• Fri, 23 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

آئی ڈبلیو ڈی سی ۳؍اندرون ملک آبی گزرگاہوں کیلئے ایک نئی سمت فراہم کریگا

Updated: January 23, 2026, 4:02 PM IST | Agency | Mumbai /New Delhi

اِن لینڈ واٹر ویز ڈیولپمنٹ کونسل کی میٹنگ میں اندرون ملک آبی نقل و حمل سیکٹر کی کامیابیوں کو اجاگر کیا گیا، مستقبل کا ویژن بھی پیش کیا گیا۔

The central ministry is working with the states to develop inland waterways. Picture: INN
اِن لینڈ واٹر ویز کی ترقی کیلئے مرکزی وزارت ریاستوں کیساتھ مل کر منصوبہ بنارہی ہے۔ تصویر: آئی این این
اِن لینڈ واٹر ویز ڈیولپمنٹ کونسل (آئی ڈبلیو ڈی سی )کی تیسری میٹنگ  جمعرات کو کوچی( کیرالہ) میں ہوئی  جس میں اندرون ملک آبی نقل و حمل سیکٹر کی کامیابیوں کو اجاگر کیا  گیا  اور اس کا مستقبل کا ویژن پیش کیا گیا۔دن بھر جاری رہنے والے اجلاس کی صدارت بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کے مرکزی وزیر سربانند سونووال نے کی ۔ اس میٹنگ میں بندرگاہوں اور جہاز رانی کے وزیر مملکت شانتنو ٹھاکر سمیت مختلف ریاستی حکومتوں کے وزراء نے بھی شرکت کی۔ مہاراشٹر حکومت کے ماہی پروری اور بندرگاہ کی ترقی کے وزیر نتیش   رانے بھی اس میٹنگ میں موجود تھے۔
میٹنگ کے دوران، بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کے وزراء مختلف ریاستوں میں اندرون ملک آبی نقل و حمل کی مزید ترقی کے لیے نئے اقدامات کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔  ریاستی تعاون کے متعدد معاہدوں پر بھی دستخط کئے  گئے  جس سے اندرون ملک آبی نقل و حمل کے منصوبوں کے  لئے مرکز-ریاست تعاون کو مزید تقویت ملے گی۔اس میٹنگ  کے ایجنڈے میں نقل و حمل کے نظام کو مضبوط بنانے، کارگو کی کارکردگی میں اضافہ، مسافروں کی نقل و حمل کے لیے سبز جہازوں کی حوصلہ افزائی، دریائی کروز سیاحت کو فروغ دینے، اور ڈیجیٹل اور پائیدار طریقوں کو نافذ کرنے کے سیشن شامل ہیں۔
  واضح رہے کہ ہندوستان کے پاس اندرون ملک آبی گزرگاہوں کا ایک وسیع نیٹ ورک ہے، جو سالانہ ۱۴۵؍ ملین ٹن سے زیادہ کارگو کی نقل و حمل کرتا ہے، جو اسے ایندھن کی بچت اور ماحول دوست نقل و حمل کا ذریعہ بناتا ہے۔ اندرون ملک آبی گزرگاہیں زیادہ بوجھ والے ریل اور سڑک کے نیٹ ورک سے بہتر ثابت ہوتی ہیں اور رول آن/رول آف  گاڑیوں کی نقل و حمل اور دریائی کروز سیاحت جیسے اقدامات کو بھی سہولت فراہم کرتی ہیں۔ ۲۳؍ ریاستوں میںپھیلی ہوئی  ۱۱۱؍ قومی آبی گزرگاہوں میں سے۳۲؍ اس وقت کارگو اور مسافروں کی نقل و حمل کیلئےکام کر رہی ہیں۔ میٹنگ میں ان گزرگاہوں کو مزید بہتر بنانے اور مال ڈھلائی کی صلاحیت میں اضافہ کرنے پر بھی گفتگو ہوئی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK