جیل میں قید رکن پارلیمنٹ ار راشد نے سابق پی ایف آئی چیئرمین ای ابوبکر کی کی بگڑتی ہوئی صحت اور معمر عمر کا حوالہ دیتے ہوئےساتھی اراکین سے اپیل کی کہ وہ ان کی رہائی کے لیے کوشش کریں۔
EPAPER
Updated: August 27, 2026, 8:06 PM IST | New Delhi
جیل میں قید رکن پارلیمنٹ ار راشد نے سابق پی ایف آئی چیئرمین ای ابوبکر کی کی بگڑتی ہوئی صحت اور معمر عمر کا حوالہ دیتے ہوئےساتھی اراکین سے اپیل کی کہ وہ ان کی رہائی کے لیے کوشش کریں۔
بارہمولہ سے آزاد رکن پارلیمنٹ انجینیئر راشد، جو اس وقت تہاڑ جیل میں قید ہیں، نے اپنے ساتھی اراکین پارلیمنٹ سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ ممنوعہ تنظیم پاپولر فرنٹ آف انڈیا (پی ایف آئی) کے سابق چیئرمین ای ابوبکر کی غیر مشروط رہائی کو یقینی بنائیں ۔مکتب کو موصول۲۱؍ اگست کی ایک ہاتھ سے لکھے گئے خط میں راشد نے۷۵؍ سالہ ابوبکر کو متعدد دائمی بیماریوں میں مبتلا قرار دیا، جن میں پارکنسن کی بیماری شامل ہے، اور کہا کہ ان کا کینسر کا آپریشن بھی ہوا ہے۔راشد نے اپنے خط میں لکھا، "میری خود تہاڑ جیل میں تکلیف دہ قید کے۸؍ویں سال میں داخل ہوتے ہوئے، میں نے بہت سے قیدیوں کو دیکھا ہے جن کی حالت نے ہر شخص کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ تاہم،۱۳؍ اگست ۲۰۲۶ء کی شام، جب میں نے ایک۸۰؍ سالہ بوڑھے شخص کو وہیل چیئر پر لے جاتے دیکھا، تو میں چونک گیا، چاہے ان پر کچھ بھی الزام ہو یا ان کے سیاسی نظریات کچھ بھی ہوں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: عدالتیں جبر کا مرکز بن گئیں تو عوام کا انصاف پر اعتماد ختم ہوجائیگا: جسٹس مرلی دھر
خط کے مطابق، ابوبکر ٹھیک سے کھا، بول، سن یا لکھ نہیں سکتے اور پارکنسنز کی بیماری کی وجہ سے شدید کمزور ہو چکے ہیں۔راشد نے کہا، ’’یہ بزرگ متعدد دائمی امراض میں مبتلا ہیں اور ان کا کینسر کا آپریشن بھی ہوا ہے۔ وہ نہ ٹھیک سے کھا سکتے ہیں، نہ بول سکتے ہیں، نہ سن سکتے ہیں، اور پارکنسنز کی وجہ سے لکھ بھی نہیں سکتے۔‘‘راشد نے کہا کہ اس بیمار سابق پی ایف آئی چیئرمین کو دیکھ کر انہیں اور دیگر قیدیوں کو فادر اسٹین سوامی کی یاد آ گئی، جو۸۴؍ سالہ جیسوئٹ پادری اور قبائلی حقوق کے کارکن تھے، جو جولائی۲۰۲۱ء میں بھیما کوریگاؤں ایلگار پریشد کیس میں حراست کے دوران انتقال کر گئے تھے۔‘‘ ان کے چہرے میں، نہ صرف مجھے، بلکہ ہر باشعور قیدی کو، فادر اسٹین سوامی کا چہرہ صاف نظر آتا ہے، جو۸۰؍ سال کی عمر میں جیل کے قابل رحم حالات میں مر گئے تھے۔‘‘
مزید برآں انہوں نے لکھا ، ’’اس میں کوئی شک نہیں کہ سپریم کورٹ اور ہر کسی نے بعد میں اعتراف کیا کہ وہ ایک قیمتی جان نہ بچا سکے، لیکن الفاظ انسانی جانوں کو واپس نہیں لاتے۔‘‘راشد نے براہ راست اپنے ساتھی اراکین پارلیمنٹ سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ ای ابوبکر کی رہائی کے لیے آواز بلند کریں، اور دلیل دی کہ ایک شدید بیمار اور بے حرکت بزرگ قیدی کو جیل میں رکھنا کسی مقصد کی تکمیل نہیں کرتا۔انہوں نے لکھا، ’’براہ کرم ان کی غیر مشروط رہائی کے لیے بات کریں، کیونکہ ایک ایسے شخص کو جو موت کے بستر پر ہے، جو حرکت، بول، سن یا لکھ نہیں سکتا، بدنام زمانہ تہاڑ جیل میں قید رکھنے کا کوئی مطلب نہیں۔‘‘راشد نے مزید اراکین پارلیمنٹ سے اپیل کی کہ وہ مشترکہ طور پر چیف جسٹس آف انڈیا، وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ سے انسانی بنیادوں پر ابوبکر کی رہائی پر غور کرنے کی درخواست کریں۔ بعد ازاں خط میں کہا گیا، اس بات کو ثابت کرنے کا موقع ہے کہ ہندوستان ایک ایسا ملک ہے جہاں انسانی زندگی اہمیت رکھتی ہے، چاہے ذات، مذہب، کلچر اور عقیدہ کچھ بھی ہو؛ حتیٰ کہ قید افراد سے سنگین سیاسی اختلافات کی صورت میں بھی۔‘‘راشد نے نتیجہ اخذ کیا کہ ’’سیاست ہمیں اس خالص انسانی معاملے پر تقسیم نہ کرے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ’’راجستھان ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کو فوراً ہٹائیں‘‘
واضح رہے کہ راشد۲۰۱۹ء سے ایک مالی معاونت کیس میں قید ہیں۔یہ خط قانونی مشیر کے ذریعے لکھا گیا تھا اور اس پر سرکاری نوٹیفکیشن ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسے ان کے مشیر کو بھیجنے کی اجازت دی گئی ہے۔ جبکہ ای ابوبکر کو ستمبر۲۰۲۲ء میں غیر قانونی سرگرمیوں (روک تھام) ایکٹ کے تحت ایک معاملے میں گرفتار کیا گیا تھا، جس کے بعد پاپولر فرنٹ آف انڈیا کے خلاف ملک گیر مہم شروع کی گئی۔ مرکزی حکومت نے بعد میں اس تنظیم کو پانچ سال کے لیے ممنوع قرار دیا، اس پر غیر قانونی سرگرمیوں اور دہشت گردی سے تعلق رکھنے کا الزام لگایا۔جولائی میں نئی دہلی کی ایک خصوصی این آئی اے عدالت نے ای ابوبکر کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی تھی۔ دریں اثناء خاندان نے اس حکم کو چیلنج کرنے کے لیے دہلی ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی ہے۔