Inquilab Logo Happiest Places to Work

لبنان سے اسرائیلی فوجیں نہیں ہٹائی جائیں گی: نیتن یاہو

Updated: June 17, 2026, 11:57 AM IST | Agency | Jerusalem

ایرانی وزیر خارچہ عباس عراقچی نے واضح کیا کہ ’’ اگر لبنان سے اسرائیلی فوج نہیں ہٹائی گئی تو جنگ بندی معاہدہ خطرے میں پڑ سکتا ہے ۔‘‘

Netanyahu.Photo:INN
نیتن یاہو۔ تصویر:آئی این این
 اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ وہ بعض اوقات امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی رائے سے اتفاق نہیں کرتے...اور انہوں نے لبنان میں سیکوریٹی بفر ژون میں فوج کی موجودگی برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ تبصرہ امریکہ اور تہران کے درمیان جنگ بندی معاہدے کے اعلان کے بعد ان کا پہلا رد عمل ہے۔
نیتن یاہو نے منگل کو ایک ٹیلی پریس کانفرنس میں کہا کہ’’ میں اور ٹرمپ شراکت دار ہیں، ہم بہت سے معاملات پر متفق ہیں اور کچھ معاملات پر اختلاف رکھتے ہیں۔ ہم نے لبنان میں ایک سیکوریٹی بفر ژون قائم کیا ہے اور ہم وہاں موجود رہیں گے... اور امریکہ اس معاملے میں ہمارے فیصلے کا احترام کرتا ہے۔‘‘انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ اسرائیلی فوج غزہ اور شام میں بھی بفرژون میں تب تک رہے گی جب تک ضرورت ہوگی۔اسی طرح نیتن یاہو نے کہا کہ ہم ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کیلئے ہر ضروری اقدام کریں گے۔ہم ایرانی خطرے کو اسرائیل سے دور کر یں گے اور ایران ’شر کا محور‘ توڑ کر رہیں گے۔ یاد رہے کہ امریکہ اور ایران معاہدے میں اسرائیل شریک نہیں تھا۔
 
 
یہ صورت حال ایسے وقت میں پیش آئی جب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے پیر کو جی ۷؍ کے سربراہی اجلاس میں شرکت کیلئے فرانس پہنچنے کے فوراً بعد کہا کہ امریکہ اور ایران نے خطے میں جنگ کے خاتمے کیلئے مفاہمت کی یاد داشت پر دستخط کر دیئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ معاہدے پر مکمل طور پر دستخط ہو چکے ہیں اور آبنائے ہرمز پہلے ہی جزوی طور پر کھل چکا ہے۔ امریکہ اور پاکستانی ثالث نے اعلان کیا ہے کہ معاہدے پر دستخط جمعہ کے روز سوئٹزرلینڈ میں ہونا طے پایا ہے۔
 
 
ایران کا رد عمل
ادھر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ ایران اور لبنان کے تنازعات ایک دوسرے سے مربوط ہیںہیں اور لبنان میں اسرائیلی فوج کی مسلسل موجودگی یا قبضہ امریکہ اور ایران کے درمیان دستخط کردہ مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔ تہران میں سفارت کاروں سے گفتگو کرتے ہوئے عباس عراقچی نے کہا کہ لبنان میں اسرائیلی قبضے کا جاری رہنا ناقابل قبول ہے اور ایران اسے معاہدے کی روح کے منافی سمجھے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اب لبنان کے خلاف کسی بھی نئے اسرائیلی حملے کو ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔ایرانی وزیر خارجہ نے زور دیا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان طے پانے والے سمجھوتے کا مقصد خطے میں کشیدگی کا خاتمہ اور تمام محاذوں پر امن کا قیام ہے، اسلئے لبنان میں جاری تنازع بھی اس عمل کا اہم حصہ ہے۔عباس عراقچی نے امید ظاہر کی ہے کہ معاہدے کے نفاذ کے بعد خطے میں استحکام پیدا ہوگا، تاہم اس کیلئے ضروری ہے کہ تمام فریق اپنی ذمہ داریوں پر عمل کریں اور کسی بھی ایسے اقدام سے گریز کریں جو امن عمل کو متاثر کر سکتا ہو۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK