اسرائیلی اپوزیشن لیڈر نے حکومت پر طیارہ واقعے پر سستی سیاست کا الزام عائد کیا،یائر لاپڈ نے کہا کہ نیتن یاہو کے ساتھ سیکیورٹی بریفنگ میں فلائی دبئی واقعے جیسی کوئی بات نہیں بتائی گئی تھی۔
EPAPER
Updated: October 01, 2026, 10:31 AM IST | Tel Aviv
اسرائیلی اپوزیشن لیڈر نے حکومت پر طیارہ واقعے پر سستی سیاست کا الزام عائد کیا،یائر لاپڈ نے کہا کہ نیتن یاہو کے ساتھ سیکیورٹی بریفنگ میں فلائی دبئی واقعے جیسی کوئی بات نہیں بتائی گئی تھی۔
اسرائیلی اپوزیشن لیڈر یائر لاپڈ نے بدھ کو حکومت پر الزام لگایا کہ وہ فلائی دبئی مسافر طیارے کے واقعے کے بعد اسرائیل کی سلامتی کی قیمت پر سستی سیاست کر رہی ہے۔لاپڈ نے اس واقعے کو منگل کی شام وزیر اعظم نیتن یاہو سے ملنے والی سیکیورٹی بریفنگ سے جوڑنے کی کوششوں کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے امریکی سوشل میڈیا کمپنی ایکس پر کہا، ’’میں یہ واضح کر دوں۔ آج صبح کے طیارہ واقعے سے ملتی جلتی کوئی چیز بھی کل رات وزیر اعظم کے ساتھ سیکیورٹی بریفنگ میں نہیں آئی تھی۔ نہ اس جیسی، نہ اس کی یاد دلانے والی، نہ اشارہ بھی۔‘‘لاپڈ نے حکومت سے منسلک آوازوں پر الزام لگایا کہ وہ اس واقعے کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ’’وزیر دفاع بنا تو یحییٰ سنوار سمیت تمام فلسطینی شہداء کی لاشیں جلادوں گا‘‘
واضح رہے کہ لاپڈ کا یہ تبصرہ ایک دن بعد آیا جب نیتن یاہو نے انہیں۲۷؍ اکتوبر کے انتخابات سے قبل اسرائیل پر ممکنہ حملے کی غیر واضح وارننگ کے درمیان سیکیورٹی بریفنگ دی تھی۔ملاقات کے بعد، لاپڈ نے کہا تھا کہ عوام میں خوف و ہراس پھیلانے کی کوئی وجہ نہیں ہے اور سیکیورٹی خطرات کو پیشہ ورانہ اور ذمہ دارانہ طریقے سے سنبھالا جانا چاہیے۔ذہن نشین رہے کہ یہ تنازع بدھ کو فلائی دبئی کی پرواز FZ1073 کے ہنگامی واقعے کے بعد سامنے آیا، جو دبئی سے تل ابیب جا رہی تھی، جس نے ہنگامی اور غیر قانونی مداخلت کے کوڈز بھیجے اور تبوک، سعودی عرب میں بحفاظت لینڈنگ سے پہلے اپنا راستہ تبدیل کر لیا۔ اس واقعے کے دوران اسرائیلی لڑاکا طیاروں کو بھیجا گیا۔
بعد ازاں اسرائیلی حکام نے ابتدائی طور پر ہائی جیکنگ یا سیکیورٹی واقعے کے امکان کی تحقیقات کی، جبکہ بعد کی رپورٹس میں کاک پٹ میں جھگڑے کی طرف اشارہ کیا گیا۔جبکہ تبوک میں پرنس سلطان بن عبدالعزیز انٹرنیشنل ایئرپورٹ نے ایک بیان میں کہا کہ طیارے کے کپتان اور فرسٹ آفیسر دونوں زخمی ہوئے اور انہیں ضروری طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔