پرشانت بھوشن، یوگیندر یادو، انجلی بھاردواج اور نیہا بورا نے ووٹر ڈیٹا میں تبدیلیوں، ۱۶؍لاکھ اپیلوں اور کمیشن کی منظوری کے بغیر کئے گئے فیصلوں پر سوالات اٹھائے۔
EPAPER
Updated: October 30, 2026, 12:10 PM IST | Fazil Ahmed | New Delhi
پرشانت بھوشن، یوگیندر یادو، انجلی بھاردواج اور نیہا بورا نے ووٹر ڈیٹا میں تبدیلیوں، ۱۶؍لاکھ اپیلوں اور کمیشن کی منظوری کے بغیر کئے گئے فیصلوں پر سوالات اٹھائے۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے سپریم کورٹ میں داخل حلف نامے کے باوجودایس آئی آر کے فیصلوں، ووٹر ڈیٹا میں تبدیلیوں اور کمیشن کی منظوری کے بغیر کی گئی کارروائیوں سے متعلق کئی اہم سوالات اب بھی جواب طلب ہیں ۔ سینئر وکیل پرشانت بھوشن، سماجی کارکن یوگیندر یادو، آر ٹی آئی کارکن انجلی بھاردواج اور آئیسا کی صدر نیہا بورا نے جمعرات کو پریس کلب آف انڈیا میں منعقدہ پریس کانفرنس میں انڈین ایکسپریس کی تحقیقاتی رپورٹوں کے تناظر میں حلف نامے کے مختلف نکات پر سوالات اٹھائے ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ الیکشن کمیشن اپنے فیصلوں اور انتظامی کارروائیوں کی مکمل تفصیلات سامنے لائے اور ان فیصلوں کی جانچ کی جائے جنہیں کمیشن کی منظوری حاصل نہیں تھی۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل: حکومت بنانے کیلئے اپوزیشن لیڈر یائر گولان کی منصورعباس سے ملاقات
یوگیندر یادو نے کہا کہ حلف نامے میں الیکشن کمشنروں کے اختلافی نوٹس کا اعتراف تو کیا گیا ہے لیکن انہیں محض تجاویز اور مختلف آرا قرار دیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ۲۸؍جولائی۲۰۲۶ء کو ایک ایڈیشنل سکریٹری سطح کے افسر نے کام کی تقسیم کا حکم جاری کیا تھا جسے۳۰؍جولائی کو دونوں انتخابی کمشنروں کی مشترکہ ہدایت کے بعد واپس لے لیا گیا۔ اس معاملے میں سوال یہ ہے کہ آیا افسر نے یہ حکم خود جاری کیا تھا یا اسے ایسا کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔پریس کانفرنس میں ووٹر ڈیٹا پر اختیارات کے ارتکاز اور اس میں تبدیلیوں کے معاملے پر بھی تشویش ظاہر کی گئی۔ مقررین نے سوال اٹھایا کہ حلف نامے میں ووٹر ڈیٹا میں تبدیلی کرنے والے متعلقہ حکام کی شناخت واضح کیوں نہیں کی گئی۔ گوا میں ان ووٹروں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جن کے نام دوبارہ شامل کیے جانے تھے لیکن انہیں فارم۶؍بھرنے کے لیے کہا گیا۔