Updated: July 10, 2026, 4:24 PM IST
| Srinagar
جموں کشمیر میں متنازع موا د کی تلاش کے سلسلے میں ، اسکولوں کو تمام کتابوں کی اسکریننگ کا حکم دیا گیا ہے،کشمیر ڈائریکٹوریٹ آف اسکول ایجوکیشن نے اداروں کو کہا ہے کہ وہ لائبریریوں، دفاتر، کلاس روم اور اسٹاف روم میں موجود کتابوں کو چھان بین کریں، جن میں حال ہی میں حاصل کی گئی اور پرانی اشاعتیں بھی شامل ہیں۔
کشمیر ڈائریکٹوریٹ آف اسکول ایجوکیشن نے سرکاری اور تسلیم شدہ نجی اسکولوں کے ساتھ کشمیر ڈویژن میں واقع کوچنگ سینٹرز کے سربراہان کو ہدایت دی ہے کہ وہ اپنے احاطے میں موجود تمام کتابوں کا جائزہ لیں کہ آیا کوئی ’’نامناسب یا قابلِ اعتراض مواد‘‘ تو نہیں۔ یہ اطلاع دی انڈین ایکسپریس نے جمعرات کو دی۔اداروں کے سربراہان کو یہ بھی حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنے متعلقہ چیف یا زونل ایجوکیشن آفیسرز کو تصدیق نامے پیش کریں جس میں یہ ثابت ہو کہ کیمپس میں کسی بھی کتاب میں کوئی ’’قابلِ اعتراض مواد‘‘ موجود نہیں۔پیر کو جاری کردہ اس حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ اس اسکریننگ کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ’’کسی بھی کتاب میں نامناسب یا قابلِ اعتراض مواد نہ ہو۔ اس میں مزید کہا گیا،اس میں وہ مواد شامل ہے جو کسی بھی طبقے کے مذہبی جذبات کو مجروح کر سکتا ہے، خواہ وہ طلبا کے لیے نامناسب مواد ہو، موجودہ قوانین کے خلاف مواد جو قومی مفاد کو نقصان پہنچا سکتا ہو، تعلیمی اقدار اور قائم شدہ اصولوں کو متاثر کر سکتا ہو۔‘‘اگر کوئی قابلِ اعتراض مواد پایا جاتا ہے تو اداروں کے سربراہان کو تفصیلی رپورٹ فراہم کرنے کو کہا گیا ہے جس میں کتاب کا عنوان، مصنف، ناشر، اشاعت کا سال اور دستیاب نسخوں کی تعداد شامل ہو۔اس کے بعد یہ معلومات سات دنوں کے اندر بالاتر حکام کو جائزے کے لیے جمع کرانی ہوگی۔چیف ایجوکیشن افسروں کو بھی اس کی تعمیل کی نگرانی اور۱۹؍ جولائی تک ڈائریکٹر آف اسکول ایجوکیشن کو رپورٹیں جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
واضح رہے کہ یہ ہدایت نامہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے سرکاری اسکولوں کی جانب سے بعض کتابوں کی خریداری کے خلاف احتجاج اور ریاست کی نیشنل کانفرنس حکومت پر ’’تعلیمی جہاد‘‘ کو فروغ دینے کا الزام عائدکرنےکے چند روز بعد سامنے آیا۔یہ احتجاج اسکول کی لائبریریوں سے دو کتابیں واپس لینے اور آٹھ افسران کی معطلی اور ایک عارضی ملازم کی برطرفی کے بعد ہوا، جس کی وجہ کتابوں میں شامل علاحدگی پسندانہ مواد‘‘ قرار دیا گیا۔واپس لی گئی کتابوں میں ہلال احمد اور سنتوش مینا کی ’’پرسنالٹیز اینڈ لیجنڈز آف جے اینڈ کے‘‘ اور ڈاکٹر سشنت گیری کی ’’گریٹ پرسنالٹیز آف جموں اینڈ کشمیر‘‘ شامل تھیں، جو سمگرا شکشا پروگرام کے تحت اعلیٰ ثانوی کلاسوں کے لیے اسکول لائبریریوں کو فراہم کی گئی تھیں۔
بعد ازاں جب انسدادِ غیر قانونی سرگرمیوں ایکٹ (یو اے پی اے) کے تحت پہلی اطلاعاتی رپورٹ درج کی گئی تو پولیس نے ایک کتاب سے منسلک ناشر کے احاطے کی بھی تلاشی لی۔ حالانکہ جموں کشمیر میں متعدد سیاسی لیڈروں نے کتابیں ہٹانے کی ہدایت پر سوال اٹھائے اور کہا کہ یہ تاریخ کو مٹانے کے مترادف ہے۔نیشنل کانفرنس کے ایم پی آغا سید روح اللہ مہدی نے اس حکم کو ’’انتہائی پریشان کن‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا، ’’لائبریریاں علم کو محفوظ رکھنے کے لیے ہیں، سیاسی بیانیے کو تراشنے کے لیے نہیں۔کتابوں کو مٹانے سے تاریخ نہیں مٹتی؛ یہ صرف علمی تحقیق کو ضائع کرتا ہے۔‘‘ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے لیڈر وحید پارہ نے انڈین ایکسپریس کو بتایا کہ’’یہ ہماری اجتماعی یادداشت کو دوبارہ لکھنے اور نصاب سے ہماری اپنی تاریخ کو مٹانے کی کوشش ہے۔ یہ انتخابی تعلیم کو فروغ دیتا ہے جبکہ آنے والی نسلوں کی سوال کرنے، تنقیدی سوچ رکھنے اور اپنے ماضی کو سمجھنے کی صلاحیت کو چھین لیتا ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے جموں کشمیر کی نیشنل کانفرنس حکومت پر بھی سوال اٹھایا کہ اس نے اس ہدایت کو کیوں منظور کیا۔ انہوں نے کہا، ’’ہم نے مقامی حکومت کو منتخب کیا تھا تاکہ وہ اس طرح کی کارروائیوں کے خلاف مزاحمت کرے اور ہماری تاریخ کو محفوظ رکھے۔ افسوس، ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن نے منتخب وزیر کے اختیار کے تحت اس ہدایت کو منظور اور جاری کر دیا ہے۔‘‘