• Wed, 04 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ریزرو ہی نہیں تتکال ٹکٹ کی فراہمی بھی انتہائی مشکل مرحلہ

Updated: November 04, 2026, 3:50 PM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai

یوپی ،بہار اورمغربی بنگال جانے والے مسافر ٹکٹ کے لئے پریشان۔ ۲؍ ماہ پہلے بکنگ کرانے پر بھی ریزرو ٹکٹ ملناآسان نہیں تھا ، اب تتکال کیلئےدشواری۔

These days, traveling by long-distance trains is becoming extremely difficult. Photo: INN
ان دنوں طویل مسافتی ٹرینوں سے سفر کرنا انتہائی مشکل ہوتا جارہا ہے۔ تصویر: آئی این این

تہواروں کے سیزن میں یوپی، بہار اور مغربی بنگال جانے والے ہزاروں مسافروں کے لئے کنفرم ٹکٹ کا حصول انتہائی مشکل ترین مرحلہ پہلے بھی تھا، اب بھی ہے اور زائد رقم دینے کے باوجود تتکال ٹکٹ کے لئے مارا ماری ہے۔ مسافر پریشان ہیں، ٹکٹ ندارد ہے، مجبورا ًدلالوں سے رابطہ قائم کرنے اور ٹکٹ کے اصل دام سے دوگنا بلکہ تین گنا زائد رقم دینے کے باوجود کنفرم ٹکٹ ملنا آسان نہیں۔ 

ویٹنگ ٹکٹ بھی آسان نہیں

حالات یہ ہیں کہ ان روٹس کی بیشتر ٹرینوں میں پورے نومبر مہینے میں ویٹنگ ٹکٹ بھی نہیںہے جبکہ دسمبر تک زیادہ ترگاڑیوں میںریزرو ٹکٹ کی گنجائش نہیں ہے۔

پریشانی مسافروں کی زبانی

وکھرولی میں رہنے والے وارث علی شیخ نے نمائندۂ انقلاب سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ ’’ کیاالٰہ آباد کا رہنے والا ہونا جرم ہے؟ ‘‘ان کے اس سوال پر کہ ایسا کیوں کہہ رہے ہیں تو انہوںنے کہاکہ’’ پورے سال خواہ کوئی مہینہ ہو، ٹکٹ کی مارا ماری رہتی ہے۔ جو لوگ روزی روٹی کےلئے ممبئی میںرہتے ہیں ان کے لئے گرمی کی چھٹی یا دیوالی ہی وہ موقع ہوتا ہے جب ان کو آبائی وطن جانا ہوتا ہےمگرٹکٹ نہ ملنے سے یہ سفر انتہائی مشکل ہوجاتاہے۔‘‘ وارث علی شیخ نےیہ بھی بتایا کہ ’’ دو ماہ پہلے رات بھر جاگ کرٹکٹ کے لئےقطار میں کھڑے ہونے کےباوجود پہلے نمبر پر بھی ویٹنگ ٹکٹ ملتا ہے اور تتکا ل کےلئے دو گنا بلکہ تین گنازائد دام دینے پر بھی اس کی ضمانت نہیںہوتی کہ اپنی پسندکی ٹرین اور تاریخ کی مناسبت سے ٹکٹ مل جائے۔ پتہ نہیں یہ مشکل کب آسان ہوگی ؟ ان کا یہ بھی سوال تھا کہ آخر ٹکٹ جاتا کہاں ہے؟‘‘ 

یہ بھی پڑھئے: کلیان: برسوں سے نظر انداز کنوؤں کی بحالی کا آغاز

حافظ عبدالجبار خان نے بتایاکہ ’’ ا ن کےسسرال میں شادی ہے، اس کی مناسبت سے انہوں نے دو ماہ قبل بستی جانے کے لئے دلال سے ۲۶؍ہزارروپے میں اے سی تھری ٹائر کا ۶؍ ٹکٹ لیا تھا، اب تاریخ میں کچھ تبدیلی ہوگئی ہے۔ ایسے میں جب ہم ٹکٹ واپس کریں گے توٹکٹ کی اصل قیمت ۹؍۱۰؍ ہزار روپے ملے گی، بقیہ ایجنٹ نے لیا تھا۔ اس طرح  ۱۶؍ ہزار روپے سے زائدنقصان ہوگا۔اس سے بڑی مشکل یہ ہے کہ اب تتکال ٹکٹ کےلئے ایجنٹ کہہ رہا ہے کہ دوگنا زائدیعنی ساڑھے ۴؍ ہزار روپے فی ٹکٹ دینےکے باوجود اے سی تھری ٹائر کا ٹکٹ ملنے کی ضمانت نہیں ہے ۔ سوال یہ ہےکہ آخر کیسے سفر کیا جائے، رشتہ داروں کی ناراضگی کااندیشہ اپنی جگہ اور ٹکٹ نہ ملنے کی پریشانی الگ۔ ریلوے کو چاہئے کہ اس کا مستقل حل تلاش کرے تاکہ ہزاروں مسافروں کی مشکل آسان ہو۔ ‘‘

ریلوے کا جواب 

اس مسئلے پر ریلوے کے ایک سینئر افسر سے رابطہ قائم کرنے پر ان کی دلیل تھی کہ ۲۸؍ ہزا ر سے زائد ریزرویشن کاؤنٹر ہیں، اس کے ساتھ الگ الگ جگہوں پرٹکٹ کی فراہمی ممکن ہوئی ہےاورآن لائن بھی ٹکٹ ملتا ہے۔ اس لئے ٹرینیں جلد فل ہوجاتی ہیں۔ اس کے علاوہ یہ دعویٰ بھی کیا کہ تہواروں کے سیزن میںریلوے کی جانب سے پیشگی تیاری کی جاتی ہے،کثیر تعداد میں اسپیشل ٹرینیں چلائی جاتی ہیں تاکہ مسافر بآسانی اپنی منزل تک پہنچ سکیں۔

ٹکٹ نہ ملنے کی ۵؍ اہم وجہ

ٹکٹ فراہم کرانے والے ایجنٹوں سےاستفسار پر ان کا کہناتھا کہ صاحب !کہا اور لکھا پڑھا جاتا ہے مگر ریلوے انتظامیہ پرکوئی اثر نہیںہوتا ہے۔ ہرسال تہوار کےموسم میں یوپی،بہار اور مغربی بنگال کےہزاروں مسافر پریشان ہوتے ہیں ، ساراڈیٹا ریلوے کے پاس ہے مگر کچھ نہیں ہوتا۔ جب تک مسافروں کی تعداد کے حساب سےٹرینیں نہیں چلائی جائیں گی، مسافر یوں ہی پریشان ہوتے رہیں گے۔۵؍ وجوہات ذیل میں درج کی جارہی ہیں۔ 

 (۱)مسافروں کی تعداد بہت زیادہ ہے اور اس حساب سے ٹرینیں کم ہیں(۲) گاڑیوں میں نارمل سیٹیں کم کردی گئی ہیں اے سی بڑھادی گئی ہیں، اس میںبھی پریمیم تتکال کے نام پرکافی رقم لی جاتی ہے (۳) گنجائش کم ہونے کے سبب ایک منٹ سے کم وقت میں گاڑیاں فل ہوجاتی ہیں (۴) آن لائن ٹکٹ بکنگ پر سسٹم ہائی لوڈ کے سبب عام آدمی کا خود ٹکٹ نکالنا تقریباً ناممکن ہوتا ہے (۵) یہ صورتحال تقریبا ًہرسال کی ہے۔ ریلوے کے لمبے چوڑے دعوے ہیں مگر مسافر پریشان ہیں ۔ ریلوے انتظامیہ کی جانب سے توجہ نہ دینے کے سبب عام مسافر پیسے خرچ کرنے کے باوجود کیڑے مکوڑوں کی طرح سفر کرنے پر مجبور ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK