ریاست کے کسان شدید معاشی بحران سے دوچار ہیں لیکن حکومت نے انہیں بے یار و مددگار چھوڑ دیا ہے۔ بے موسم بارش، فصلوں کے بیمے، فصلوں کے نقصان کے معاوضے اور قرض معافی جیسے کسی بھی معاملے میں کسانوں کو راحت نہیں ملی ہے۔
EPAPER
Updated: November 04, 2026, 3:38 PM IST | Ali Imran | Aurangabad
ریاست کے کسان شدید معاشی بحران سے دوچار ہیں لیکن حکومت نے انہیں بے یار و مددگار چھوڑ دیا ہے۔ بے موسم بارش، فصلوں کے بیمے، فصلوں کے نقصان کے معاوضے اور قرض معافی جیسے کسی بھی معاملے میں کسانوں کو راحت نہیں ملی ہے۔
’’ریاست کے کسان شدید معاشی بحران سے دوچار ہیں لیکن حکومت نے انہیں بے یار و مددگار چھوڑ دیا ہے۔ بے موسم بارش، فصلوں کے بیمے، فصلوں کے نقصان کے معاوضے اور قرض معافی جیسے کسی بھی معاملے میں کسانوں کو راحت نہیں ملی ہے۔ حکومت کی جانب سے اعلان کردہ ۵؍ ہزار روپے کی امدادی رقم بھی بیشتر کسانوں تک نہیں پہنچی ہے۔ کیا محض ۵؍ ہزار روپے میں کسان اپنی دیوالی منائیں گے؟ کسانوں کے مسائل پر حکومت سے جواب طلب کرنے کیلئے ایک بڑا مورچہ نکالا جائے گا۔‘‘ یہ انتباہ شیوسینا (یوبی ٹی ) کے رکن اسمبلی آدتیہ ٹھاکرے نے دیا۔
یہ بھی پڑھئے: ناگپور: مشہور اداکار سیاجی شندے نے ’سہیادری بچاؤ‘ مہم شروع کی
انہوں نے اورنگ آباد ضلع کے ویجاپور تعلقہ کے گارج اور کنڑ تعلقہ کے جیہور گاؤں میں خشک سالی کی صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے کھیتوں کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کھیتوں میں موجود سویابین، تور، مونگ اور کپاس کی فصلوں کا معائنہ کیا اور کسانوں سے براہ راست گفتگو کرتے ہوئے ان کے مسائل، فصلوں کو پہنچنے والے نقصانات اور مشکلات کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔گارج گاؤں کے نوجوان کسان کڈوبا تریبھون نے اپنی پریشانی بیان کرتے ہوئے بتایا کہ کھیتی باڑی میں بھاری نقصان کے باعث وہ شدید مالی بحران کا شکار ہیں۔ انہوں نے جذباتی انداز میں کہا کہ اب یہ سوال کھڑا ہوگیا ہے کہ اپنی بیٹیوں کی دیوالی کیسے منائیں اور انہیں تہوار کے موقع پر میکے کیسے بلائیں؟