وی بی اے کے سربراہ نےدِپکے کے والدین سے فون پر بات چیت کی اور ان کی ہمت بندھاتے ہوئے کہا کہ ہم آپ کے ساتھ ہیں۔
ابھیجیت کا گھر۔ تصویر:آئی این این
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دِپکے کوجان سے مارنے کی دھمکیاں ملنے پر ونچت بہوجن اگھاڑی(وی بی اے) کے سربراہ پرکاش امبیڈکر نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے ان دھمکیوں کی سخت مذمت کی ہے اور ابھیجیت دپکے کے والدین سے فون پر بات کرتے ہوئے یقین دلایا کہ ان کی پارٹی کے تمام کارکن ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اظہارِ رائے کی آزادی اور شخصی تحفظ ایک مضبوط جمہوریت کے لئے نہایت ضروری ہیں۔
پرکاش امبیڈکر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ’’میں نے ابھیجیت دِپکے کے والدین سے بات کی اور ان کے بیٹے کو ملنے والی جان سے مارنے کی دھمکیوں اور خاندان پر بڑھتے دباؤ کے درمیان ان کی خیریت دریافت کی۔ میں ابھجیت کو دی جانے والی دھمکیوں کی سخت مذمت کرتا ہوں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا’’اظہارِ رائے کی آزادی اور ذاتی تحفظ ایک صحت مند جمہوریت کے بنیادی ستون ہیں۔ سنسرشپ اور جان سے مارنے کی دھمکیاں کھلے مکالمے اور جمہوری بحث کے اصولوں کو کمزور کرتی ہیں۔ میں نے ابھیجیت کے والدین کو یقین دلایا ہے کہ اس خطرناک ماحول میں ونچت بہوجن اگھاڑی کے تمام اراکین ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ضرورت پڑنے پر ہماری ٹیم سیاسی اور زمینی سطح پر تحفظ فراہم کرنے میں بھی تعاون کرے گی۔‘‘
واضح رہے کہ ابھیجیت دِپکے نے حال ہی میں الزام لگایا تھا کہ انہیں اور ان کے خاندان کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر کچھ ویڈیوز بھی شیئر کی تھیں، جن میں ایک شخص مبینہ طور پر گالیاں دیتے ہوئے دھمکیاں دیتا نظر آ رہا ہے۔ طنزیہ ڈیجیٹل مہم ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ سوشل میڈیا پر تیزی سے مقبول ہوئی اور چند ہی دنوں میں انسٹاگرام ، ایکس اور فیس بک اکاؤنٹس کے ذریعہ کروڑوں لوگ اس مہم سے جڑ گئے ہیں۔ تاہم، ۲۱؍ مئی کو سی جے پی کا اکاؤنٹ بند کر دیا گیا ہے۔
’’حکومت کوچاہئے کہ کاکروچ تحریک کی حوصلہ افزائی کرے‘‘
پونے (ایجنسی): کاکروچ جنتا پارٹی کی بڑھتی مقبولیت سےمعروف سماجی کارکن انا ہزارے بھی متاثر ہوگئ ہیں، انہوں نے کہا کہ ’’نوجوان طاقت دراصل قومی طاقت ہوتی ہے۔‘‘ لوک ستہ کی رپورٹ کے مطابق انا ہزارے نے کہا کہ ’’کاکروچ کہنے کا مقصد کیا تھا؟ یہ سمجھنا ضروری ہے۔ لیکن اس میں ایک اچھی بات یہ ہے کہ اگرچہ انہیں(نوجوانوں کو) کاکروچ کہا گیا ہو، اور یہ نام مناسب نہ لگتا ہو، پھر بھی اس ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے پیچھے بڑی تعداد میں نوجوان کھڑے ہوئے ہیں، یہی سب سے اہم بات ہے۔ نوجوان طاقت دراصل قومی طاقت ہے۔ اسلئے حکومت کو انہیں نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ حکومت کو چاہئے کہ ان کی حوصلہ افزائی کرے، نہ کہ انہیں مسترد کرے۔‘‘