Inquilab Logo Happiest Places to Work

جنترمنتر سے مشہور ہوئے جنید ’بھائی‘ رانچی بھی پہنچ گئے

Updated: August 07, 2026, 10:44 AM IST | Ranchi

کہا ’’طلبہ تحریک کہیں بھی چلے، میری حمایت رہے گی‘‘۔ تعلیمی مسائل پرپورے معاشرے سے طلبہ کاساتھ دینے کی اپیل کی۔

Muhammad Junaid talking to the media with students at the protest site. Photo: INN
محمدجنیداحتجاج کے مقام پر طلبہ کے ساتھ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے۔ تصویر: آئی این این

دہلی کے جنتر منتر پر نیٹ پیپر لیک کے خلاف سی جے پی اور جین زی کی تحریک کے دوران دھرنے پر بیٹھے طلبہ کے لیے مفت بریانی اور ضروری سہولیات کا انتظام کر کے سرخیوں میں آنے والے محمد جنید عرف جنید ’بھائی‘ جمعرات کو جھارکھنڈ کے دارالحکومت رانچی پہنچ گئے۔ انہوں نے جے پال سنگھ منڈا اسٹیڈیم پہنچ  کر جے پی ایس سی-جے ایس ایس سی امتحانات میں بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ سے ملاقات کی اور ان کی تحریک کی حمایت کا اعلان کیا۔ دھرنے کی جگہ پہنچتے ہی طلبہ نے ان کا شاندار استقبال کیا۔ 

یہ بھی پڑھئے: نابالغ ملزمین کو گاڑی کے بونٹ پر باندھ کر گھمانے والے افسر کا تبادلہ

میڈیا سے بات کرتے ہوئے جنید نے کہا کہ ملک میں جہاں بھی طلبہ اپنے حقوق اور تعلیم سے متعلق مسائل پر جمہوری طریقے سے تحریک چلائیں گے، وہ ان کی حمایت کے لیے وہاں پہنچنے کی کوشش کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ کی آواز کو مضبوط کرنا ان کی اولین ترجیح ہے۔’ ای ٹی وی بھارت‘ کے مطابق جنید کا کہنا ہے کہ میں یہاں کسی حکومت کے حق یا مخالفت میں بولنے نہیں آیا ہوں۔ میں صرف طلبہ کے مسائل پر بات کرنے آیا ہوں۔ طلبہ اپنے مطالبات کیلئے تحریک چلا رہے ہیں اور میری حمایت ان کے ساتھ ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ لوگ انہیں دہلی کے جنتر منتر پر ہونے والی تحریک کے بعد پہچاننے لگے ہیں لیکن طلبہ کی تحریکوں سے ان کا تعلق نیا نہیں ہے۔جنید کے بقول ’’میرا یہ سفر اچانک جنتر منتر سے شروع نہیں ہوا۔ میں طویل عرصے سے کالج کی سطح پر طلبہ کے مختلف مسائل اور تعلیم سے جڑے معاملات پر جدوجہد کر رہا ہوں۔ جنتر منتر پر میرا وائرل ہونا محض ایک اتفاق تھا لیکن طلبہ کے مفاد میں کام کرنا میری زندگی کا حصہ رہا ہے۔‘‘جنید نے کہا کہ تعلیم اور مسابقتی امتحانات سے جڑے معاملات میں شفافیت اور غیر جانبداری انتہائی ضروری ہے ۔ اگر کسی ریاست میں طلبہ اپنے مطالبات کیلئے پُرامن تحریک چلا تےہیں تو پورے معاشرے کو ان کے ساتھ کھڑا ہونا چاہئے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK