Updated: July 22, 2026, 10:00 PM IST
| New Delhi
دہلی کے جنتر منتر میں جاری طلبہ کے احتجاج کے دوران ایک منفرد انسانی پہلو سامنے آیا ہے۔ ملک کے مختلف شہروں سے لوگ سویگی اور زومیٹو کے ذریعے مظاہرین کے لیے کھانا، پانی، بسکٹ اور دیگر اشیائے خور و نوش بھیج رہے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اکثر آرڈرز کسی مخصوص شخص کے نام نہیں بلکہ اس ہدایت کے ساتھ بھیجے جا رہے ہیں کہ ’’جو بھوکا ہو، اسے دے دیجیے۔‘‘ رضاکار ان اشیا کو ضرورت مند مظاہرین میں تقسیم کر رہے ہیں، جسے احتجاج کے دوران انسان دوستی اور یکجہتی کی خوبصورت مثال قرار دیا جا رہا ہے۔
جنتر منتر پر نامعلوم افراد کی جانب سے بھیجا گیا کھانا۔ تصویر: ایکس
دہلی کے جنتر منتر میں جاری طلبہ کے احتجاج کے بیچ ایک ایسا منظر بھی سامنے آیا ہے جس نے سیاسی اختلافات سے ہٹ کر انسان دوستی، ہمدردی اور سماجی یکجہتی کی نئی مثال قائم کر دی ہے۔ شدید گرمی، بارش اور طویل احتجاج کے باوجود مظاہرین کے لیے ملک کے مختلف حصوں سے مسلسل کھانے پینے کی اشیا پہنچ رہی ہیں۔ یہ سامان نہ کسی تنظیم کی مہم کا حصہ ہے اور نہ ہی کسی سیاسی جماعت کی جانب سے بھیجا جا رہا ہے، بلکہ عام شہری اپنی مدد آپ کے تحت آن لائن فوڈ ڈیلیوری پلیٹ فارمز کے ذریعے احتجاجی مقام تک کھانا پہنچا رہے ہیں۔
انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق جنتر منتر پر موجود رضاکار روزانہ درجنوں فوڈ آرڈرز وصول کرتے ہیں۔ ان میں سے بیشتر آرڈرز پر کسی فرد کا نام درج نہیں ہوتا بلکہ صرف ایک مختصر پیغام لکھا ہوتا ہے: ’’یہ کھانا جسے ضرورت ہو، اسے دے دیجیے‘‘ یا ’’جو بھوکا ہو، اسے کھلا دیجیے۔‘‘ رضاکار ایسے تمام پیکٹ مظاہرین، طلبہ اور دیگر ضرورت مند افراد میں تقسیم کر دیتے ہیں۔ احتجاجی مقام پر صرف کھانا ہی نہیں بلکہ پانی کی بوتلیں، بسکٹ، پھل، چائے اور ہلکے ناشتے بھی مسلسل پہنچ رہے ہیں۔ اس کے علاوہ کئی سماجی تنظیمیں اور رضاکار بھی موقع پر موجود ہیں، جو اپنی روایت کے مطابق ’’سیوا‘‘ انجام دیتے ہوئے آنے والوں کو کھانا اور بنیادی سہولتیں فراہم کر رہے ہیں۔ رضاکاروں کا کہنا ہے کہ یہاں ہر شخص دوسرے کا خیال رکھ رہا ہے اور ماحول ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ’’ہم سب ایک ہی خاندان کا حصہ ہوں۔‘‘
رپورٹ میں ایک ایسی مثال بھی سامنے آئی جس نے سوشل میڈیا پر خاصی توجہ حاصل کی۔ ممبئی کے رہائشی انوج راوت نے، جو احتجاج میں شریک بھی نہیں تھے، آن لائن فوڈ ایپ کے ذریعے جنتر منتر پر کھانے کے پیکٹ بھیجے اور ہدایت دی کہ انہیں ان مظاہرین میں تقسیم کر دیا جائے جو کئی گھنٹوں سے احتجاج میں موجود ہیں۔ ان کا یہ اقدام سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا اور بہت سے دوسرے لوگوں نے بھی اسی طرز پر امداد بھیجنا شروع کر دی۔ مبصرین کے مطابق یہ سلسلہ صرف کھانا پہنچانے تک محدود نہیں بلکہ یہ اس بات کی علامت بھی ہے کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے دور بیٹھے لوگوں کو بھی سماجی اور انسانی سطح پر ایک دوسرے سے جوڑ دیا ہے۔ جن افراد نے کبھی مظاہرین کو دیکھا بھی نہیں، وہ صرف ایک احساسِ ہمدردی کے تحت ان کے لیے کھانا بھیج رہے ہیں۔ اس خاموش یکجہتی نے احتجاج کو ایک منفرد انسانی رنگ دے دیا ہے، جہاں اختلافات کے باوجود انسانیت اور باہمی تعاون کی مثالیں نمایاں ہو رہی ہیں۔