرو الجی تھی، چھوٹے جاندار جو سورج کی روشنی، کاربن ڈائی آکسائیڈ اور پانی میں موجود غذائی اجزاء پر پلتے ہیں اور جو تیزی سے بڑھ سکتے ہیں۔بار زیو کے مطابق، مائیکرو الجی کا یہ پھول جو کم از کم ایک درجن میل سے زیادہ پھیلا ہوا ہے کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ اس کی ابتدا نیل ڈیلٹا سے ہوئی اور یہ سمندر کیلہروں  کے ساتھ اسرائیل کے ساحل تک شمال کی طرف بڑھا۔ بار زیو، جو۲۰؍ سال سے ساحلی پانی کی جانچ کر رہے ہیں، نے کہا، ’’یہ پہلی بار ہے جب میں نے اس حد تک کچھ دیکھا۔‘‘ملک کی ڈی سیلینیشن سہولیات زیادہ تر ’’ریورس اوسموسس‘‘ نامی ٹیکنالوجی استعمال کرتی ہیں، جہاں اس سے پہلے کہ اسے فلٹرکے ذریعے دبایا جائے جو نمک، بیکٹیریا اور دیگر خورد بینی ذرات کو چھان کر صاف پینے کا پانی چھوڑ دیتی ہیں، پانی سے بڑی آلودگیوں کو ہٹایاجاتا ہے۔یوٹاہ یونیورسٹی میں مشرق وسطیٰ مرکز کے ڈائریکٹر مائیکل کرسٹوفر لو نے کہا کہ طحالب اور ان کے پیدا کردہ مادے فلٹر کو خراب اور نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ اگر پانی میں بہت زیادہ معلق مادہ ہو تو تقطیری  عمل اس رفتار سے نہیں چل سکتے۔ایسا پہلے بھی ہو چکا ہے۔۲۰۰۸ء اور۲۰۰۹ء میں خلیج عمان میں ایک شدید ’’ریڈ ٹائیڈ‘‘ نقصان دہ طحالب کا پھول نے اس خطے میں بہت سے ڈی سیلینیشن پلانٹس کو متاثر کیا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: دنیا کا ’’نقشہ‘‘ درست کرنے کا فیصلہ، افریقہ کو اصل حجم میں دکھانے کی مہم کامیاب

بعد ازاں مکوروٹ کے گٹمین نے کہاکہ اسرائیل میں، سرکاری پانی کا نظام پلانٹس کی بندش کی وجہ سے پیدا ہونے والے خلا کو پورا کرنے کے لیے قدم بڑھا چکا ہے ۔ اس میں جھیل سے پانی پمپ کرنا، زیر زمین پانی کے کنویں کو چالو کرنا اور قومی پانی کے ذخائر کا استعمال شامل ہے۔کچھ شہروں کو قلیل مدتی مقامی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے، جن میں باغات کی آبپاشی اور سوئمنگ پول بھرنا شامل ہیں، لیکن اہم پابندیاں ان کسانوں کو متاثر کرتی ہیں جو آبپاشی کے لیے پینے کے پانی کے معیار کا پانی استعمال کرتے ہیں، ان کے برعکس جو ری سائیکل شدہ پانی استعمال کرتے ہیں۔
 گٹمین نے مزید کہا کہ  مسئلہ یہ ہے کہ یہ گرمیوں میں ہوا جب اسرائیل میں پانی کی مانگ اپنی بلند ترین سطح پر ہوتی ہے،صورتحال چیلنجنگ رہی ہے۔‘‘ اس کے علاوہ اسرائیل اوشیانوگرافک اور لیمنولوجیکل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی میرین ایکولوجسٹ تمر گائے حائم نے کہا کہ طحالب کا پھول اس وقت ہوتا ہے جب پانی میں ماحولیاتی عوامل کا صحیح امتزاج اکٹھا ہو جاتا ہے جو طحالب کو تیزی سے بڑھنے دیتے ہیں۔ ان میں غذائی اجزاء، درجہ حرارت، روشنی، لہریں اور اختلاط شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: امریکہ: ٹرمپ کی تصویر والے سکےکی چو طرفہ مذمت، سوشل میڈیا پر ٹرول، اسے ’’آزادی کی موت‘‘ قرار دیاگیا

یاد رہے کہ ڈی سیلینیشن سہولیات اس سے قبل طحالب یا جیلی فش کی وجہ سے بند ہونے پر مجبور ہوئی ہیں، لیکن ساحل کے بڑے حصے پر متعدد سہولیات کا بند ہونا یقینی طور پر غیر معمولی ہے، جس سے ملک کو نمٹنے کا طریقہ تلاش کرنے کی ضرورت ہے ۔ جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ عارضی بحران ایک وسیع تر تشویش کو بھی جنم دیتاہے۔ اور خشک سالی کا خطرہ پیدا کرسکتا ہے۔ مزید برآں تیل کا اخراج ایک اور بڑی تشویش ہے۔ بار زیو نے کہا، ’’یہ سوال نہیں ہے، بلکہ یہ ہے کہ کب ڈی سیلینیشن سہولیات کے قریب تیل کا اخراج ہوگا۔بہت سے پلانٹ ان ممالک میں ہیں جہاں پانی کی کمی ہے اور جو بڑے تیل پیدا کرنے والے بھی ہیں، جیسے خلیجی ریاستیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ایک اخراج ممکنہ طور پر پلانٹس کو اس مائیکرو ایلجی پھول کے مقابلے میں بہت طویل عرصے تک بند رکھ سکتا ہے۔ یہ میرے لیے کہیں زیادہ پریشان کن ہے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK