Inquilab Logo Happiest Places to Work

جے پور: سماعت اور گویائی سے محروم طلبہ کا احتجاج، پرنسپل معطل، خصوصی کمیٹی تشکیل

Updated: August 07, 2026, 7:04 PM IST | Jaipur

جے پور کے سرکاری گونگے اور بہرے طلبہ کے اسکول میں بنیادی سہولیات کی کمی، خستہ حال عمارت اور ہاسٹل کی خراب صورتحال کے خلاف طلبہ کے احتجاج کے بعد محکمۂ تعلیم حرکت میں آ گیا۔ حکومت نے پرنسپل کو فوری طور پر ہٹا کر اسکول کے مسائل کے مستقل حل اور طلبہ کیلئے محفوظ، صحت بخش اور باوقار تعلیمی ماحول کی فراہمی کیلئےایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی ہے۔

Students protesting the lack of basic facilities. Photo: INN
بنیادی سہولیات کے فقدان پر طلبہ کا احتجاج کرتے ہوئے۔ تصویر: آئی این این

سرکاری سیٹھ آنندی لال پوڈار سینئر سیکنڈری اسکول برائے سماعت سے محروم طلبہ کے۱۰۰؍ سے زائد طلبہ نے خستہ حال بنیادی ڈھانچے اور بنیادی سہولیات کی کمی کے خلاف مرکزی دروازے کے باہر دھرنا دیا۔ یہ احتجاج اس وقت شروع ہوا جب ایک کلاس روم کی چھت سے پلاسٹر کا ٹکڑا گر کر ایک طالب علم کو جا لگا، جس سے حفاظتی انتظامات پر سنگین سوالات اٹھ گئے۔ مزید حادثات کے خدشے کے پیشِ نظر طلبہ کلاسوں سے باہر نکل آئے اور فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔ طلبہ نے چھ اہم مطالبات پیش کرتے ہوئے ہاسٹل کی خراب حالت، تدریسی سہولیات کی کمی اور عملے کے ایک رکن کی جانب سے ہراسانی کے الزامات عائد کئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہاسٹل میں مناسب غذا فراہم نہیں کی جاتی اور صفائی ستھرائی کی صورتحال انتہائی ابتر ہے۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ والدین سے فون پر بات کرنے یا اسپتال لے جانے کیلئےان سے رقم وصول کی جاتی ہے۔

طلبہ نے مزید کہا کہ جے پور کے سماعت اور گویائی سے محروم طلبہ کے سب سے بڑے سرکاری اسکول میں بھارتی اشاروں کی زبان جاننے والے اساتذہ کی کمی ہے۔ ان کا الزام تھا کہ بعض اساتذہ اکثر کلاسوں سے غیر حاضر رہتے ہیں یا پڑھانے کے بجائے موبائل فون استعمال کرتے رہتے ہیں۔ انہوں نے ایک مرد عملہ رکن پر طالبات کو ہراساں کرنے کا الزام بھی لگایا اور اسکول کے بیت الخلا کی خراب حالت پر بھی شکایت کی۔

یہ بھی پڑھئے: بی جے پی، مودی جین زی کو ملک دشمن کہنا بند کریں: ابھیجیت دپکے

بولنے اور سننے سے محروم طلبہ نے اپنی شکایات اشاروں کی زبان، پلے کارڈز اور تحریری پیغامات کے ذریعے انتظامیہ تک پہنچائیں۔ ایک روحانی تنظیم کے ارکان، جو پہلے سے طے شدہ مراقبے کے سیشن کیلئے اسکول آئے تھے، نے بتایا کہ وہ طلبہ کے اشاروں سے ان کی پریشانی سے آگاہ ہوئے۔ احتجاج نے جلد ہی سیاسی رخ اختیار کر لیا۔ سابق وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت اور قائدِ حزبِ اختلاف ٹیکارام جولی بھی اسکول پہنچے۔ طلبہ سے ملاقات کے بعد اشوک گہلوت نے ریاستی حکومت سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا۔ 
احتجاج کے بعد محکمہ تعلیم کے حکام فوری طور پر اسکول پہنچے۔ چیف بلاک ایجوکیشن آفیسر آشا گپتا نے طلبہ سے ملاقات کی اور انہیں یقین دلایا کہ ان کی شکایات کا ازالہ کیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پرنسپل بھرت جوشی کو فوری اثر سے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: جنترمنتر سے مشہور ہوئے جنید ’بھائی‘ رانچی بھی پہنچ گئے

مستقل حل کیلئے خصوصی کمیٹی
محکمۂ تعلیم نے اسکول کے مسائل کے دیرپا حل تلاش کرنے کیلئے ایک خصوصی کمیٹی بھی تشکیل دی ہے۔ یہ کمیٹی صفائی ستھرائی، پینے کے پانی، عمارت کی ساختی حالت، بیت الخلا اور دیگر بنیادی سہولیات سے متعلق ایک تفصیلی رپورٹ تیار کرے گی۔ کمیٹی کی سفارشات کی بنیاد پر بہتری کے اقدامات کئے جائیں گے تاکہ خصوصی صلاحیتوں کے حامل طلبہ کو محفوظ، صحت بخش اور باوقار تعلیمی ماحول فراہم کیا جا سکے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK