اسرائیل کی عرب جوائنٹ لسٹ اور ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنماؤں نے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی حکومت کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے اپنی کوششوں میں تال میل قائم کرنے پر منگل کو اتفاق کیا۔ گزشتہ ہفتے ہوئے نیسٹ انتخابات کے بعد دونوں جماعتوں کے درمیان یہ پہلی ملاقات تھی۔
یائر گولان (دائیں)، یوسف جبارین اور احمد تیبی بات چیت کرتے ہوئے۔ تصویر: آئی این این
اسرائیل کی عرب جوائنٹ لسٹ اور ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنماؤں نے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی حکومت کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے اپنی کوششوں میں تال میل قائم کرنے پر منگل کو اتفاق کیا۔ گزشتہ ہفتے ہوئے نیسٹ انتخابات کے بعد دونوں جماعتوں کے درمیان یہ پہلی ملاقات تھی۔ عرب جوائنٹ لسٹ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق، پارٹی کے سربراہ یوسف جبرین اور پارلیمانی گروپ کے رہنما احمد طیبی نے ڈیموکریٹس کے سربراہ یائر گولان سے ملاقات کی۔ اس دوران۲۷؍ اکتوبر کو ہونے والے انتخابات کے نتائج کے بعد سیاسی صورت حال کا جائزہ لیا گیا اور دونوں جماعتوں کے درمیان تال میل کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ابتدائی نتائج کے مطابق،۱۲۰؍ رکنی نیسٹ میں نیتن یاہو کے اتحاد کو۵۳؍ نشستیں حاصل ہوئی ہیں، جبکہ اپوزیشن جماعتوں نے۴۸؍ نشستیں جیتی ہیں۔ عرب جماعتوں کو مجموعی طور پر۱۹؍ نشستیں ملی ہیں، جن میں جوائنٹ لسٹ کو۱۱؍ اور رام پارٹی کو آٹھ نشستیں حاصل ہوئی ہیں۔
بیان کے مطابق، دونوں فریقوں نے نیتن یاہو، بن گویر اور اسموٹریچ کی حکومت کو ہٹانے اور اس کی جگہ نئی حکومت تشکیل دینے کے لیے پارلیمانی اکثریت کے استعمال میں اپنی مشترکہ دلچسپی پر زور دیا۔ بیان میں کہا گیا کہ جبرین اور طیبی نے اسرائیل کے عرب شہریوں کو درپیش اہم مسائل بھی اٹھائے اور ان کے حل کے لیے عملی اور ٹھوس اقدامات آگے بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا۔ اسرائیل کی ایک کروڑ سے زائد آبادی میں عرب شہریوں کا تناسب تقریباً۲۰؍ فیصد ہے۔
یہ بھی پڑھئے: آر ایس ایف کی۲۰۲۶ء پریس کی آزادی مخالف فہرست میں اڈانی گرپ، اوپ انڈیا شامل
دونوں جماعتوں نے آئندہ سیاسی سرگرمیوں سے قبل بات چیت اور تال میل جاری رکھنے، پارلیمانی تعاون مضبوط بنانے اورمساوات اور امن پر مبنی ایجنڈے کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا۔اسرائیل کے صدر اسحاق ہرزوگ بدھ اور جمعرات کو نیسٹ میں نمائندگی رکھنے والی سیاسی جماعتوں سے مشاورت کریں گے۔ اس کے بعد وہ فیصلہ کریں گے کہ نئی حکومت کی تشکیل کی ذمہ داری کس رکن پارلیمنٹ کو سونپی جائے۔ اپوزیشن کے چیلنج بلاک کی قیادت کرنے والی یاشر پارٹی کے سربراہ گادی آئزنکوٹ کو حکومت سازی کے لیے سب سے زیادہ حمایت ملنے کا امکان ہے، بشرطیکہ انہیں عرب ارکان پارلیمنٹ کی حمایت حاصل ہو جائے۔ گولان بھی چیلنج بلاک کے اہم لیڈروں میں شامل ہیں۔ نیتن یاہو اب تک مختلف ادوار میں پانچ مرتبہ اسرائیل کے وزیر اعظم رہ چکے ہیں اور وہ ملک میں سب سے طویل عرصے تک اس عہدے پر فائز رہنے والے وزیر اعظم ہیں۔ انہوں نے۲۰۲۲ء کے اواخر سے موجودہ حکومت کی قیادت سنبھال رکھی ہے۔ اس اتحاد کو بڑے پیمانے پر اسرائیل کی تاریخ کی سب سے زیادہ دائیں بازو کی حکومت قرار دیا جاتا رہا ہے۔ یاہو اس وقت بدعنوانی کے الزامات کا بھی سامنا کر رہے ہیں۔