ہائی کورٹ کی سرزنش کے بعد بی ایم سی کمشنر بھوشن گگرانی کا اعتراف۔ اپنا حکم واپس لے لیا۔
میونسپل کمشنر بھوشن گگرانی۔ تصویر: آئی این این
برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) کے کمشنر نے پیر کو بامبے ہائی کورٹ میں اعتراف کیا کہ انہوں نے نچلی عدالت کے اسٹاف کو بی ایم سی الیکشن کی ڈیوٹی پر بلاکر غلطی کی تھی اور انہوں نے اپنا حکم واپس لے لیا ہے۔ گزشتہ سماعت کے دوران عدالت نے بی ایم سی کمشنر کی کافی سرزنش کی تھی اور ان سے سوال کیا تھا کہ کون سا قانون انہیں یہ اختیار دیتا ہے کہ ہائی کورٹ کے حکم کے باوجود انہوں نے کورٹ اسٹاف کو الیکشن ڈیوٹی پر بلانے کا حکم جاری کیا ۔پیر کو جب سینئر کائونسل روی کدم نے بی ایم سی کمشنر بھوشن گگرانی کی جانب سے عدالت میں غلطی کا اعتراف کیا تو چیف جسٹس شری چندرشیکھر اور جسٹس گوتم اَنکھد پر مشتمل دو رکنی بنچ نے کمشنر کو مشورہ دیا کہ وہ دیگر ذرائع سے الیکشن ڈیوٹی کیلئےافرادی قوت حاصل کرکے خود کو محفوظ کریں۔
یاد رہے کہ الیکشن کی ڈیوٹی کیلئے کورٹ کے عملہ کو شامل کرنے پر تنازع دسمبر ۲۰۲۵ء کے اخیر میں شروع ہوا تھا جب بی ایم سی کمشنر بھوشن گگرانی نے ’ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر‘ کی حیثیت سے ۲۲؍ دسمبر کو ایک خط جاری کیا تھا جس میں تمام نچلی عدالتوںکے اسٹاف کو الیکشن کی ڈیوٹی میں شامل ہونے کی ہدایت دی گئی تھی۔اس خط کے موصول ہونے پر ’چیف میٹروپولیٹن مجسٹریٹ‘ اور ’رجسٹرار انسپکشن‘ نے انہیں اطلاع دی کہ ہائی کورٹ کے ’ایڈمنسٹریٹیو‘ ججوں کی کمیٹی نے ستمبر ۲۰۰۸ء میں انتظامی امور پر فیصلہ لیتے ہوئے تمام کورٹ کے اسٹاف کو الیکشن ڈیوٹی سے مستثنیٰ قرار دے دیا تھا، اس اطلاع کے باوجود انہوں نے ۲۹؍ دسمبر کو چیف میٹروپولیٹن مجسٹریٹ کو مزید ایک خط بھیج دیا کہ کورٹ اسٹاف کو الیکشن ڈیوٹی سے مستثنیٰ قرار دینے کی درخواست مسترد کی جاتی ہے۔
عدالت کے واضح حکم کے باوجود بی ایم سی کمشنر کے اس خط کا بامبے ہائی کورٹ نے از خود نوٹس لیتے ہوئے مفاد عامہ کی عرضداشت پر سماعت شروع کی تھی اور پچھلی سماعت پر ان سے سوال کیا تھا کہ کس قانون کے تحت آپ کو یہ اختیار حاصل ہے کہ عدالت کے حکم کے باوجود آپ عدالت کے عملہ کو الیکشن کی ڈیوٹی کرنے کا حکم دیں۔ یہ بات ججوں نے پیر کو بھی دہرائی جس پر سینئر کائونسل روی کدم نے بی ایم سی کمشنر کی جانب سے غلطی کا اعتراف کیا اور کہا کہ متذکرہ حکم واپس لے لیا گیا ہے ساتھ ہی ممبئی کے ’شیریف‘ کے دفتر سے ۲؍ ملازمین کو الیکشن ڈیوٹی کیلئے بھیجنے کی جو درخواست کی گئی تھی، اسے بھی واپس لے لیا گیا ہے۔اس اعتراف کے باوجود بی ایم سی کے رویہ پر ججوں نے عدم اطمینان کا اظہارکرتے ہوئے بی ایم سی کو دیگر ذرائع سے الیکشن ڈیوٹی کیلئے عملہ حاصل کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ’’ہم آپ کے دلائل الیکشن کے بعد سنیں گے۔‘‘