Inquilab Logo Happiest Places to Work

فٹبال میدان جنگ کا میدان بن گیا، ایک ہی میچ میں ۲۳؍ ریڈ کارڈز کا عالمی ریکارڈ

Updated: March 09, 2026, 9:05 PM IST | Brasillia

برازیل میں فٹبال میچ کے دوران کھلاڑیوں کے درمیان ہونے والے شدید جھگڑے نے ایک نیا اور انوکھا عالمی ریکارڈ قائم کر دیا ہے، جہاں ریفری نے نظم و ضبط کی خلاف ورزی پر سب سے زیادہ ۲۳؍ ریڈ کارڈز دکھا کر سب کو حیران کر دیا۔

Red Card.Photo:INN
ریڈ کارڈ۔ تصویر:آئی این این

برازیل میں فٹبال میچ کے دوران کھلاڑیوں کے درمیان ہونے والے شدید جھگڑے نے ایک نیا اور انوکھا عالمی ریکارڈ قائم کر دیا ہے، جہاں ریفری نے نظم و ضبط کی خلاف ورزی پر سب سے زیادہ ۲۳؍ ریڈ کارڈز دکھا کر سب کو حیران کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق، اتوار کوکیمپیوناتو مینیرو  کے فائنل میں روایتی حریف کلبوں، کروزیرو اور ایٹلیٹیکو مینیرو کے درمیان اعصاب شکن مقابلہ جاری تھا۔ میچ کے آخری لمحات میں جب کروزیرو کو ۰۔۱؍گول کی برتری حاصل تھی، اس وقت میدان میں کشیدگی پھیل گئی جب ایٹلیٹیکو مینیرو کے گول کیپر ایورسن نے کروزیرو کے مڈفیلڈر کرسٹن کو زوردار دھکا دے کر زمین پر گرا دیا۔ 
اس واقعہ کے بعد دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں میں ہاتھا پائی شروع ہو گئی اور میدان کسی جنگ کا منظر پیش کرنے لگا۔ صورتحال اس قدر سنگین ہو گئی کہ مقامی سیکوریٹی عملے کو میدان میں داخل ہو کر کھلاڑیوں کو ایک دوسرے سے الگ کرنا پڑا۔ میچ ریفری نے سخت کارروائی کرتے ہوئے دونوں ٹیموں کے مجموعی طور پر ۲۳؍ کھلاڑیوں کو ریڈ کارڈ دکھا کر میدان بدر کر دیا، جو برازیلین فٹبال کی تاریخ کا ایک بدترین واقعہ بن گیا ہے۔ 
میچ کے اختتام پر ایٹلیٹیکو مینیرو کے اسٹار کھلاڑی ہلک نے واقعہ پر گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے کھیل کی روح کے خلاف قرار دیا۔ دوسری جانب، کروزیرو کے کوچ ٹائٹ نے کشیدہ ماحول کے باوجود ٹیم کی فتح پر خوشی کا اظہار کیا اور مداحوں کی حمایت کا شکریہ ادا کیا۔
عراق کے کوچ کی فیفا سے ورلڈ کپ پلے آف میچ ملتوی کرنے کی اپیل
عراقی مردوں کی فٹبال ٹیم کے ہیڈ کوچ گراہم آرنالڈ نے فیفا سے ہنگامی مطالبہ کیا ہے کہ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال کے پیشِ نظر ورلڈ کپ کے انٹر کانٹیننٹل کوالیفائر میچ کو ملتوی کیا جائے۔ عراق کو۳۱؍ مارچ کو میکسیکو کے شہر مونٹیری میں سورینام یا بولیویا کے خلاف ایک انتہائی اہم پلے آف میچ کھیلنا ہے، لیکن جنگ کی وجہ سے ٹیم کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
 جنگ کے باعث عراق کی فضائی حدود یکم اپریل تک بند ہے، جس کی وجہ سے مقامی لیگ سے تعلق رکھنے والے کھلاڑی ملک سے باہر نہیں جا پا رہے ہیں۔  غیر ملکی سفارت خانوں کی بندش کی وجہ سے کھلاڑیوں کو میکسیکو کے ویزے حاصل کرنے میں دشواری ہو رہی ہے۔ ہیڈ کوچ گراہم آرنالڈ خود اس وقت متحدہ عرب امارات  میں پھنسے ہوئے ہیں اور اپنی ٹیم تک پہنچنے سے قاصر ہیں۔
آسٹریلیا کے سابق کوچ گراہم آرنالڈ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’خدا کے لیے اس میچ کے سلسلے میں ہماری مدد کریں، کیونکہ اس وقت ہم اپنے کھلاڑیوں کو عراق سے باہر نکالنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ یہ ۴۰؍برسوں میں ملک کا سب سے بڑا میچ ہے اور ہم اپنی بہترین ٹیم کے بغیر نہیں کھیلنا چاہتے۔

یہ بھی پڑھئے:لیورپول اور مانچسٹر یونائیٹڈ کی ایکس سے گروک اے آئی کے خلاف شکایت

انہوں نے تجویز دی کہ فیفا کو چاہیے کہ وہ فائنل پلے آف کو ورلڈ کپ شروع ہونے سے ایک ہفتہ قبل تک ملتوی کر دے تاکہ حالات بہتر ہونے پر ٹیم کو تیاری کا موقع مل سکے۔ ایران نے ورلڈ کپ کے لیے سب سے پہلے کوالیفائی کیا تھا، لیکن موجودہ جنگ اور میزبان ملک (امریکہ) کے حملوں کی وجہ سے ان کی شرکت خطرے میں پڑ گئی ہے۔ آرنالڈ کا کہنا ہے کہ اگر ایران دستبردار ہوتا ہے تو عراق براہِ راست ورلڈ کپ میں جا سکتا ہے، یا پھر متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کو پلے آف کھیلنے کا موقع مل سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:وجے تریشا کےمعاشقے کی افواہوں پر وکرم بھٹ کا رد عمل

عراق نے آخری بار ۱۹۸۶ء میں ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کیا تھا، اور ۴۰؍ سال کے طویل انتظار کے بعد یہ ان کے پاس بہترین موقع ہے۔ وفاق کے صدر عدنان درجال بھی چوبیس گھنٹے کوششوں میں مصروف ہیں کہ کسی طرح ٹیم کو میدان میں اتارا جا سکے اور عراقی عوام کا خواب پورا ہو سکے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK