Inquilab Logo Happiest Places to Work

عدالتیں جبر کا مرکز بن گئیں تو عوام کا انصاف پر اعتماد ختم ہوجائیگا: جسٹس مرلی دھر

Updated: August 27, 2026, 2:54 PM IST | New Delhi

سینئر ایڈوکیٹ اور اُدیشہ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس ایس مرلی دھر نے ہندوستان کے عدالتی نظام میں اصلاحات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر عدالتیں اور ان کے طریقۂ کار خود جبر کا ذریعہ بن گئے تو عوام کا انصاف کے نظام پر اعتماد متاثر ہوگا۔ نئی دہلی میں ڈی ایس بورکر میموریل لیکچر سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عدلیہ کا ریاستی طاقت کے مقابل شہریوں کے حقوق کے تحفظ کا ریکارڈ غیر مستقل اور کئی مواقع پر مایوس کن رہا ہے۔

S. Muralidhar. Picture: INN
ایس مرلی دھر۔ تصویر: آئی این این

سینئر ایڈوکیٹ اور اُدیشہ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس ایس مرلی دھر نے عدلیہ کے کردار اور ہندوستان کے قانونی نظام میں اصلاحات پر اہم سوالات اٹھاتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ عدالتیں خود جبر کا مرکز بن گئیں تو انصاف کے نظام پر عوام کا اعتماد کمزور ہوجائے گا۔ نئی دہلی کے انڈیا انٹرنیشنل سینٹر میں ڈی ایس بورکر میموریل لیکچر سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس مرلی دھر نے کہا کہ ’’اگر عدالتیں اور ان کے طریقۂ کار خود جبر کے مراکز بن گئے تو اس سے عوام کا انصاف کے نظام اور اس کی منصفانہ اور مساوی انصاف فراہم کرنے کی صلاحیت پر اعتماد متاثر ہوگا۔‘‘ 

یہ بھی پڑھئے: مغربی بنگال: ۳۱؍حلقوں میں بی جے پی کی جیت پر سوال

انہوں نے عدلیہ کے آئینی کردار کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ ریاستی طاقت اور شہریوں کے درمیان مضبوط حفاظتی دیوار کے طور پر عدلیہ کا ریکارڈ ’’غیر مستقل اور اکثر مایوس کن‘‘ رہا ہے۔ ان کے مطابق حکومتوں کے من مانے فیصلے، فیصلے نہ کرنا، پرامن احتجاج کو جرم بنانا اور غیر ضروری گرفتاریاں لوگوں کو عدالتوں سے رجوع کرنے پر مجبور کرتی ہیں۔ جسٹس مرلی دھر نے عدالتی زیرالتوا مقدمات کے مسئلے کو صرف ججوں کی تعداد بڑھانے سے حل کرنے کے خیال کو بھی مسترد کیا۔ انہوں نے کہا کہ عدالتوں کا موازنہ کاروں کی اسمبلی لائن سے نہیں کیا جاسکتا اور مقدمات نمٹانا گاڑیاں تیار کرنے کے مترادف نہیں۔ ان کے مطابق محض مزید جج مقرر کردینے سے زیرالتوا مقدمات کا مسئلہ مؤثر طور پر حل نہیں ہوگا۔
انہوں نے بتایا کہ ضلعی عدالتوں میں ڈیڑھ کروڑ سے زیادہ مقدمات زیرالتوا ہیں، جبکہ ہائی کورٹس میں یہ تعداد تقریباً ۶۵؍ لاکھ اور سپریم کورٹ میں تقریباً ۹۳؍ ہزار ہے۔ ان کے مطابق تاخیر کی ذمہ داری صرف ججوں پر عائد نہیں کی جاسکتی بلکہ پورے قانونی نظام میں موجود ساختی کمزوریاں اس کی بڑی وجہ ہیں۔ سابق چیف جسٹس نے عدالتی انتظامیہ کے اندر موجود بعض نوآبادیاتی اور جاگیردارانہ روایات پر بھی تنقید کی۔ ان کے مطابق عدالتی نظام میں عہدوں اور رسمی پروٹوکول کے حوالے سے بعض فرسودہ روایات اب بھی موجود ہیں، جنہیں تسلیم کرکے ان پر نظرثانی اور انہیں ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: پٹنہ : ۶؍ سال کا آدتیہ توجہ کا مرکز، مظاہرہ میں شرکت پر پولیس نے حراست میں لیا

انہوں نے قانونی نظام کو سائل مرکز بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ ان کے مطابق موجودہ نظام میں وکلا، ججوں اور ریاست کی سہولت کو زیادہ اہمیت حاصل ہے، جبکہ عام سائل کے لیے قانونی پیچیدگیوں سے پیشہ ورانہ مدد کے بغیر گزرنا اب بھی مشکل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالتی اصلاحات کا اصل امتحان یہ ہونا چاہیے کہ عام شہری کے لیے انصاف تک رسائی آسان اور منصفانہ ہوئی یا نہیں۔ جسٹس مرلی دھر نے اپنی تقریر میں ہندوستان کے مستقبل کے حوالے سے بھی شہری آزادیوں اور اختلافِ رائے کے تحفظ پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ قانون کو لوگوں کے لباس یا کھانے کے انتخاب کی بنیاد پر کسی گروہ کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے پرامن احتجاج کرنے والوں کو مجرم بنانے اور حکومت پر جائز تنقید کو جرم قرار دینے کے رجحان سے بھی خبردار کیا۔ انہوں نے موجودہ دور میں بڑھتی معاشی و سیاسی طاقت کے ارتکاز اور ٹیکنالوجی کے ممکنہ غلط استعمال پر بھی تشویش ظاہر کی۔ ان کے مطابق نگرانی کی ٹیکنالوجی، معلومات پر چند طاقتور اداروں کا کنٹرول اور جمہوری اداروں کو کمزور کرنے کے امکانات مستقبل کے لیے اہم چیلنج ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK