ہارون انصاری اسپتال میں جانچ کے دوران ۱۷؍ مریضوں ک رپورٹ میں ڈینگو کی تصدیق ہوئی ۔ ۲۵؍ مریض ٹائیفائیڈ سے متاثر پائے گئے۔
EPAPER
Updated: September 07, 2026, 11:54 AM IST | Inquilab News Network | Malegaon
ہارون انصاری اسپتال میں جانچ کے دوران ۱۷؍ مریضوں ک رپورٹ میں ڈینگو کی تصدیق ہوئی ۔ ۲۵؍ مریض ٹائیفائیڈ سے متاثر پائے گئے۔
صنعتی شہر میں ڈینگو ،ٹائیفائیڈاور نمونیا کے مریضوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے۔ سرکاری اسپتالوںمیں مریضوں کی کثرت ہےلیکن اسپتال انتظامیہ کی طرف سےمعقول معلومات نہیں دی جارہی ہے۔ نجی دواخانوںاوراسپتالوں میںمریضوں کی بھیڑ لگی ہوئی ہے۔اسے دیکھ کر انداز ہوتا ہےکہ ڈینگو اور نمونیا سےمتاثرین کی تعداد بہت زیادہ ہے۔
شہری انتظامیہ کی نگرانی میں جاری ہارون انصاری اسپتال میںآنے والےمریضوں کی جانچ کے دوران واضح ہوا کہ ان میں سے ۱۷؍ مریض ایسے ہیں جن کی میڈیکل رپورٹ میں ڈینگو کے وائرس ہونے کی تصدیق ہوئی۔اسی طرح ۶؍ مریض ڈینگواور۲۵؍مریض ٹائیفائیڈ سے متاثر پائے گئے۔ میونسپل ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر راجندر ڈولارے نے اعداد وشمار کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ڈینگو،ٹائیفائیڈ اورنمونیا سے متاثرین سرکاری اسپتالوں میں بغرض علاج داخل ہورہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ’’گنپتی کے موقع پرریاست میں فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کی جاسکتی ہے‘‘
سرکاری اسپتالوں کےعلاوہ نجی طبّی مراکز پربھی مریضوںکی کثرت دیکھی جارہی ہے۔ ڈاکٹرسعود احمد انصاری (الحمید انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنس،مالیگاؤں)نے کہا کہ بخارمیں مبتلا کافی مریض آرہے ہیں۔ان میں جہاں چار سال کی عمرکےہیںوہیںساٹھ اور اسّی برس کے شہری بھی شامل ہیں۔نمونیا متاثرین کو سانس لینے میں تکالیف کی علامتیں ظاہر ہوتی ہیں۔ڈینگو اور ٹائیفائیڈکے مریضوں میں بخارتیز ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: جان ابراہم نے عالمی فٹبال ستاروں کے بجائے ہندوستانی کھلاڑیوں کو اپنی پسند قرار دیا
ڈاکٹر عمار شفیق انصاری (چونا بھٹی، مالیگاؤں) نے کہا کہ صفائی نظام درست نہ ہونے سے شہرمیں مچھروں کی افزائش تیزی سے ہورہی ہے۔ آلودہ پانی ،گٹروں اور نالوں میں بھنبھناتے مچھروں کا ہدف بننے والےافراد مختلف امراض میںمبتلا ہوجاتے ہیں۔ شہری انتظامیہ کی پہلی ذمےداری ہےکہ وہ صفائی نظام کو درست کرے ۔شہریوں کو پینے اوراستعمال کیلئے صاف شفاف پانی فراہم کرے۔
واضح رہے کہ مالیگاؤں میںموسمی اور وبائی امراض بہت تیزی سے پھیلتے ہیں۔ ڈینگو، ٹائیفائیڈاورنمونیا کے مریضوں کی بڑھتی تعداداس بات کی علامت ہےکہ مالیگاؤں میں متذکرہ امراض تیزی سے پھیل گئے ہیں۔اس کے تدارک کیلئے سرکاری سطح پر مناسب اقدامات کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے۔