Updated: May 02, 2026, 10:08 PM IST
| Istanbul
اسرائیلی افواج نےصمود فلوٹیلا حملہ کرکے کارکنان کو حراست میں لے کر انہیں استنبول اور کریت روانہ کردیا تھا، جبکہ اسرائیلی حملے میں ۳۱؍ فلسطین حامی کارکنان زخمی ہوئے،یہ کاکنان جمعہ کی دیر شب ایک خصوصی پرواز کے ذریعے استنبول پہنچے، جہاں ان کے رشتہ داروں اور حکام نے استقبال کیا۔
اسرائیلی افواج نے۲۹؍ اپریل کی دیر شب بین الاقوامی پانی میں، کریت کے ساحل کے قریب، جو غزہ سے تقریباً ۶۰۰؍ بحری میل دور اور یونانی علاقائی پانی سے بالکل باہر ہے، کشتیوں کو روک لیا تھا، ترک شہری اور مختلف قومیتوں کے دیگر کارکن، جو اسرائیل کی طرف سے بین الاقوامی پانیوں میں ضبط کیے گئے عالمی صمود فلوٹیلا (Global Sumud) انسانی ہمدردی امدادی کشتی پر سوار تھے، ایک خصوصی پرواز کے ذریعے استنبول پہنچ گئے۔ان کارکنان میں ۱۸؍ ترک شہری اور ۵۹؍ دیگر شہری شامل ہیں ۔ایئرپورٹ کے وی آئی پی ٹرمینل پر کارکنوں کا ان کے رشتہ داروں اور حکام نے استقبال کیا۔استقبالیہ کے بعد، توقع ہے کہ ان کا استنبول کے فرانزک میڈیسن انسٹی ٹیوٹ میں طبی معائنہ کیا جائے گا، جو استنبول چیف پبلک پراسیکیوٹر کے دفتر کی جانب سے شروع کردہ تحقیقات کا حصہ ہے۔
یہ بھی پڑھئے: برطانیہ پر تاریخی ذمہ داری کا دباؤ: فلسطین پر نئی قانونی پٹیشن
منتظمین کے مطابق، اسرائیلی افواج کے حملے کے بعد کارکنوں کو حراست میں لے لیا گیا اور آپریشن کے دوران کشتیوں کو نقصان پہنچایا گیا، جبکہ اس امدادی بحری قافلے کو روکنے کے دوران کم ازکم ۳۱؍ کارکن زخمی ہوئے، زخمیوں میں متعدد ممالک سے تعلق رکھنے والے کارکن شامل ہیں، جن میں نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا سے چار چار، اٹلی اور امریکہ سے تین تین، کینیڈا، نیدرلینڈز، اسپین، برطانیہ، کولمبیا اور جرمنی سے دو دو، اور ہنگری، یوکرین، فرانس، پولینڈ اور پرتگال سے ایک ایک کارکن شامل ہے۔مزید کہا گیا کہ ایک زخمی ترکی اور جرمنی کی دوہری شہریت رکھتا ہے، جبکہ تین دیگر مسافروں کی شناخت کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ایک علیحدہ بیان میں کہا گیا کہ قافلے کو روکنے کے دوران حراست میں لیے گئے کارکنوں کو اسرائیلی بحری جہاز پر تقریباً۴۰؍ گھنٹے تک بدسلوکی کا نشانہ بنایا گیا۔گروپ نے بتایا کہ حراست میں لیے گئے افراد کو جان بوجھ کر مناسب مقدار میں پانی اور کھانے سے محروم رکھا گیا اور گیلے فرش پر سونے پر مجبور کیا گیا۔
اس کے علاوہ، فلسطینی نژاد اسپینی شہری سیف ابوکشک اور برازیل کے شہری تھیاگو ایویلا کی حراست کے خلاف مزاحمت کرنے والے شرکا پر اسرائیلی فوجیوں نے طاقت کا استعمال کیا۔بعد ازاں ایک کارکن نے بتایا کہ ’’ جیسا کہ آپ دیکھ سکتے ہیں، میری ناک شاید ٹوٹ گئی ہے۔ میری پسلیوں میں درد ہے، شاید وہ بھی ٹوٹی ہوئی ہیں۔ یقین نہیں ہے۔ میری گردن بھی متاثر ہے۔ انہوں نے ہمیں لاتیں ماریں، مکے مارے، زمین پر گھسیٹا، اور ہم نے لوگوں پر فائرنگ کی آوازیں بھی سنیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: صمود فلوٹیلا پر اسرائیلی حملے کے بعد یونان اپوزیشن کی حکومت پر تنقید، ۱۲؍ ممالک کی اسرائیل پر تنقید
واضح رہے کہ گلوبل صمود فلوٹیلا کے امدادی بحری قافلے پر جمعرات کو یونان کے جزیرے کریت کے قریب، اپنی منزل سے۶۰۰؍ سمندری میل دور، حملہ کیا گیا۔ یہ قافلہ غزہ کی پٹی کی برسوں سے جاری محاصرے کو توڑنے کی کوشش کر رہا تھا۔قافلے کے پہلے جہاز، جوغزہ کیلئے امدادی سامان لے کر جا رہے تھے، ۱۲؍ اپریل کو بارسلونا سے روانہ ہوئے تھے، جبکہ مرکزی فلوٹیلا۲۶؍ اپریل کو اٹلی کے جزیرے سسلی سے بحیرہ روم میں روانہ ہوا تھا۔ منتظمین کا کہنا ہے کہ اس مشن میں ۳۹؍ ممالک کے ۳۴۵؍ شرکاء شامل تھے، جن میں ترک شہری بھی تھے۔