سپریم کورٹ کے جج سندیپ مہتا نے چیف جسٹس آف انڈیا کو خط لکھا، الزام لگایا کہ شرما اپنے اختیارات کا غلط استعمال کررہے۔
EPAPER
Updated: August 27, 2026, 12:14 PM IST | Agency | New Delhi
سپریم کورٹ کے جج سندیپ مہتا نے چیف جسٹس آف انڈیا کو خط لکھا، الزام لگایا کہ شرما اپنے اختیارات کا غلط استعمال کررہے۔
راجستھان ہائیکورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس سنجیو پرکاش شرما کو ہٹانے کا معاملہ اب سنگین نوعیت اختیار کرگیا ہے۔ سپریم کورٹ کے جج سندیپ مہتا نے چیف جسٹس آف انڈیا سوریا کانت کو متعدد خطوط لکھ کر راجستھان ہائی کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس جسٹس سنجیو پرکاش شرما کو فوری طور پر عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔ جسٹس سندیپ مہتا نے چیف جسٹس کو پہلے ۲؍ اگست، پھر۱۰؍ اگست اور اس کے بعد۱۷؍ اگست کو مطالباتی خطوط لکھے ہیں۔ اپنے ان تمام خطوط میں جسٹس مہتا نے سی جی آئی سوریہ کانت سے بار بار اپیل کی ہے کہ راجستھان ہائی کورٹ میں کسی دوسرے ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو مقرر کیا جائے۔
یہ بھی پڑھئے: میٹا کے اسمارٹ گلاسیز سے خفیہ ریکارڈنگ، میٹا اور انسٹا کے خلاف قانونی نوٹس جاری
جسٹس سنجیو پرکاش پر کیا الزامات ہیں؟
جسٹس مہتا نے اپنے پہلے خط میں سخت تبصرہ کرتے ہوئے لکھا’’ایسی کئی مثالیں موجود ہیں جن میں جسٹس شرما نے قائم مقام چیف جسٹس کی حیثیت سے اپنے اختیارات کا اس طرح استعمال کیا، جو ادارے کے سربراہ کے عہدے کے شایانِ شان نہیں ہے۔‘‘ جسٹس مہتا نے مزید لکھا،’’مجھے جسٹس ایس پی شرما کے عدالتی کام کاج کے بارے میں متعدد شکایات موصول ہوئی ہیں، جو بادی النظر میں ان کی دیانت داری پر سوالات اٹھاتی ہیں۔‘‘
سپریم کورٹ کے جسٹس سندیپ مہتا نے مزید لکھا، کہ’’ راجستھان کے اپنے دورے کے دوران راجستھان ہائی کورٹ کے کئی ججوں نے مجھ سے ملاقات کی اور جسٹس ایس پی شرما کے رویے پر اپنے دکھ کا اظہار کیا۔ وہ اکثر اپنے ساتھی ججوں کو ہندوستان کے معزز چیف جسٹس کے ساتھ اپنی قربت کا حوالہ دیتے ہوئے تبادلے جیسی کارروائی کی دھمکی دیتے ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: پٹنہ : ۶؍ سال کا آدتیہ توجہ کا مرکز، مظاہرہ میں شرکت پر پولیس نے حراست میں لیا
۱۷؍ اگست کے اپنے خط میں جسٹس مہتا نے کہا کہ وہ اپنے سابقہ خطوط میں جسٹس شرما کے انتہائی خراب کام کاج اور سنگین طور پر مشتبہ سرگرمیوں کا پہلے ہی ذکر کر چکے ہیں، پھر یہ سوال اٹھایا کہ انہیں اب بھی کام جاری رکھنے کی اجازت کیوں دی جا رہی ہے۔ جسٹس شرما اگلے ماہ ۲۶؍ ستمبر۲۰۲۶ء کو ریٹائر ہونے والے ہیں۔
جسٹس سندیپ مہتا نے اپنے مکتوب میں چیف جسٹس آف انڈیا کی توجہ اس بات کی طرف بھی دلائی کہ جسٹس شرما گزشتہ دس ماہ سے غیر معمولی طور پر طویل مدت سے قائم مقام چیف جسٹس کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ جسٹس سنجیو پرکاش شرما کونومبر ۲۰۱۶ء میں راجستھان ہائی کورٹ میں جج کے طور پر ترقی دی گئی تھی۔ انہیں۲۰۲۲ء میں پٹنہ ہائی کورٹ منتقل کر دیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: آئی آئی ٹی اور آئی آئی ایم میں ’’نو بیگ ڈے‘‘، بالٹی سے تکیہ تک بطور متبادل
درخواست مسترد کی گئی تھی مگر....
جسٹس مہتا کے بقول مارچ ۲۰۲۳ءمیں سپریم کورٹ کالجیم نے صحت کی وجوہات کی بنا پر راجستھان ہائی کورٹ واپس آنے کی جسٹس شرما کی درخواست مسترد کر دی تھی اور انہیں پنجاب - ہریانہ ہائیکورٹ منتقل کرنے کی سفارش کی تھی۔ راجستھان ہائیکورٹ واپس نہ بھیجنے کا کالجیم کا فیصلہ شاید انکے سابقہ رویے کے مدنظر کیا گیا تھا۔ تاہم،مئی ۲۰۲۶ء میں سپریم کورٹ کالجیم نے جسٹس شرما کو راجستھان ہائیکورٹ واپس بھیجنے کی منظوری دی۔
یہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ۲۸؍ مارچ۲۰۲۳ء کی تبادلے کی سفارش میں واضح طور پر لکھے جانے کے باوجود جسٹس ایس پی شرما کو اتنی زیادہ رعایت کیوں دی گئی؟‘‘
-سی جی آئی سوریہ کانت کو لکھے اپنے خط میں جسٹس مہتا کا اعتراض