طلبہ کے احتجاج کو ۱۶؍ دن مکمل، گرفتاریوں کا سلسلہ دراز مگر مظاہرین پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں، ۸؍ کے بجائے اب ۲۴؍ نومبر تک پڑھائی آن لائن رکھنے کافیصلہ۔
EPAPER
Updated: October 29, 2026, 12:35 PM IST | Rauf Ramesh | New Delhi
طلبہ کے احتجاج کو ۱۶؍ دن مکمل، گرفتاریوں کا سلسلہ دراز مگر مظاہرین پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں، ۸؍ کے بجائے اب ۲۴؍ نومبر تک پڑھائی آن لائن رکھنے کافیصلہ۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ میں طلبہ یونین کی بحالی کیلئے احتجاج کو بدھ کو ۱۶؍ دن مکمل ہوگئے ۔بدھ کو اس اطلاع پر کہ راہل گاندھی مظاہرہ کرنےوالے طلبہ کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے جامعہ پہنچ سکتے ہیں، سیکوریٹی انتظامات میں غیر معمولی اضافہ کردیاگیا اور پورا جامعہ ملیہ اسلامیہ چھاؤنی میں تبدیل ہوگیا۔ کیمپس کے چاروں جانب دہلی پولیس اور نیم فوجی دستوں کو تعینات کیا گیا جبکہ جامعہ ملیہ اسلامیہ میٹرو اسٹیشن کے باہر بھی فورس تعینات رہی۔ اوکھلا ہیڈ کے چائے خانوں میں پولیس اہلکار طلبہ کو تلاش کرتے رہے۔ راہل گاندھی کا پروگرام منسوخ ہونے کے بعد پولیس انتظامیہ نے راحت کاسانس لیا۔
آج جامعہ ملیہ کا یوم تاسیس مگر کوئی پروگرام نہیں
بظاہر انتظامیہ اور طلبہ کے درمیان تعطل برقرار ہے، تاہم ذرائع کے مطابق مسئلے کے حل کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ کل، 29 اکتوبر کو جامعہ کا یومِ تاسیس ہے۔ جامعہ انتظامیہ نے پہلے ہی یومِ تاسیس پر ہونے والے تمام پروگرام منسوخ کرنے کا اعلان کر دیا ہے، تاہم طلبہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ یومِ تاسیس جوش و خروش سے منائیں گے۔ انہوں نے کیمپس میں تیاریاں بھی شروع کر دی ہیں۔ جامعہ کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہوگا جب جامعہ انتظامیہ اور طلبہ الگ الگ یومِ تاسیس منائیں گے۔
آن لائن کلاسیز میں توسیع
دریں اثنا جامعہ کے اہم عہدیداران کی ایک اہم میٹنگ ہوئی جس میں کیمپس کے حالات کے پیش نظر آن لائن کلاسیز۲۴؍نومبر تک جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس کے بعد پریکٹیکل اور دوسرے سمسٹر کے امتحانات بھی آن لائن ہوں گے۔ اس طرح جامعہ کی تعلیمی سرگرمیاں اب مکمل طور پر آن لائن ہو گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:ایوت محل: ۳۵۰؍ کوئنٹل چیوڑا کے ساتھ عالمی ریکارڈ قائم
دوسری جانب یہ خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کی انتظامیہ اور طلبہ کے درمیان یونین کی بحالی کا معاملہ کہیں سیاست کی نذر نہ ہو جائے۔ طلبہ سے یکجہتی کے نام پر اپوزیشن لیڈروں کی ان سے ملاقاتوں کے پیش نظر ان خدشات کو تقویت مل رہی ہے۔
اعتماد کی کمی نے معاملہ کو پیچیدہ کردیا
طلبہ کے احتجاج کو ختم کرانے کیلئے یونیورسٹی نے اعلان کیا ہے کہ طلبہ یونین کے آئین کی منظوری کے ۱۵؍ دن کے اندر انتخابات کرائے جائیں گے تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ آئین کب منظور ہوگیا۔چونکہ آئین کی منظوری کیلئے واضح مدت کا اعلان نہیں کیاگیا۔،اس لئے طلبہ کا کہنا ہے کہ انتظامیہ الیکشن کی تاریخ کا اعلان کرے۔
جامعہ برادری کا ایک طبقہ چاہتا ہے کہ طلبہ انتظامیہ کی یقین دہانی کے پیش نظر بھوک ہڑتال ختم کر دیں اور جامعہ کے مفاد کو بھی ملحوظ رکھیں۔ دوسری جانب اعتماد کی کمی نے معاملے کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔
کیمپس میں بجلی اور پانی کی سپلائی بند؟
اس بیچ جہاں طلبہ کی گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے وہیں طلبہ نے الزام لگایا ہے کہ کیمپس کی بجلی اور پانی کی سپلائی منقطع کردی گئی ہے نیز کھانے پینے کی اشیا پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ ان سنگین الزامات پر جامعہ انتظامیہ کی جانب سے کوئی وضاحت سامنے نہیں آئی ہے۔ نہ ہی انتظامیہ کا کوئی نمائندہ میڈیا کے روبرو آیا ہے۔
حکم امتناعی، طلبہ کی گرفتاریاں
جامعہ نگر میں بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا (بی این ایس) کی دفعہ۱۶۳؍نا(حکم امتناعی ) فذکئے جانے کے دوسرے دن بھی طلبہ و طالبات کو حراست میں لینے کا سلسلہ جاری رہا۔ حراست میں لیے جانے والوں میں این ایس یو آئی کے سرگرم رکن فیضان علی بھی شامل ہیں۔ کیمپس میں پولیس اہلکاروں کی موجودگی پر طلبہ نے احتجاج کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک جانب طلبہ کے کیمپس میں داخلے پر پابندی ہے، دوسری جانب پولیس اہلکار کیمپس میں گھوم رہے ہیں۔ طلبہ پر الزام ہے کہ انہوں نے حال ہی میں بند کیے گئے گیٹ نمبر۴؍ ’سی‘ کو رات کے وقت توڑ دیا۔ اطلاع ملتے ہی پراکٹر نے موقع کا معائنہ کیا۔