ماریشس نے اسرائیل سے آنے والی پرواز کو لینڈنگ کی اجازت دینے سے انکار کر دیا،ٹور آپریٹر کا کہنا ہے کہ جس سے پرواز منسوخ ہو گئی،اسپرٹ ورلڈ پروڈکشنز کا کہنا ہے کہ انکار سیاسی اور سفارتی پہلوؤں کی بنیاد پر کیا گیا۔
EPAPER
Updated: September 27, 2026, 5:01 PM IST | Mauritius
ماریشس نے اسرائیل سے آنے والی پرواز کو لینڈنگ کی اجازت دینے سے انکار کر دیا،ٹور آپریٹر کا کہنا ہے کہ جس سے پرواز منسوخ ہو گئی،اسپرٹ ورلڈ پروڈکشنز کا کہنا ہے کہ انکار سیاسی اور سفارتی پہلوؤں کی بنیاد پر کیا گیا۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق، ماریشس نے سنیچر کو اسرائیل سے آنے والی ایک شیڈول پرواز کو لینڈنگ کی اجازت دینے سے انکار کر دیا، جس کی وجہ سے منظوری حاصل کرنے کی کوششیں ناکام ہونے کے بعد پرواز منسوخ کر دی گئی۔وائی نیٹ نیوز ویب سائٹ نے کہا کہ ایئر سیشلز کی پرواز اسرائیل سے ماریشس کے لیے روانہ ہونے والی تھی لیکن حکام کی جانب سے لینڈنگ کی اجازت نہ ملنے کے بعد اسے منسوخ کر دیا گیا۔جبکہ اس سفر کے پیچھے اسرائیلی ٹور آپریٹر اسپرٹ ورلڈ پروڈکشنز نے کہا کہ پرواز کو کئی ماہ قبل منظوری مل گئی تھی۔تاہم کمپنی نے کہا کہ انہیں بتایا گیا کہ انکار سیاسی اور سفارتی پہلوؤں کی بنیاد پر کیا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل کی ۹۴۲؍ چیک پوسٹ فلسطینیوں کی نقل و حرکت کو محدود کررہی ہیں: اقوام متحدہ
بعد ازاں ماریشس کے حکام نے ابھی تک اس فیصلے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔اس کے علاوہ، معاملے سے واقف ذرائع نے اسرائیل کے چینل۱۲؍ کو بتایا کہ انکار اس ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی تقریر کے دوران ماریشس کے وفد کی غیر موجودگی سے منسلک تھا۔جبکہ اسپرٹ ورلڈ پروڈکشنز نے کہا کہ وہ متاثرہ مسافروں کے انتظامات کے لیے ایئر سیشلز اور حکام کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: یواین کاغیر قانونی اسرائیلی بستیوں کی سرگرمی میں ملوث فہرست میں۶۱ ؍کمپنی کااضافہ
واضح رہے کہ غزہ میں اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں ۷۴؍ ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور تقریباً ایک لاکھ ۷۵؍ ہزار سے زائد زخمی ہوئے، ان میں زیادہ خواتین اور بچے شامل ہیں، اس کے علاوہ شہری علاقوں پر بمباری کے سبب پورا غزہ کھنڈر میں تبدیل ہوگیا، اورتمام بنیادی ڈھانچے مسمار کردئے گئے۔ اس اسرائیلی جارحیت نے دنیا بھر کے امن پسند عوام میں شدید ناراضگی پیدا کردی، اور دنیا بھر میں اسرائیلی مظالم کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے۔ بڑھتی عوامی نارضگی کا اثر یہ ہوا کہ حکومتوں نے اسرائیل سے دوری بنانا شروع کردی، اس کے علاوہ اسرائیل سے سیاسی، تجارتی رشتوں کو بھی ختم کردیا۔جبکہ عوام میں اسرائیل کے بائیکاٹ کی مہم زور پکڑ گئی۔ ماریشس کا اسرائیلی جہازوں کو اپنے ملک میں اترنے کی اجازت نہ دینا بھی اسی مہم کا ایک حصہ قرار دیا جارہاہے۔