اسرائیلی وزیر خزانہ بیزالیل اسموتریچ نے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیل کی غزہ میں جارحیت جیسی جنگ شروع کرنے کا مطالبہ کیا ہے، اس نے اسرائیلی اخبار یدیعوت احرونوت کو بتایا کہ اسرائیل کو مغربی کنارے میں وہی کرنا چاہیے جو اس نے غزہ میں کیا۔
EPAPER
Updated: September 28, 2026, 2:06 PM IST | Tel Aviv
اسرائیلی وزیر خزانہ بیزالیل اسموتریچ نے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیل کی غزہ میں جارحیت جیسی جنگ شروع کرنے کا مطالبہ کیا ہے، اس نے اسرائیلی اخبار یدیعوت احرونوت کو بتایا کہ اسرائیل کو مغربی کنارے میں وہی کرنا چاہیے جو اس نے غزہ میں کیا۔
اسرائیلی وزیر خزانہ بیزالیل اسموتریچ نے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیل کی غزہ میں جارحیت جیسی جنگ شروع کرنے کا مطالبہ کیا ہے، اس نے اسرائیلی اخبار یدیعوت احرونوت کو بتایا کہ اسرائیل کو مغربی کنارے میں وہی کرنا چاہیے جو اس نے غزہ میں کیا۔ساتھ ہی اسموتریچ نے فلسطینی اتھارٹی کو ختم کرنے کے مطالبے کا بھی اعادہ کیا، جو مقبوضہ مغربی کنارے کے بعض حصوں پر محدود کنٹرول رکھتی ہے۔اس کے بیان کے بعد اسرائیل نے مغربی کنارے میں فلسطینیوں کی نقل و حرکت پر سخت پابندیاں لگا دی ہیں، جن میں چیک پوسٹیں بند کرنا اور سڑکیں بلاک کرنا شامل ہے، جس سے لوگ کام، گھروں اور بنیادی سہولیات سے محروم ہو رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی اور امریکیوں میں اقوام متحدہ کے تعلق سے سخت ناپسندیدگی: سروے
واضح رہے کہ اکتوبر۲۰۲۳ء میں غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے اسرائیلی فوج اور غیر قانونی آبادکاروں نے مقبوضہ مغربی کنارے میں حملے تیز کر دیے ہیں، جن میں۱۲۰۶؍ سے زائد فلسطینی شہید،۱۳۳۰۰؍ سے زائد زخمی اور تقریباً ۲۶۰۰۰؍ گرفتار ہوئے۔غیر قانونی یہودی آبادکاروں اور اسرائیلی فوج کے حملوں میں گھروں اور عمارتوں کو مسمار کرنا، مساجد کو جلانا، کھیتوں کو بلڈوز کرنا، کسانوں کو ان کی زمینوں تک رسائی سے روکنا اور فلسطینیوں کو بے گھر کرنا شامل ہے، ساتھ ہی غیر قانونی بستیوں کی توسیع بھی جاری ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ماریشس کا اسرائیلی پرواز کو لینڈنگ کی اجازت سے انکار، پرواز منسوخ
ذہن نشین رہے کہ غزہ میں اسرائیل کی جارحانہ جنگ نے اکتوبر۲۰۲۳ء سے اب تک تقریباً ۷۴۰۰۰؍فلسطینیوں کو شہید اور۱۷۵۰۰۰؍ سے زائد کو زخمی کیا ہے، جبکہ تقریباًغزہ کا ۹۰؍ فیصد بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو چکا ہے۔مزید برآں ۱۰؍ اکتوبر۲۰۲۵ء کو جنگ بندی کے نفاذ کے باوجود اسرائیلی فوج نے غزہ میں روزانہ حملے جاری رکھے ہیں، جن میں۱۴۰۰؍ سے زائد فلسطینی شہید اور تقریباً۵۰۰۰؍ زخمی ہوئے ہیں۔