Updated: March 29, 2026, 2:02 PM IST
| New Delhi
بی ڈی ایس موومنٹ کے مطابق اسرائیل کے لیے تیار کردہ ملٹری گریڈ اسٹیل کی چار میں سے تین ہندوستانی کھیپوں کو اٹلی میں روک کر ان کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ اطالوی بندرگاہوں پر یہ کارروائی بڑھتے عوامی دباؤ کے بعد شروع ہوئی، جبکہ انسانی حقوق کے گروپوں نے اسے فلسطینیوں کے خلاف جاری تشدد سے جوڑا ہے۔
بی ڈی ایس موومنٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل کے لیے تیار کردہ ملٹری گریڈ اسٹیل کی چار ہندوستانی کھیپوں میں سے تین کو اٹلی میں حراست میں لے لیا گیا ہے، جہاں ان کی تحقیقات جاری ہیں، اور اس پیش رفت کو بڑھتے ہوئے عالمی عوامی دباؤ کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔ تحریک کے مطابق اطالوی حکام نے کاگلیاری بندرگاہ پر ایک مشتبہ کھیپ کی جانچ شروع کی ہے، جبکہ جیوآ تاؤرو بندرگاہ پر پہلے ہی دو دیگر کھیپوں کی تفتیش جاری ہے۔ یہ تمام کھیپیں مبینہ طور پر اسرائیلی اسلحہ ساز اداروں کو بھیجی جا رہی تھیں۔ بی ڈی ایس کے مطابق یہ فولاد ایسے ہتھیاروں کی تیاری میں استعمال ہو سکتا ہے جو فلسطینی علاقوں میں جاری فوجی کارروائیوں سے منسلک ہیں، جس پر انسانی حقوق کے کارکنوں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی حملہ میں دو صحافیوں کی موت
مصر میں بھی تنازع
چوتھی کھیپ ابو قیر بندرگاہ پر اتاری گئی، جہاں اسے اسرائیل بھیجنے کے لیے دوسرے جہاز پر منتقل کیا جانا تھا، تاہم انسانی حقوق کے گروپوں نے مصری حکام سے اس کی فوری تحقیقات اور ترسیل روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ مصری وزیر اطلاعات دیا راشوان نے کہا کہ بندرگاہی کارروائیاں بین الاقوامی قوانین کے مطابق ہو رہی ہیں، لیکن انہوں نے اس مخصوص کھیپ کی جانچ کی تصدیق نہیں کی۔
رپورٹ: اٹلی بطور ٹرانزٹ مرکز
پیپلز امبارگو فار فلسطین کی ایک رپورٹ کے مطابق ۲۰۲۳ء سے اب تک اٹلی اسرائیل کو ۴۱۶؍ فوجی کھیپیں اور ۲۰۰؍ کلو ٹن سے زائد ایندھن منتقل کرنے میں مرکزی کردار ادا کر چکا ہے۔ اسی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ ہندوستان میں دولت آباد میں تیار کردہ اسٹیل کو نہوا شیوا بندرگاہ کے ذریعے اٹلی پہنچایا گیا، جہاں سے اسے مزید اسرائیلی فوجی سہولت تک منتقل کیا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کے دور حکومت میں روس پر سے پابندیاں ہٹانے کا امکان نہیں
قانونی اور بین الاقوامی خدشات
ماہرین کے مطابق اٹلی جنیوا کنونشنز آرمز ٹریڈ ٹریٹی اور نسل کشی کنونشن کا دستخط کنندہ ہونے کے ناطے اس بات کا پابند ہے کہ اس کی برآمدات بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی میں استعمال نہ ہوں۔ انسانی حقوق کے حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر یہ کھیپیں واقعی فوجی مقاصد کے لیے استعمال ہو رہی ہیں تو یہ نہ صرف قانونی بلکہ اخلاقی سطح پر بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔