ایک سروے کے مطابق اسرائیلی اور امریکی عوام میں اقوام متحدہ کے بارے میں سخت ناپسندیدگی پائی جاتی ہے، جبکہ دیگر ممالک میں اقوام متحدہ کے تعلق سے امید افزا رجحان پایا جاتا ہے۔
EPAPER
Updated: September 27, 2026, 8:10 PM IST | New York
ایک سروے کے مطابق اسرائیلی اور امریکی عوام میں اقوام متحدہ کے بارے میں سخت ناپسندیدگی پائی جاتی ہے، جبکہ دیگر ممالک میں اقوام متحدہ کے تعلق سے امید افزا رجحان پایا جاتا ہے۔
ایک نئی رائے شماری کے مطابق، امریکی اور اسرائیلی ان ممالک میں شامل ہیں جو اقوام متحدہ کی کارکردگی کو سب سے زیادہ ناپسند کرتے ہیں۔گیلپ کے سروے کے مطابق، اسرائیلی اقوام متحدہ کے بارے میں سب سے زیادہ منفی رائے رکھتے ہیں، صرف۹؍ فیصد لوگ اس کے اقدامات کی حمایت کرتے ہیں اور خالص ریٹنگ۶۱؍ ہے۔واضح رہے کہ یہ اعداد و شمار اقوام متحدہ کے لیے ایک مشکل دور میں سامنے آئے ہیں، جب یہ عالمی تقسیم کے گہرے ہوتے وقت میں انسانی آفات اور جنگوں سے نمٹنے کی کوشش کر رہی ہے، اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ بہت سے اقوام متحدہ کے اقدامات کے خلاف ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: اقوام متحدہ میں ہندوستان کا پاکستان پر دہشت گردی پر دوہرے معیار کا الزام
مزید برآں اسرائیلی حکومت نے خاص طور پر غزہ میں جنگ کے دوران اس ادارے پر بار بار جانب داری کا الزام لگایا ہے۔مئی میں، اسرائیلی وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ کو ایک سیاسی اور بدعنوان تنظیم قرار دیا جس نے اپنے بانی اصولوں کو ترک کر دیا ہے اور منظم طریقے سے اسرائیل کو اپنا بنیادی ہدف بنایا ہے۔واضح رہے کہ اس ہفتے اقوام متحدہ نے نیویارک میں اپنی جنرل اسمبلی کا اجلاس منعقد کیا، جس میں ٹرمپ، اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان سمیت دیگر عالمی سربراہان کی تقریریں ہوئیں۔جبکہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیوغطریس نے عام بحث کے آغاز میں مندوبین سے کہا کہ ،’’مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیل کا تشدد، بے دخلی اور غیر قانونی آباد کاری کی توسیع امن کی راہ کو تباہ کر رہی ہے اور نسلی صفائی کا خطرہ بڑھا رہی ہے۔‘‘
گیلپ نے پایا کہ امریکی بھی اس ادارے سے متاثر نہیں ہیں، اکثریت کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ اپنے پانچ مرکزی اہداف میں خراب کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہے: انسانی امداد (۵۳؍ فیصد)، ترقی کی حمایت (۶۳؍ فیصد)، انسانی حقوق کا تحفظ (۷۰؍ فیصد)، بین الاقوامی قانون کی پاسداری (۷۰؍ فیصد)، امن اور سلامتی کی بحالی (۷۳؍ فیصد)۔جبکہ ٹرمپ نے بار ہا کہا ہے کہ اقوام متحدہ اپنی انتظامیہ کے مقابلے میں عالمی امن کے قیام میں غیر مؤثر ہے۔ یاد رہے کہ ٹرمپ نے۲۰۲۵ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنی تقریر کے دوران کہا تھا، ’’اقوام متحدہ کا مقصد کیا ہے؟ یہ اپنی صلاحیت کے مطابق کام کرنے کے قریب بھی نہیں ہے۔‘‘
بعد ازاں گیلپ نے کہا کہ گزشتہ دو دہائیوں سے، امریکیوں نے بڑی حد تک اس ادارے کے وجود کی حمایت کی ہے لیکن یہ نہیں سمجھتے کہ یہ اپنے سامنے آنے والے مسائل کو مؤثر طریقے سے حل کر رہی ہے۔اس نے مزید کہا، ’’آخری بار جب امریکیوں کی اکثریت نے اقوام متحدہ کی کارکردگی کی حمایت کی تھی وہ نائن الیون کے بعد کا دور تھا۔ حالانکہ اقوام متحدہ کے امن کے قیام کے علاوہ بھی بہت سے عالمی کردار ہیں، لیکن ان شعبوں میں بھی، امریکی اس کی کارکردگی کی حمایت سے زیادہ تنقید کرتے ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: نیتن یاہو نے امریکہ میں اسرائیل کے وقار کو ’بے مثال پستی‘ تک پہنچا دیا ہے: ہاریٹز
تاہم باقی دنیا میں اقوام متحدہ کی تصویر کہیں زیادہ مثبت ہے، جو مجموعی طور پر اس ادارے کی کارکردگی کے بارے میں منفی سے زیادہ مثبت ہے، اقوام متحدہ کو۵۰؍ فیصد کی درمیانی منظوری ریٹنگ حاصل ہے، اس کے علاوہ خالص منظوری اسکور۲۴؍ فیصدسے زائد ہے۔گیلپ نے نتائج کے تجزیے میں کہا کہ جنوب مشرقی ایشیا اور سب صحارا افریقہ نے اقوام متحدہ کو سب سے مضبوط علاقائی حمایت دی، جہاں منظوری نامنظوری سے۵۱؍ اور۴۳؍ پوائنٹس زیادہ ہے۔علاوہ ازیں۶۷؍ ممالک میں، اقوام متحدہ کو اس کی کارکردگی پر۵۰؍ فیصد سے زیادہ منظوری حاصل ہے، جبکہ صرف نو ممالک ایسے ہیں جہاں۵۰؍ فیصد سے زیادہ نامنظوری کا اظہار کیا جارہا ہے۔
گیلپ کی تجزیہ کار جولی رے نے کہا کہ’’ اگلے سیکرٹری جنرل، جو دسمبر۲۰۲۶ء میں غطریس کی آخری مدت ختم ہونے پر ان کی جگہ لیں گے، ایک ایسی تنظیم ورثے میں پائیں گے جس کے پاس عوامی نیک خواہشات کی کافی بنیاد ہے لیکن دنیا بھر میں اس کے بارے میں رائے میں تیز اختلافات بھی ہیں‘‘ ، انہوں نے مزید کہا کہ،’’ یہ تقسیم سلامتی کونسل تک پھیلی ہوئی ہے۔‘‘انہوں نے مزید کہا، ’’کچھ جگہوں پر، چیلنج منفی رائے پر قابو پانے سے زیادہ واقفیت اور سمجھ بوجھ پیدا کرنے کا ہو سکتا ہے۔ جہاں رائے کم مستحکم ہے، وہاں اقوام متحدہ کیا کرتی ہے اور کیا فراہم کرتی ہے یہ دیکھنا خاص طور پر اہم ہو سکتا ہے۔‘‘