مقتول سلیمان کے اہل خانہ نے پولیس پر تساہل اور جانبداری برتنے کا الزام لگایا، خوف و اندیشے کااظہار کرتے ہوئے انصاف نہ ملنے کا خدشہ بھی ظاہر کیا
EPAPER
Updated: November 19, 2025, 11:26 AM IST | Mumbai
مقتول سلیمان کے اہل خانہ نے پولیس پر تساہل اور جانبداری برتنے کا الزام لگایا، خوف و اندیشے کااظہار کرتے ہوئے انصاف نہ ملنے کا خدشہ بھی ظاہر کیا
جامنیر کے سلیمان خان پٹھان کی’ لنچنگ کیس‘ کے چار ملزمین کو ضمانت مل گئی ہے۔ کیونکہ قانونی تقاضے کے مطابق پولیس ۹۰؍ دنوں کے اندر چارج شیٹ جمع کرانے میں ناکام رہی ہے۔ جن ملزمین کی ضمانت کی درخواست منظور ہوئی ہے، ان میں ابھیشیک راجپوت(۲۲)، سورج شرما(۲۵)، دیپک گھِسادی(۲۰) اور رنجن ماتاڑے(۴۸) شامل ہیں۔ جنہیں ۱۱؍ نومبر۲۰۲۵ء کو عدالت نے ضمانت پر رہا کر دیا ہے ۔اس معاملے میں مقتول سلیمان پٹھان کے اہل خانہ نے پولیس پر غفلت اور جانبداری برتنے کا الزام لگایا ہے اور خوف و اندیشے کے ساتھ انصاف نہ ملنے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔کیونکہ اس بہیمانہ قتل کے ملزمین کی رہائی سے مرحوم سلیمان کے اہل خانہ بے چینی اور خوف میں مبتلا ہیں، کیونکہ انہیں اب انہی افراد کے ساتھ اپنے گاؤں میں رہنا ہوگا، وہ دوست جو ملزم بن چکے ہیں۔
’آرٹیکل۱۴‘ کی رپورٹ کے مطابق ہجومی تشدد میں ملوث کئی افراد سلیمان پٹھان کے دوست اور ’شیو پرتشٹھان ہندوستان ‘نامی تنظیم کے اراکین ہیں، جس کے دسہرہ مارچ کی قیادت وہی پولیس اہلکار کر رہا تھا جو اس قتل کی تفتیش پر بھی مامور، اس پولیس اہلکار کا نام مرلی دھر کارسر کابتایا گیا ہے۔ اس مارچ میں شیو پرتشٹھان کے ہزاروں کارکنان تلواریں،ترشول اور لاٹھیاں لئے جامنیر کی سڑکوں پر مارچ کر رہے تھے۔اس مارچ کے ویڈیوز میں دکھائی دینے والے افراد اسلام مخالف نعرے بھی لگاتے نظر آئے۔
ہجومی تشدد کا یہ معاملہ کب پیش آیا تھا؟
۱۱؍اگست ۲۰۲۵ءکو سلیمان پٹھان پر حملہ کیا گیا۔ اس پر الزام تھا کہ وہ ایک کیفے میں ایک کم عمر ہندو لڑکی کے ساتھ بیٹھا تھا۔ حملہ آوروں میں پٹھان کے اپنے دوست بھی شامل تھے، جن کا تعلق شیو پرتشٹھان سےہے۔ مارپیٹ کا یہ سلسلہ تقریباً پانچ گھنٹوں تک جاری رہا، پہلے سلیمان پٹھان کو اغوا کیا گیا، مارا گیا، کپڑے اتارے گئے اور آخر میں اسکی لاش کو اس کے گھر کے قریب پھینک کر ملزمین فرار ہوگئے تھے۔خیال رہے کہ ہجومی تشدد کے نتیجے میں ہونیوالے اس قتل کا معاملہ بہت نمایاں ہوا اور ریاستی حکومت نے ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی تھی۔ پولیس نے بی این ایس ایس ۲۰۲۳ء کے تحت ضروری۹۰؍ دن کی مدت ختم ہونے سے چند دن پہلے۱۱؍ افراد کے خلاف چارج فریم کیا۔
’’ہم پھر سے ذہنی دباؤ محسوس کررہے ہیں‘‘
قابل ذکر ہے کہ ملزم راجپوت اور شرما، سلیمان پٹھان کے بہت قریبی دوست تھے۔ اکثر تصاویرو ویڈیوز میں وہ گلے ملتے ہوئے نظر آتے تھے۔ سلیمان اپنے گاؤں جہاں ہندو اکثریت میں ہیں، گنپتی منڈل کا لیڈر تھا۔ اس کے دوست زیادہ تر ہندو تھے، کیونکہ۶۰۰؍ ہندو گھروں کے درمیان سلیمان پٹھان کا گھر چار مسلم گھروں میں سے ایک تھا۔ اب چار ملزمین کی رہائی سے پٹھان کے گھر والوں میں خوف دوبارہ بڑھ گیا ہے۔ پٹھان کے بہنوئی محبوب خان نے کہا:’’ہم سب دوبارہ شدید خوفزدہ ہیں۔ اس کے والدین یہ سوچ کر ہی گھبرارہے ہیں کہ یہ لوگ اب گاؤں میں آزاد گھومیں گے۔‘‘
پولیس نے کہا کہا؟
سپرنٹنڈنٹ آف پولیس مہیشور ریڈی نے ستمبر میں کہا تھا کہ تحقیقات تیزی سے جاری ہے مضبوط چارج شیٹ جمع کرائی جائے گی۔ لیکن بعد میں تاخیر ہوئی، جس پر کوئی وضاحت نہیں دی گئی۔اس ضمن میں اسسٹنٹ پولیس انسپکٹر سواپنل شندے نے بتایا کہ چارج شیٹ۷؍ نومبر کو جمع کرا دی گئی تھی، مگر ’’تکنیکی وجوہات‘‘ کی بنا پر قبول نہیں کی گئی۔انہوں نے کہا کہ ’’ہمیں نہیں پتہ کیا ہوا، لیکن قبول ہونے میں چار دن لگ گئے، حالانکہ ہم نے۷؍ نومبر کو جمع کرا دی تھی۔‘‘ پولیس نے کہا کہ ضمانت منسوخ کروانے کی درخواست دی گئی ہے، اور دلیل دی ہے کہ ملزمین کی رہائی سے شواہد خطرے میں پڑ سکتے ہیں اور مقتول کے خاندان کی سلامتی متاثر ہو سکتی ہے۔ عدالتی ریکارڈ کے مطابق چارج شیٹ جمع کرانے کی آخری تاریخ۹؍ نومبر تھی، جس کے بعد۱۰؍ نومبر کو ملزمان نے ضمانت کی درخواست دی۔
مقامی عدالت نے کس بنیاد پر ضمانت منظور کی؟
مقامی عدالت سے جاری ضمانت کے حکم میں کہا گیا کہ ’’موجودہ کیس میں۹۰؍ دن کی مدت۹؍نومبر ۲۰۲۵ء کو پوری ہوئی، اور۱۰؍نومبر ۲۰۲۵ء کو ملزمین کے حق میں ناگزیر حقِ ضمانت پیدا ہوا۔‘‘چارج شیٹ۱۲؍ نومبر کو قبول کی گئی یعنی مقررہ مدت سے۳؍ دن بعد۔ سلیمان پٹھان کے خاندان نے پہلے بھی الزام لگایا تھا کہ پولیس نے اہم شواہد کو نظرانداز کیا اور تمام شناخت شدہ افراد پر مقدمہ درج نہیں کیا۔ خان کے مطابق خاندان نے۱۷؍افراد کے نام دیے، جن میں عینی شاہدین بھی شامل تھے۔محبوب خان نے کہا کہ ’’ایف آئی آر میں صرف پانچ نام ڈالے گئے، باقی ملزمین کی گرفتاری کیلئے ہماری اپیلیں پولیس نے مسلسل ٹھکرا دیں۔‘‘ شکایت کرنے پر خاندان کو دھمکیاں بھی ملیں
سلیمان کے والد رحیم خان نے پولیس سپرنٹنڈنٹ ریڈی کو خط لکھ کرمکوکاکے تحت کارروائی کی درخواست کی، کیونکہ انہیں یقین ہے کہ یہ قتل منظم سازش کا حصہ تھا۔ سلیمان کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ شیو پرتشٹھان کے کارکنان کی شمولیت کی وجہ سے سخت قوانین کی ضرورت ہے۔ لیکن اپیل کے باوجود کوئی کارروائی نہ ہوئی۔ سلیمان کے خانوادہ نے ہائی کورٹ (اورنگ آباد بینچ) میں رٹ درخواست دائر کی تاکہ سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق تحقیقات منتقل کی جا سکیں۔ خیال رہے کہ یکم اکتوبر کو پٹھان لنچنگ کیس کی تفتیش کرنے والے یہی پولیس افسران شیو پرتستھان کے دسہرا مارچ میں سفاری ٹوپی اور وردی پہن کر علم بردار کے طور پر شریک تھے۔ منوہر بھِڑے، جو تنظیم کے بانی ہیں، پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ ’’مسلم مرد اگر ہندو لڑکیوں کے ساتھ تعلقات رکھیں تو انہیں کاٹ دینا چاہیے۔‘‘ محبوب خان نے کہا:’’صرف دو مہینے بعد وہی پولیس افسران اس تنظیم کے ساتھ مارچ کی قیادت کر رہے تھے۔ ہم کیسے یقین کریں کہ وہ غیرجانبدارانہ تحقیقات کریں گے؟ملزمین کی ضمانت پر رہائی ہوجانے سے سلیمان کے والد رحیم خان سراسیمہ ہیں۔ محبوب خان نے کہا’’وہ ہر وقت یہ سوچ سوچ کر پریشان رہتے ہیں کہ آگے کیا ہوگا۔ انہیں ڈر ہے کہ تمام ملزمین ایک ایک کر کے رہا ہوجائیں گے‘‘ انہوں نے کہا کہ مسلسل انصاف سے محرومی نے خاندان کے دلوں میں شکوک پیدا کر دئیے ہیں۔ انہیں خدشہ ہے کہ شاید اپنے بیٹے کی موت کا انصاف کبھی نہیں ملے گا۔‘‘