Updated: September 04, 2026, 7:04 PM IST
| Tel Aviv
انتہا پسند اسرائیلی وزیر ایتامار بین گویر نے ۱۸؍ لاکھ سے زائد فلسطینوں کی غزہ سے بے دخلی کا ۷؍ سالہ منصوبہ پیش کیا ہے،اس منصوبے میں اس پر عملدرآمد کے لیے ایک خصوصی وزارت قائم کرنا اور فلسطینیوں کو پناہ دینے وانے ممالک میں ’’انضمام پیکجز‘‘کے لیے فنڈ فراہم کرنا شامل ہے۔
انتہا پسند اسرائیلی وزیر ایتامار بین گویر۔ تصویر: ایکس
اسرائیلی میڈیا کے مطابق، اسرائیلی وزیر اور انتہا پسند یہودی پاور پارٹی کے لیڈر ایتامار بین گویر نے محصور غزہ سے۱۸؍ لاکھ ۶۰؍ ہزار فلسطینیوں کونام نہاد ’’رضاکارانہ نقل مکانی‘‘ کے تحت سات سالوں میں نکالنے کا نسلی صفائی کا منصوبہ پیش کیا ہے۔ بین گویر نے جمعرات کو ایک پریس کانفرنس میں اپنی انتخابی مہم کے حصے کے طور پر یہ منصوبہ پیش کیا، جس کا نام’’Disengagement 710‘‘ رکھا گیا ہے۔اس منصوبے میں اس پر عملدرآمد کے لیے ایک خصوصی وزارت قائم کرنا اور فلسطینیوں کو پناہ دینے والے ممالک میں ’’انضمام پیکجز‘‘کے لیے فنڈ فراہم کرنا شامل ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ۶۰؍ فیصد غزہ پر ہمارا قبضہ ہے، مزید توسیع کریں گے: اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو کی شرانگیزی
بعد ازاں بین گویر کا دعویٰ ہے کہ کچھ ممالک فلسطینیوں کو قبول کرنے کو تیار ہیں، تاہم یدیعوت آخرونوت اخبار نے بتایا کہ اس وقت کوئی ایسا ملک نہیں جس نے غزہ سے بڑی تعداد میں فلسطینیوں کو لینے پر اتفاق کیا ہو۔رپورٹ کے مطابق، اس منصوبے کا ہدف پہلے سال ڈھائی لاکھ، تین سالوں میں ۱۱؍ لاکھ ۱۰؍ ہزار اور سات سالوں میں تقریباً ۱۸؍ لاکھ ۶۰؍ ہزار فلسطینیوں کو نکالنا ہے۔ بین گویر اس اقدام کو اپنی انتخابی مہم کا مرکزی حصہ بنانے کا ارادہ رکھتاہے، اور اس کی پارٹی آئدہحکومت میں شامل ہونے کے لیے مذاکرات میں اسے کلیدی شرط بنائے گی۔ جبکہ اس منصوبے میں غزہ چھوڑنے والے ہر فرد یا خاندان کے لیے منزل کا ملک، قانونی حیثیت، دستاویزات، ویزا، سفری اخراجات اور ابتدائی رہائش فراہم کرنا شامل ہے۔ یہ منصوبہ ۱۲؍ اصولوں پر مبنی ہے، جن میں ’’رضاکارانہ روانگی‘‘ اور یہ لازمی شرط شامل ہے کہ ہر وہ ملک جو فلسطینیوں کو پناہ دے، انہیں قانونی حیثیت فراہم کرنے کے لیے تیار ہو۔اس میں کارکردگی، انفرادی سیکیورٹی اسکریننگ اور سالانہ اہداف کی بنیاد پر فلسطینیوں کو لینے والے ممالک اور اداروں کو ’’ادائیگیاں‘‘تجویز کی گئی ہیں، نیز درخواستوں، منظوریوں، روانگیوں اور اخراجات کی ماہانہ رپورٹس کا مطالبہ کیا گیا ہے۔مزید برآںاس منصوبے کو شروع کرنے کے لیے ابتدائی طور پر ۳؍ اعشاریہ ۳؍ بلین ڈالر کی اسرائیلی سرمایہ کاری درکار ہے، جبکہ بین الاقوامی شرکت اور منزل ممالک کے ساتھ معاہدوں کے تحت۱۶؍ اعشاریہ ۶؍ بلین ڈالر تک کا مالی فریم ورک بھی متوقع ہے۔
یہ بھی پڑھئے: بلڈوزر کے سامنے فلسطینی خاتون زیتون کے درخت سے لپٹ گئی
بین گویر نے ’’نقل مکانی کی وزارت ‘‘قائم کرنے کا مطالبہ کیا ہے جس میں ایک وزیر اور ایک خصوصی افسر اس منصوبے کا انچارج ہو گا۔ واضح رہے کہ فی الحال محصور غزہ میں تقریباً ۲۱۳ لاکھ ۳۰؍ ہزار فلسطینی رہتے ہیں۔ اسرائیل، جو غزہ کے ۷۰؍ فیصد حصہ پر قابض ہے، اکتوبر ۲۰۲۳ ءسے جاری نسل کشی میں اب تک ۷۳۰۰۰ ؍سے زائد فلسطینیوں (جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں) کو قتل کر چکا ہے اور ۱۷۴۰۰۰؍ سے زائد کو زخمی کیا ہے، جبکہ محصور علاقے کو بیشتر کھنڈرات میں تبدیل کر دیا اور پوری آبادی کو بے گھر کر دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا تخمینہ ہے کہ غزہ میں اسرائیلی نسل کشی سے اصل ہلاکتوں کی تعدا ممکنہ طور پر ۲؍ لاکھ تک پہنچ سکتی ہے۔