جامعہ ملیہ اسلامیہ میں طلبہ یونین کی بحالی کا مطالبہ کئی روز سے احتجاج کا سبب بنا ہوا تھا، جس کے بعد انتظامیہ اور طلبہ کے درمیان اتفاقِ رائے سے صورتِ حال میں تبدیلی آئی ہے۔
EPAPER
Updated: October 30, 2026, 1:34 PM IST | New Delhi
جامعہ ملیہ اسلامیہ میں طلبہ یونین کی بحالی کا مطالبہ کئی روز سے احتجاج کا سبب بنا ہوا تھا، جس کے بعد انتظامیہ اور طلبہ کے درمیان اتفاقِ رائے سے صورتِ حال میں تبدیلی آئی ہے۔
دہلی کی جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبہ نے جمعرات کو اپنا ۱۸؍ روزہ احتجاج ختم کردیا۔ یہ فیصلہ یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے ان کے مطالبات تسلیم کرنے کے بعد کیا گیا، جن میں طلبہ یونین کی بحالی کیلئے وقت مقرر کرنے کا مطالبہ بھی شامل تھا۔ جمعرات کی شام جاری کیے گئے ایک حکم نامے میں انتظامیہ نے طلبہ یونین کے آئین کی منظوری اور اس کے نفاذ کیلئے ۱۵؍ مئی کی آخری تاریخ مقرر کی۔ حکم نامے کے مطابق آئندہ تعلیمی سیشن شروع ہونے کے چھ ہفتوں کے اندر یا اگست کے اختتام تک طلبہ یونین کے انتخابات کرائے جائیں گے۔ واضح ہو کہ جامعہ میں ۲۰۰۶ء کے بعد سے طلبہ یونین کے انتخابات نہیں ہوئے ہیں۔ طلبہ یونین کی بحالی کا مطالبہ کرتے ہوئے طلبہ ۱۲؍ اکتوبر سے کیمپس میں احتجاج کر رہے تھے، جبکہ ان میں سے پانچ طلبہ بھوک ہڑتال پر بھی بیٹھے تھے۔
After Victory Jamia Millia Islamia students say Alhamdulillah! ✨ https://t.co/qp8LKoOMd6
— Karishma Aziz (@KarishmaAziz_) October 30, 2026
۱۶؍ اکتوبر کو یونیورسٹی نے بھوک ہڑتال کرنے والے طلبہ میں سے ایک کو یونیورسٹی سے خارج کردیا تھا، جبکہ دو طلبہ کو معطل کرتے ہوئے تینوں کے کیمپس میں داخلے پر ایک سال کیلئے پابندی عائد کردی تھی۔ تاہم جمعرات کو انتظامیہ نے احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف کی گئی تمام تادیبی کارروائیاں واپس لے لیں۔ یونیورسٹی نے یہ بھی اعلان کیا کہ تمام کورسز کی بالمشافہ کلاسیں پیر سے دوبارہ شروع ہوں گی، جبکہ سمسٹر کے اختتامی امتحانات بھی آف لائن منعقد کیے جائیں گے۔ اس سے قبل بدھ کو جاری کیے گئے ایک حکم نامے میں یونیورسٹی نے اعلان کیا تھا کہ سمسٹر کے اختتامی امتحانات آن لائن ہوں گے۔ اس وقت معمول کی کلاسیں بھی آن لائن ہی جاری تھیں۔
یہ بھی پڑھئے: ایس آئی آر پر الیکشن کمیشن کے حلف نامے میں کئی اہم سوالات اب بھی جواب طلب
پیر کو یونیورسٹی نے اعلان کیا تھا کہ طلبہ یونین کے آئین کی منظوری کے ۱۵؍ دن کے اندر انتخابات کرائے جائیں گے۔ تاہم طلبہ نے احتجاج جاری رکھا اور مؤقف اختیار کیا کہ انتظامیہ نے ان کے تمام مطالبات پر توجہ نہیں دی ہے۔ ان کے اور انتظامیہ کے درمیان اختلاف کی ایک بڑی وجہ انتخابات کیلئے واضح آخری تاریخ مقرر نہ کرنا تھا۔ طلبہ نے یہ الزام بھی لگایا کہ ان پر معاہدے پر دستخط کرنے کیلئے دباؤ ڈالا گیا تھا۔ طلبہ کا مزید کہنا تھا کہ دہلی پولیس نے ۱۲؍ اکتوبر سے اب تک ۷۰؍ سے زائد طلبہ کو حراست میں لیا ہے۔
’ہندوستان ٹائمز‘ کی رپورٹ کے مطابق، جمعرات کو کیمپس کے ایک دروازے کے قریب مبینہ توڑ پھوڑ کے معاملے میں یونیورسٹی کی شکایت پر ایف آئی آر بھی درج کی گئی۔ یہ کارروائی یونیورسٹی کی جانب سے ایک روز قبل جاری کیے گئے اس الزام کے بعد ہوئی، جس میں کہا گیا تھا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ نے ’’مقامی افراد کے ساتھ مل کر‘‘ گزشتہ رات یونیورسٹی کی املاک کو نقصان پہنچایا اور سیکوریٹی انتظامات کی خلاف ورزی کی۔