Updated: August 07, 2026, 7:04 PM IST
| Makkah
ترکی، سعودی عرب اور پاکستان نے مکہ مکرمہ میں ایک تاریخی سہ فریقی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے ہیں، جس کے تحت تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر ہونے والا مسلح حملہ تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ ’’مکہ معاہدہ‘‘ کے نام سے ہونے والے اس دفاعی سمجھوتے پر ترک صدر رجب طیب اردوان، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف نے دستخط کیے۔ مشترکہ اعلامیے کے مطابق معاہدے کا مقصد اجتماعی دفاع، عسکری تعاون، علاقائی استحکام اور مشترکہ سلامتی کو مضبوط بنانا ہے۔
شہباز شریف، محمد بن سلمان اوررجب طیب اردوان معاہدے کے بعد۔ تصویر: ایکس
ترکی، سعودی عرب اور پاکستان نے جمعہ کو مکہ مکرمہ میں ایک اہم سہ فریقی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے، جس کے تحت اگر تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر مسلح حملہ ہوتا ہے تو اسے تینوں ریاستوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ اس معاہدے کو خطے میں دفاعی تعاون کے حوالے سے ایک بڑی سفارتی اور تزویراتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ معاہدہ سعودی عرب کی میزبانی میں ہونے والی اعلیٰ سطحی ملاقات کے دوران طے پایا، جس میں ترک صدر رجب طیب اردوان، سعودی ولی عہد و وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان اور پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف شریک ہوئے۔ مشترکہ اعلامیے کے مطابق معاہدہ تینوں ممالک کے ’’گہرے تاریخی تعلقات، دیرینہ برادرانہ روابط، اسلامی یکجہتی، مشترکہ تزویراتی مفادات اور مضبوط دفاعی تعاون‘‘ کی بنیاد پر تشکیل دیا گیا ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’’تینوں ممالک اس بات پر متفق ہیں کہ کسی بھی ایک ریاست کے خلاف مسلح حملے کو تینوں ریاستوں کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔‘‘ اعلامیے کے مطابق اس معاہدے کا مقصد کسی بھی جارحیت کے خلاف مشترکہ دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانا، عسکری تعاون کو وسعت دینا اور خطے میں امن، سلامتی اور استحکام کو فروغ دینا ہے۔ پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے بھی معاہدے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ دفاعی سمجھوتہ اجتماعی مزاحمتی صلاحیت (Collective Deterrence) کو مضبوط بنانے اور تینوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک دفاعی تعاون کو مزید گہرا کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔ وزارت کے مطابق معاہدہ دفاع، انٹیلی جنس، سلامتی اور دیگر متعلقہ شعبوں میں تعاون کے نئے امکانات پیدا کرے گا۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ: ٹرمپ کا پیدائشی شہریت کو محدود کرنے کے حکم نامے پر دستخط
اجلاس کے دوران لیڈروں نے نہ صرف دوطرفہ اور سہ فریقی تعلقات کا جائزہ لیا بلکہ خطے کی مجموعی سلامتی، سیاسی صورتحال، اقتصادی تعاون اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔ ترک وفد میں وزیر خارجہ ہاکان فیدان، قومی انٹیلی جنس تنظیم کے سربراہ ابراہیم کالن، سعودی عرب میں ترکی کے سفیر امراللہ اشلر اور صدارتی چیف آف اسٹاف حسن دوغان بھی شامل تھے۔ یہ معاہدہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں سلامتی کی صورتحال انتہائی کشیدہ ہے۔ خطے میں جاری فوجی کشیدگی، ایران سے متعلق تنازعات، بحیرۂ احمر میں حملوں اور علاقائی سلامتی کو لاحق خطرات نے مختلف ممالک کو دفاعی تعاون بڑھانے پر آمادہ کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق حالیہ مہینوں میں سعودی عرب کو ڈرون اور میزائل حملوں سمیت متعدد سیکوریٹی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد علاقائی دفاعی شراکت داری کی ضرورت مزید بڑھ گئی۔
یہ بھی پڑھئے: ایران میں حکومت گرانے کا مبینہ منصوبہ ناکام، موساد سے دو سینئر افسر برطرف
رپورٹ میں یاد دلایا گیا ہے کہ سعودی عرب اور پاکستان اس سے قبل ۲۰۲۵ء میں بھی ایک دوطرفہ دفاعی معاہدہ کر چکے تھے، جس نے عالمی توجہ حاصل کی تھی، کیونکہ پاکستان مسلم دنیا کی واحد ایٹمی طاقت ہے۔ اب ترکی کی شمولیت کے ساتھ اس تعاون کو ایک باقاعدہ سہ فریقی دفاعی فریم ورک کی شکل دے دی گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ معاہدہ نہ صرف تینوں ممالک کے دفاعی تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جا سکتا ہے بلکہ خطے میں طاقت کے توازن پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔