• Wed, 28 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’اسلاف کی قربانیوں کو یاد رکھنا اوراسے دوسروں تک پہنچانا ضروری ہے‘‘

Updated: January 28, 2026, 1:42 PM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai

امام الہند فاؤنڈیشن کے زیراہتمام ۲۶؍ جنوری کوجمہوریت کانفرنس میں اظہارِخیال، قومی یکجہتی کو فروغ دینے کی کوشش۔

A view of the Democracy Conference organized by Imam-ul-Hind Foundation at Jamia Minhaj-ul-Sunnah. Picture: INN
امام الہند فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام جامعہ منہاج السنہ میں منعقدہ جمہوریت کانفرنس کا منظر۔ تصویر: آئی این این
یوم جمہوریہ پر اسلاف کی قربانیوں کو یاد رکھنے اور اسے دوسروں تک پہنچانے اور قومی یکجہتی کے استحکام پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ امام الہند فاؤنڈیشن (ممبئی ) کے زیر اہتمام جا معہ عربیہ منہاج السنہ میں منعقدہ ’جمہوریت کانفرنس‘ میںمقررین نے خصوصی طور پریہ پیغام دیا۔
  امام الہندفاؤنڈیشن کے سربراہ مولانا نوشاداحمدصدیقی کے مطابق ’’جمہوریت کانفرنس کا بنیادی مقصد ملک میں باہمی اتحاد، اخوت، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کے جذبے کو فروغ دینا ہے۔ ہرسال اس موقع پراس طرح کی کانفرنس کا انعقاد کیا جاتا ہے، اس لئے بھی کہ ہم یہ محسوس کرتے ہیںکہ موجودہ وقت میںفرقہ وارانہ ہم آہنگی کے استحکام کی کوششوں کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے ۔‘‘ مولانا کےمطابق ’’ امام الہند فاؤنڈیشن کے ذریعے تعلیمی میدان میںبھی خدمات انجام دی جاتی ہیں اور وہ نوجوان جومستقل شعبوں میںنمایاںکارکردگی انجام دیتے ہیں،ان کی حوصلہ افزائی بھی کی جاتی ہے۔ ۱۳؍برس سے یہ سلسلہ جاری ہے۔‘‘ 
اس موقع پر مولاناقاری جمیل احمد قاسمی (خطیب وامام مرکز مسجد سبحانیہ، بنگلور) نے آزادیٔ وطن میں علمائےکرام کی قربانیوں کا تفصیل سے تذکرہ کیا اوربتایا کہ’’آزادی ٔ وطن کیلئے جہدِمسلسل کی  ۲۰۰؍ سالہ طویل تاریخ ہے۔ اس دوران بہت بڑی تعداد میںمسلمانوں اور علماء کو شہید کیا گیا، لیکن ان کے دلوں میںآزادی کی ایسی آگ بھڑکی ہوئی تھی کہ انگریزوں کے تمام مظالم اور حربے ناکام ہوئے اور علماء کے پائے استقلال میں لغزش نہیں آئی۔‘‘ مولانا نےآزادی کے مفہوم کواسلامی تعلیمات اور سیدنافاروق اعظمؓکے پاکیزہ عمل کی روشنی میں سمجھایا ۔‘‘
مولانا عبدالقدوس شاکر حکیمی (مدینۃ المعارف جوگیشوری)نے اس بات پرزور دیاکہ’’ اس طرح کی کانفرنسوں کی اس لئے بہت زیادہ ضرورت ہے تاکہ اسلاف کی قربانیوں سے نئی نسل آگاہ ہوسکے ۔‘‘ مولانا محمدایوب خان ندوی نے کہاکہ’’ آج عجب صورتحال ہے، وہ لوگ جن کا آزادیٔ وطن میںکوئی رول نہیںتھا، اپنی جانوں کانذرانہ پیش کرنے والوں سے سند مانگی جارہی ہے۔‘‘مولانا محمدنسیم ندوی (دارالعلوم رشیدیہ) نے اس کانفرنس کو وقت کی ضرورت قرار دیتے ہوئے کہاکہ’’ اس سے ہم اپنے بزرگوں کو یاد کرنے کےساتھ جمہوریت کیا ہے ،یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ ‘‘ تمام مقررین نےامام الہند فاؤنڈیشن کے سربراہ مولانا مولانا نوشاد احمد صدیقی کی کاوشوں کوسراہا اور کہاکہ مولانانےیہ کانفرنس منعقد کرکے وقت کا اہم تقاضہ پورا کیا ہے۔ آئندہ اور بڑے پیمانے پراہتمام کرتے ہوئے برادران وطن کی اہم شخصیات کو بھی مدعو کرنے کی سفارش بھی کی گئی۔ 
اسی طرح کانفرنس کے دوران اکابرعلماء اوراسلاف کی عظیم قربانیوں کا خصوصی طور پر تذکرہ کرتے ہوئے حاضرین کو بتایا گیا کہ علماءنےہر دورمیں دین و ملت اور وطن کی حفاظت کیلئےبے مثال قربانیاں پیش کی ہیں۔ آزادیٔ وطن کی تحریک ،معاشرےکی اصلاح، اخلاقی تربیت اور سماجی انصاف کا قیام وغیرہ خدمات کے حوالے سے علماءکا کردار ناقابل فراموش ہے، ان کی قربانیاں اورہدایات آج بھی ہمارے لئے مشعل راہ ہیں۔
کانفرنس میں مفتی محمدانصارقاسمی ، مولانا انصارالحق قاسمی، مولانا بنی نعیم حسنی، مولانا نذیرالاسلام مظاہری ، مولانا محمد رضوان قاسمی، مولانانسیم مظاہری ، مولانا محمدعاقب بدرقاسمی، مفتی عنایت اللہ قاسمی، حافظ محمدنثار جامعی، مولانا محمدنسیم ندوی، حافظ محمد فیاض، حافظ محمد غفران منہاجی، مولانافہیم اکرم ندوی، حافظ محمدآفتاب عالم، قاضی محمدصادق خان قاسمی اور دیگر علماءوائمہ کرام کے علاوہ مختلف شعبوں کی شخصیات نے شرکت کی۔
اس موقع پرجامعہ عربیہ منہاج السنہ کے طلبہ نے قرأت، جمہوریت کے عنوان پر مختلف زبانوں میں تقاریر، بارگاہ رسالت میں نذرانہ ٔ عقیدت اور نظمیں پیش کیںجبکہ محمدعفان قمراورقاری عبدالباطن فیضی نے نعت،منقبت اورعلماء و اسلاف کی قربانیوں کے حوالے سے نظمیں پیش کیں۔ نظامت کے فرائض مولانا طفیل احمدندوی نے انجام دیئے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK