جلگاؤں کی ڈیتھ آڈٹ کمیٹی کی جانچ رپورٹ پیش مگر جانچ نتائج پر پردہ، تجاویز اور ہدایات دی گئیں

Updated: June 18, 2020, 10:45 AM IST | Sharjeel Qureshi | Jalgaon

کورونا مریضوں کی اموات کی تحقیقات کیلئے مقرر ’ڈیتھ آڈٹ کمیٹی‘ نے دس دنوں کی اسٹڈی کے بعد ضلع کلکٹر ڈاکٹر اویناش ڈھکنے کو اپنی جانچ رپورٹ پیش کردی ہے ۔

Jalgaon Report
رپورٹ پیش کرتے ہوئے ذمہ داران

کورونا مریضوں کی اموات کی تحقیقات کیلئے مقرر ’ڈیتھ آڈٹ کمیٹی‘ نے دس دنوں کی اسٹڈی کے بعد ضلع کلکٹر ڈاکٹر اویناش ڈھکنے کو اپنی جانچ رپورٹ پیش کردی ہے ۔ البتہ کمیٹی کی جانچ نتائج خفیہ رکھے گئے ہیں۔ضلع کلکٹر کے بقول رپورٹ فوری طور پر ریاستی حکومت کو ارسال کی جائے گی۔دوسری جانب سوشل میڈیا پر ضلع میں کووڈ ۔۱۹؍ کی وبا کے روک تھام کیلئے خطیر رقم خرچ کئے جانے کا موضوع زیر بحث ہے۔ اس موقع  پر ضلع کلکٹر نے ضلعی سالانہ منصوبہ بندی فنڈ سے۱۱؍ کروڑ۸۲؍ لاکھ روپے، ڈیژونل کمشنر سے موصول ہوئے فنڈ اور ضلع  سے ایک دیگر  اسکیم کے تحت دستیاب فنڈ کی تفصیلات پیش کیں ۔
 ضلع میں کورونا متاثرین کی بڑھتی اموات کی جانچ کیلئے ریاستی وزیر صحت راجیش ٹوپے کے مشورے پر’ ڈیتھ آڈٹ کمیٹی‘ تشکیل دی گئی تھی۔کلکٹر نے کمیٹی کو اپنی جانچ رپورٹ پیش کرنے کیلئےدس دنوں کا وقت دیا تھا اوراس کیلئے چند ہدایات بھی دی تھیں۔اس کمیٹی کے چیئرمین آئی ایم اے جلگاؤں کے صدر ڈاکٹر دیپک پاٹل تھے۔ ان کے ساتھ  دس اور اراکین بھی تھے ۔کمیٹی نے۱۰۳؍ اموات کے بارے میں معلومات لی جن میں سے۹؍ مریضوں کو تشویشناک حالت میں اسپتال میں داخل کیا گیا لہٰذا ان مریضوں کی اموات کا مطالعہ نہیں کیا گیا۔اس طرح کمیٹی نے کل۹۴؍ مریضوں کی اموات کی جانچ کی گئی ۔کمیٹی نے متوفی کی کیس ہسٹری ، ایکس رے ، کورونا رپورٹس ، ڈیتھ سرٹیفکیٹ ، دیگر بیماریوں سے متعلق معلومات ، بیماری کی مدت ،سفری ہسٹری، رابطے کی ہسٹری ،لواحقین کے بیانات ، اسپتال میں دی گئی دوائیں، ماحول  اور دستیاب سہولیات وغیرہ شامل ہیں۔ ان تمام کا مطالعہ کیا اور نتائج اخذ کئے ہیں۔کمیٹی نے عمومی ہدایات کے ساتھ چند خاص ہدایات میں کہا کہ ہر مریض کے قریب آکسیجن میٹر ضروری ہے ،اسی طرح۲؍ مریضوں پر ایک نرس کی بھی ضرورت ہے ۔ایم سی آئی کی رہنمائی کے مطابق ہر انتہائی نگہداشت یونٹ (آئی سی یو)  میں سینٹرل آکسیجن ، وینٹی لیٹر ، این آئی وی اور بایوپیک مشین ہونی چاہئے۔اسی طرح ہر دس بیڈ والے آئی سی یو میں ایک شفٹ میں دو ڈاکٹروں کی موجودگی کے علاوہ جانچ لیباریٹری میں اے بی جی گیس نظام کو بھی ضروری قرار دیا۔ذرائع نے بتایا کہ یہ اقدامات ضروری ہیں اور جلگاؤں میں کورونا کی ہلاکتوں کی تعداد کو روکنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔
  خیال رہے کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے ضلعی منصوبہ بندی کمیٹی کے ذریعہ اب تک۷۰؍ کروڑ روپئے خرچ کئے جانے کا دعویٰ کا سوشل میڈیا بالخصوص وہاٹس ایپ پر کیا  جارہا تھا۔ ضلع کلکٹر نے اسےحقیقت  سے دور اور بے بنیاد قرار دیا ۔ انہوں نے کہا کہ ضلع سالانہ منصونہ بندی کے علاوہ ڈویژنل کمشنر ناسک سے موصول ایس ڈی آر ایف فنڈ سے ایک کروڑ۷۷؍ لاکھ۳۳؍ ہزار ،ضلع کھنج پرتشٹھان اسکیم کے تحت ایک کروڑ ۲۸؍ لاکھ ۵۵؍ ہزار روپوں کا فنڈخرچ کیا ہے۔اس کے علاوہ کس ڈپارٹمنٹ کو کتنا فنڈ دستیاب کروایا گیا، اس کی ایک طویل فہرست بھی پریس اعلامیہ میں دی گئی ہے ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK